اسلامی جمہوریہ ایران کی انٹلیجنس کے وزیر حیدر مصلحی نے آج منگل کو ملکی اور غیرملکی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ایک نیٹ ورک کو تباہ کردئے جانے اور گذشتہ برس جنوری میں تہران یوینورسٹی کے طبیعیات کے پروفیسر ڈاکٹر مسعود علیمحدی کے قاتلوں کی گرفتاری کی تفصیلات بیان کيں ۔اسلامی جمہوریہ ایران کی انٹلیجنس کی وزارت نے پیر کو اپنے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ ڈاکٹر مسعود علیمحدی کے قتل میں موساد کا ہاتھ ہے اور ان کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔مسعودعلیمحدی کو گذشتہ برس بارہ جنوری کو ان کے گھر کے باہر ہی ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ کئے گئے بم دھماکے میں شہید کردیا گیا تھا ۔فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر مسعود علیمحمدی کی شہادت کی خبر فوری طورپر دنیا کے تمام ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں شامل ہوگئی اور عین اسی وقت ہی جب سبھی یہ لوگ یہ جاننے اور معلوم کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ اس قتل کے پیچھے کون سے عناصر ہوسکتے ہيں ابتدائی رپورٹوں میں یہ ثابت ہوگیا تھا کہ بم دھماکے میں جن وسائل وآلات کا استعمال کیا گیا ہے کہ وہ غیرملکی وسائل و آلات ہیں جنھیں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ہی اہلکار استعمال کرتے ہيں ۔ ڈاکٹر علیمحدی کے قتل کے تقریبا ایک سال بعد اسلامی نظام کے دشمن کے ایجنٹوں نے گذشتہ انتیس نومبر کو ایک اور دہشت گردانہ کاروائی کے تحت کے ایران کے ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر مجید شہریاری اور ڈاکٹر فریدون عباسی پر قاتلانہ حملہ کئے جن میں ڈاکٹر شہریاری شہید اور ڈاکٹر عباسی شدید زخمی ہوگئے ۔ ان قاتلانہ اقدامات نے یہ ثابت کردیا کہ ملت ایران کے دشمنوں نے اپنے خیال باطل میں ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے اپنے گھناؤنے اقدامات شروع کردئے ہيں ۔ ایسے اقدامات کہ صہیونی اخبار ہاآرتص کے اعترافات کے مطابق جن کی منصوبہ بندی موساد کے سابق سربراہ میئر ڈيگان نے کی تھی ۔ البتہ قاتلوں کے اعتراف اور ہاتھ لگنے والے ثبوت و شواہد یہ ثابت کرتے ہيں کہ موساد نے اپنے غیرانسانی غیراسلامی اور ایران مخالف مقاصد کے حصول کے لئے بعض یورپی غیریورپی اور اسی طرح ایران کے بعض ہمسایہ ملکوں کی سرزمینوں کو ایران میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے لئے استعمال کیا ہے ۔ گذشتہ صدارتی انتخابات کے بعد کے واقعات نے بھی یہ واضح کردیا کہ ملت ایران کے دشمنوں نے کافی پہلے سے اپنے مداخلت پسندانہ مقاصد کے حصول کےلئے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور وہ موقع کی تلاش میں تھے ۔مگر انھیں شاید اس بات کا علم نہيں تھا کہ ایران کی انٹلیجنس کی وزارت پورے طور پر چوکنا اور ہوشیار ہے ۔ یہاں پر جو بات مسلم ہے وہ یہ کہ ایران کی انٹلیجنس کی وزارت کے ہوشیار و دلیر اہلکاروں نے موساد کے سسٹم میں گھس کر ڈاکٹر علیمحمدی کے قاتلوں کی شناسائي اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرکے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ اس سے پہلے ایران کے انہی جانبازوں نے ایک انتہائی پیچیدہ اور کامیاب کاروائی کے ذریعہ جندالشیطان نامی دہشت گردگروہ کے سرغنے عبدالمالک ریگي کو فضا میں شکار کرکے اپنی قوت اور اقتدار کا لوہا منوایا تھا اور ساتھ ہی ان تمام واقعات ميں ایران کے جانبازوں نے امریکہ اور اسرائیل کے گھناؤنے منصوبوں کو ناکام بنایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110