24 دسمبر 2010 - 20:30

بمناسبت 25 دسمبر یوم ولادت قائد اعظم محمد علی جناح / والد اور بھائی کی تصویریں۔

ابنا:

* علامہ شہید سید عارف حسین الحسینی:"قائد اعظم جیسی عظیم شخصیت نے ھم مسلمانوں کو پاکستان جیسا مادر وطن دیا ہے جس کی حفاظت ھم سب پر فرض ہے وہ قائد تو آج ھم میں نہیں لیکن اس کا دیا ہوا یہ ملک پاکستان ہے جس کی حفاظت، تعمیر و ترقی سب کا فرض بنتا ہے سب کو مل کر اسلام و مسلمین کے لیے کام کرنا ہے".* علامہ شبیر احمد عثمانیآل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممتاز عالمِ دین جنہوں نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ قائدِ اعظم کے متعلق فرماتے ہیں۔”شہنشاہ اورنگزیب کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان لیڈر پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ شکست خوردہ مسلمانوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو“* علامہ سید سلیمان ندویعظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھےکوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہاجبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہیجبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہاجب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسےجس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہابادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکےدور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہاملتِ دل بر کے گو اصلی قوا بیکار ہیںگوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہاہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امیدڈاکٹر اس کا اگر " مسٹر علی جینا" رہا

* مولانا ظفر علی خان” تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سرو سامانی اور مخالفت کی تندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو ۔“

قائد اعظم کے والد "جناح پونجا"فخر الدین علی احمد سابق صدر بھارت"میں قائدِ اعظم کو برطانوی حکومت کےخلاف لڑنے والی جنگ کا عظیم مجاہد سمجھتا ہوں" ۔کلیمنٹ اٹیلی وزیرِ اعظم برطانیہ"نسب العین پا کستان پر ان کا عقیدہ کبھی غیر متزلزل نہیں ہوا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو انتھک جدو جہد کی وہ ہمییشہ یاد رکھی جائے گی "۔مسولینی وزیرِ اعظم اٹلی"قائدِ اعظم کے لیے یہ بات کہنا غلط نہ ہو گی کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے جو کہیں صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے" ۔بر ٹرینڈ رسل برطانوی مفکر"ہندوستان کی پوری تاریخ میں کوئی بڑے سے بڑا شخص ایسا نہیں گزرا جسے مسلمانوں میں ایسی محبوبیت نصیب ہوئی ہو" ۔مہاتما گاندھی"جناح کا خلوص مسلم ہے ۔ وہ ایک اچھے آدمی ہیں ۔ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں ۔ میں انہیں زندہ باد کہتا ہوں" ۔پنڈت جواہر لال نہرو مسز وجے لکشمی پنڈت"اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا "۔ماسٹر تارا سنگھ سکھ رہنما"قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی"۔سر ونسٹن چرچلبرطانوی وزیرِ اعظم "مسٹر جناح اپنے ارادوں اور اپنی رائے میں بے حد سخت ہیں ۔ ان کے رویے میں کوئی لوچ نہیں پایا جاتا۔ وہ مسلم قوم کے مخلص رہنما ہی نہیں سچے وکیل بھی ہیں"۔مسز سروجنی نائیڈومسز سروجنی نائیڈو بلبلِ ہند اور سابق گورنر یو پی کے تاثرات قائدِ اعظم کے متعلق۔ "ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے قائدِ اعظم کی شخصیت قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے ذاتی اغراض کے پیشِ نظر کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اپنی بے لوث خدمت کے عوض ہندوستان کے مسلمانوں کے لیڈر ہیں ۔ ان کا ہر ارادہ ہر مسلمان کے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ان کا ہر حکم مسلمانوں کا آ خری فیصلہ ہے جس کی انتہائی خلوص کے ساتھ لفظ بہ لفظ تعمیل کی جاتی ہے"۔پروفیسر اسٹینلے"جناح آف پا کستان" کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں ۔" بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے۔

* علامہ عنایت اللہ مشرقیخا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا -”اس کا عزم پایندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا۔“* لیاقت علی خانپاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دیرینہ ساتھی نواب زادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا۔”قا ئدِاعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی“* علامہ اقبالایک خط میں علامہ نے قائد کو لکھا "برطانوی ہند میں اس وقت صرف آپ ہی ایسے لیڈر ہیں جن سے رہنمائی حاصل کرنے کا حق پوری ملتِ اسلامہ کو حاصل ہے"۔علامہ کی بیماری کے دوران جواہر لال نہرو ان کی عیادت کو آئے ۔ دورانِ گفتگو نہرو نے حضرت علامہ سے کہا "حضرت آپ اسلامیانِ ہند کے مسلمہ اور مقتدر لیڈر ہیں کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ آپ اسلامیانِ ہند کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔" تو حضرت علامہ نے فرمایا، "جواہر لا ل! ہماری کشتی کا ناخدا صرف مسٹر محمد علی جناح ہے میں تو اس کی فوج کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں۔"

قائد اعظم کے بھائی "احمد علی"

مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینیقائدِ اعظم دسمبر 1946ء میں لندن سے واپسی پر قاہرہ میں ٹھہرے۔یہیں پر اخوان المسلمون کے عظیم رہنما امام حسن البنا شہید بھی آپ سے ملے اور آپ کو قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی پیش کیا یہ نسخہ اب بھی مقبرہ قائد کے ساتھ واقع میوزیم کی زینت ھے۔ انہی دنوں مفتی اعظم قاہرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے قائد کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا۔" میں نے محمد علی جناح سے گفتگو کی ہے۔ مجھ سے زیادہ برطانوی ملوکیت کا دشمن شاید ہی کوئی ہو۔ میں نے محمد علی جناح کے خیالات کو انگریز دشمنی کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ وہ حقیقتاّ آزادی چاہتےہیں اور آزادی کے لیے انگریز سے مقابلے کا عزم رکھتے ہیں۔ میں ان سے گفتگو کے بعد اس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ جناح صاحب نہ صرف دستوری اور آئینی شخصیت کے حامل ہیں بلکہ انقلابی رہنما بھی ہیں۔ انقلابی افکار و خیالات ان کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکے ہیں۔ مجھے اس امر کا یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آزادی کے لیے برطانوی شہنشاہت اور ہندو سرمایہ داری دونوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے ہیں"۔پاکستان بننے کے بعد جناب مفتئ اعظم نے فرمایا، "اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلسطین کے بدلے میں پاکستان کا خطہ عنایت فرمایا ہے۔"مولانا ابوالکلام آزاد"قائدِ اعظم محمد علی جناح ہر مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے" ۔

.........

/110