13 دسمبر 2010 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے تہران میں برطانوی سفیر کے مداخلت پسندانہ بیان کی مذمت کی ہے۔

ابنا: تہران میں برطانیہ کے سفیر نے نہایت گستاخی کا ثبوت دیتے سفارتخانے کی ویب سائٹ پر ایک مضمون میں الزام لگایا ہے کہ ایران میں شہری آزادیاں محدود ہیں۔ فارس نیوز کے مطابق تہران میں برطانوی سفیر سائمن گس نے  9 دسمبر کو یوم انسانی حقوق کے بہانے ایک مضمون میں ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ تہران میں مقیم برطانوی سفیر نے اپنے مضمون میں الزام لگا یا کہ صحافی اور عوامی تنظیموں کے کارکنوں ـ جو اپنے ہموطنوں کا دفاع کرنے کے لئے خود کو خطروں میں ڈال دیتے ہیں ـ ایران کی طرح کہیں بھی خطرات لاحق نہیں ہیں۔ برطانوی حکام کے یہ مداخلت پسندانہ بیانات ایسے عالم میں سامنے آرہے ہیں کہ برطانیہ کے بڑے شہروں میں طلبہ حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں جنہیں کچلنے کےلئے پولیس نے تشدد کا سہارا لیا ہوا ہے۔ پولیس کے تشدد میں دسیوں برطانوی طلبا زخمی ہوچکےہیں اور ایک طالب علم کو "نزفُ الدّم" (Brain Hemorrhage) ہوگیا ہے جس کا آپریشن کرنا پڑا۔ یاد رہے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں لندن حکومت سے کہا ہے کہ عوام کے سماجی مطالبات پر صبر و تحمل سے کام لے اور انسانی کرامت و حرمت کا خیال رکھے۔ برطانوی طلباء کالج کی فیسوں میں تین گنا اضافے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ بروجردی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران میں برطانیہ کے سفیر کی ذمہ داری تعلقات میں بہتری لانے کے بجائے شاید تعلقات بگاڑنا ہے۔ بروجردی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملت ایران علاقے میں برطانیہ کی سازشوں اور ایران پر پابندیاں لگانے میں اسکے منفی رول نیز جینوا مذاکرات میں اس کے تخریبی کردار سے بخوبی واقف ہے اور ایرانی پارلمنٹ مناسب وقت پر برطانوی سفیرکا جواب دی گی۔

..............

/110