ابنا: اور اس کی علامات مصر کے عوام کے نعروں میں بھی دکھائي دیتی ہیں۔ اس خطے میں انقلابی تحریک کا آغاز تیونس کے باشندوں کے قیام سے ہوا۔ اور اب اس کا دائرہ دوسرے ممالک تک پھیل چکا ہے۔ یہ انقلاب اس خطے کے عوام کی ہوشیاری کی علامت اور دینی تعلیمات اور اسلامی بیداری کا نتیجہ ہے۔ اس انقلاب کا مقصد سامراج سے آزادی اور حقیقی خودمختاری کا حصول ہے۔ مصر کے عوام مشرق وسطی کے حیرت انگیز تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے اور خطے میں اپنے موثر کردار کے احیا کے لۓ آمادہ ہورہے ہیں۔ تیونس اور مصر کے لوگوں نے ایسے اقدامات انجام دیۓ ہیں جن کو بہت سے سیاسی ماہرین غیر ممکن سمجھتے تھے۔ مصر کے عوام نے اپنی حکومت کے خلاف قیام کیا اور وہ صدر حسنی مبارک کی ڈکٹیٹر حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ساٹھ کے عشرے میں مصر کو عرب دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اور یہ ملک سفارتی اور اسٹریٹیجیک سرگرمیوں میں سب سے آگے تھا۔

آج یہ ملک خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی شمار ہوتا ہے اور صیہونی حکومت کے بعد امریکہ سے مدد حاصل کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن اس کے باوجود دوسرے عرب ممالک کی طرح اس کو بھی غربت اور بے روزگاری نیز عوامی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس ملک کی تقریبا آدھی آبادی کی روزانہ کی آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہے ۔ گزشتہ سال مصر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے اس ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال بھی خراب ہوگئي ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے کو ان دنوں ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس کی اس سے پہلے کوئي مثال نہیں ملتی ہے۔ جس سے ایک عظیم انقلاب کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ صورتحال اتنی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ مفاد پرست حکومتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہیں۔ اور اپنے مخالفین کو کچلنے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے جیسے حربے بھی ان کے کسی کام نہیں آسکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض سیاسی مبصرین اور عالمی ذرائع ابلاغ اسے بھوکوں کی تحریک کا نام دے رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں آنے والے انقلاب کا اصل محرک اسلامی اصولوں کی جانب بازگشت پر مبنی ہے۔ کیونکہ مسلمان اقوام اپنا اسلامی تشخص پا چکی ہیں ۔ اور وہ اسلامی اور مقامی اقدار کے نفاذ کے لۓ کوشاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی اور سطحی نوعیت کی تبدیلیوں اور اصلاحات کے وعدے بھی اعتراضات اور احتجاجات کی روک تھام میں سود مند ثابت نہیں ہوۓ ہیں۔ سعودی عرب فرار ہو جانے والے تیونس کے صدر زین العابدین بن علی کے انجام سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مصری عوام کی تحریک بھی اس ملک کے صدر حسنی مبارک کی ڈکٹیٹر حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
- مصری انتفاضہ تصویروں کے زبانی - 1