اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی نے آذری وزارت تعلیم کی طرف سے تعلیمی اداروں میں خواتین کے حجاب پر پابندی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آذربائی جان کے صدر الہام علی اف کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے جس کا متن مندرجہ ذیل ہے: بسم اللہ الرحمن الرحيمجناب آقای الہام علی افصدر جمہوریہ آذربائیجان سلام کے بعد ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جمہوریہ آذربائی جان کے وزیر تعلیم نے ہدایات جاری کی ہیں کہ آذری اسکولوں اور جامعات میں با حجاب اور باپردہ خواتین کے داخلی کا سد باب کیا جائے؛ میں نے قبل ازیں مسجد فاطمةالزہراء سلام اللہ علیہا کے تحفظ [اور اس کے انہدام کا راستہ روکنے] پر آپ کا شکریہ ادا کیا لیکن ضروری سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے بھی آپ کو یاد دہانی کراؤں۔ (وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (1) [=پس یاد دہانی کرائیے ، کیونکہ یاد دہانی کرانا اِیمان والوں کو فائدہ دیتا ہے]؛ تعلیمی اداروں میں با پردہ خواتین کے داخلے پر پابندی خدا کے حکم اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامئے کی خلاف ورزی ہے۔ آپ کی حکومت ایسی دنیا میں قائم ہے جس کے لئے صادرہ عالمی انسانی حقوق کے اعلامئے کی دفعہ 26 کی [شق 2] میں قرار دیا گیا ہے: "تعلیم و تربیت کی ہدایت اس طرح سے ہونی چاہئے کہ وہ انسان کی شخصیت کو حد کمال تک پہنچادے اور انسانوں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کو تقویت پہنچائے؛ تعلیم و تربیت کو حسن مفاہمت، عفو و درگذر، مخالف عقائد کے احترام اور تمام اقوام، نسلی اور مذہبی گروہوں کے درمیان دوستی کی تقویت پہنچائے نیز عالمی امن کے تحفظ میں متحدہ اقوام کی سرگرمیوں کو آسان بنائے"۔ (2)اس طرح کے واضح اور اصول کے پیش نظر ـ جس پر جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت نے بھی دستخط کررکھے ہیں ـ کیا یہ درست ہے کہ آپ کے ملک کی نصف آبادی عفت و پاکدامنی کے تحفظ اور اللہ کے قانون پر عمل کرنے کی پاداش میں تعلیم سے محروم کی جائے؟ یا پھر بامر مجبوری خدا کے قانون کو ہی نظر انداز کریں اور ضمیر کے قیدخانے کا دباؤ قبول کرلیں؟۔ عورت کا حجاب اور لباس ایک مقامی تہذیب یا عادت نہیں ہے جسے تبدیل کیا جاسکے بلکہ یہ خواتین کے لئے ایک الہی فریضہ ہے کیونکہ یہ قابل قدر گوہر [خاتون کی ذات] ہوسبازوں کی گزند سے محفوظ رہیں اور تعلیم و تربیت کا ماجول واقعی علمی ماحول ہو نہ یہ کہ کسی اور چیز کا ماحول ہو۔آج آپ کی حکومت کو بھائی حکومت ترکی سے سبق حاصل کرنا چاہئے؛ انھوں نے عرصہ دراز تک عورتوں کو شرعی اور قانونی حقوق سے محروم رکھنے کے بعد ایک بار پھر صلح و صفائی کے راستے پر گامزن ہوکر حکم خداوندی اور قومی تقاضے کے سامنے سر تسلیم خم کیا جبکہ آذربائیجان میں جو اقدام ہوا وہ ترکی کے اس اصلاحی اقدام کے بالکل برعکس تھا۔ میری اور تمام مسلمانوں کی توقع یہ کہ اس بے بنیاد قانون کی منسوخی کے احکامات جاری کریں اور اپنے اور اپنی حکومت کے لئے عوامی حمایت ایک بار پھر حاصل کریں۔ آپ کے ملک کو بھی متعدد ممالک کی مانند کئی مسائل کا سامنا ہے جنہیں وحدتِ کلمہ اور قومی اتحاد کے ذریعے حل ہونا چاہئے اس طرح نہیں کہ کچھ دیندار افراد اپنے ناموس کے تحفظ اور ان کے حجاب کے تحفظ کی خاطر جیلوں میں بند کئے جائیں! یہ عمل ایک قومی حکومت کے لئے مناسب اور قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ مجھے امید ہے کہ یہ یادآوریاں اور یہ تذکرات مؤثر واقع ہوں اور ان تذکرات کے نتیجے سے آگاہ کیا جائے۔ ........1- سورہ ذاریات آیت 55.
2. Article 26.(2) Education shall be directed to the full development of the human personality and to the strengthening of respect for human rights and fundamental freedoms. It shall promote understanding, tolerance and friendship among all nations, racial or religious groups, and shall further the activities of the United Nations for the maintenance of peace.