میں اس پرانی بات کے بارے میں ایک نئی بات کہنا چاہتا ہوں یا یوں کہئے کہ ایک نیا سوال اٹھانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ آیات اور احادیث کے حقیقی معانی کو ـ صرف اس لئے کہ بعض لوگوں کی مرضی کے مطابق نہ ہوں اور ان سے ان کے بعض ذاتی عقائد کی تأئید نہ ہورہی ہو ـ توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کیا وہ (معاذاللہ) آیات الہی اور احادیث رسول (ص) کا مذاق نہیں اڑا رہے ہیں؟ کیا ان کا یہ عمل (معاذاللہ) خدا اور رسول (ص) پر بدگمانی کے زمرے میں نہیں آتا؟
قرآن مجید کی سورت مائدہ کی آیت 55 میں رب متعال کا ارشاد ہے:
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ۔
یہ ایک آیت ہے جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ مدینہ کی مسجد میں؛ اسی وقت ایک سائل مسجد میں داخل ہوا وہ ضرورتمند تھا اور مسجد یقیناً مسلمانوں سے بھری ہوئی ہوگی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ بھی موجود تھے اور مسلمان بھی نماز کی نیت سے مسجد میں ہی تھے۔ لیکن کسی کو شاید سائل کی آواز سنائی نہیں دی رہی تھی مگر وہاں ایک عظیم شخصیت کے مالک انسان کامل نافلہ ادا کررہے تھے وہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سوا کوئی اور نہ تھا۔
رکوع کی حالت میں تھے کہ سائل قریب پہنچا اور آپ (ع) نے اپنی انگوٹھی سائل کے سامنے بڑھا دی اور سائل انگوٹھی اتار کر چلا گیا؛ یہ ایک واقعہ تھا اہل بیت رسالت (ع) کے جود و سخا اور عظمت و کرامت کے بے شمار دیگر واقعات کی مانند، جو لمحوں میں ختم ہوا، تا ہم یہ لمحوں میں ختم ہونے والا واقعہ ایک عظیم اعلان کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور وہ اعلان اللہ تعالی کی جانب سے تھا:
ترجمہ: تمہارا حاکم و سرپرست بس اللہ ہی ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات و زکاة دیتے ہیں اس حالت میں کہ وہ رکوع میں ہیں۔
یہ اللہ کا کلام ہے لیکن کیونکہ اس کا مصداق علی(ع) ہیں اسی لئے اس کی تأویلات شروع ہوئیں۔ کیفیتِ دلالت میں تأویلات شروع ہوئیں۔
مسجد میں نماز علی علیہ السلام ادا کررہے تھے؛ اس میں شک ممکن نہیں تھا اور تأویل بھی ممکن نہیں تھی؛
سائل آیا تو علی علیہ السلام نے ہی سائل کو رکوع کی حالت زکاة کے طور پر انگوٹھی عطا فرمائی؛
یہ بھی متواتر حدیث کی شکل میں موجود ہے اور اس وقت بھی کوئی اس میں شک نہیں کرسکتا تھا؛ آج بھی کوئی شک نہیں کرسکتا گو کہ معاصر تاریخ میں ولایت کے دشمن پیدا ہوئے ہیں جبکہ اس سے پہلے صرف مخالفین تھے جو دشمنی نہیں کرنا چاہتے تھے اور اہل بیت (ع) کی دشمنی کو اپنے لئے عیب سمجھتے تھے تا ہم نئے زمانے میں ابھرنے والے غدیر کے دشمنوں نے تمام حقائق کا انکار آسان کرنے کے لئے حدیث و تاریخ و تفسیر کی نئی اشاعتوں سے فضائل اہل بیت (ع) مٹانے کا اہتمام شروع کردیا ہے گو کہ اگر ان کے اسلاف آج سے ایک سو سال قبل یہ کام کرنا شروع کردیتے تو انہیں بہت آسانی ہوتی جبکہ موجودہ زمانے میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ تمام پرانے نسخے علم و دانش کے متوالوں نے محفوظ کرلئے ہیں۔
بہرصورت آیت نازل ہوئی ہے؛ آیت علی (ع) کی اسی فضیلت کے بارے میں ہے اور اس کا مصداق امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ہیں۔ لیکن مخالفین نے اس میں تأویل کرکے کہا کہ نہیں جناب "ولی" کا مطلب "حاکم و سرپرست" نہیں بلکہ اس کا مطلب "دوست" ہے۔
آیت قرآن مجید کی ہے اور فرمان اللہ کا ہے اور مخالفین ولایت کا دینی اور اعتقادی اصول یہ ہے کہ آیت قرآنی کی تأویل نہ کی جائے بلکہ اس کے ظاہری مفہوم پر ہی اکتفا کیا جائے کیونکہ اس عقیدے کے مطابق قرآن کی تأویل ممکن نہیں ہے اور اس کے باطنی معانی کا ادراک بھی ممکن نہیں ہے یہاں تک کہ جب سورہ طہ کی پانچویں آیت "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" (طہ – 5) = وہ سب کو فیض پہنچانے والا ہے اس کا عرش پر اقتدار قائم ہے" نازل ہوئی تو حضرات نے کہا کہ اور خدائے مہربان عرش پر رونق افروز ہوا (بیٹھ گیا) اور اس آیت کو تجسیم پروردگار کی دلیل قرار دیتے ہوئے خدا کو صاحب جسم قرار دیا۔ مگر جو بھی آیت اہل بیت (ع) کے بارے میں اتری ان ہی حضرات نے ان آیات کی تأویل کو جائز قرار دیا۔
اور ہاں! یہ بات میں نے ایسے ہی نہیں کہی کہ ولایت کے مخالفین خدا کو تجسیم کے بھی قائل ہیں اور اللہ کو جسم سمجھتے ہیں بلکہ یہ 1987 کی بات ہے جب اللہ تعالی نے حج بیت اللہ کی توفیق عطا فرمائی؛ جہاں بھی پہنچتے وہابی تعلیمات سے محروم نہ رہتے اور ہر مقام پر اسی مقام کے موقع و مناسبت سے وہابی تبلیغی مواد سے نوازا جاتا اور وہابی ہر ملک کے حجاج کو ان کی زباں میں یہ مواد فراہم کیا کرتے تھے۔ عرفات بھی پہنچے تو یہ حضرات پہنچ آئے اور کوئی تین کتابچے مجھے بھی تھمادیئے لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ایک کتابچہ کھولا تو جو کچھ سب سے پہلے نظر آیا وہ کچھ یوں تھا: "آج یوم عرفہ ہے اور یہ میدان عرفات ہے؛ آج یوم دعا ہے اور جان لو کہ الله تعالی آج کے روز "زمین والے آسمان" پر اتر کر آ بیٹھا ہے اور تمہاری دعائیں سنی جاتی ہیں اور اللہ انہیں قبول فرماتا ہے". اور ان کی اس بات سے یہی ثابت ہورہا تھا کہ وہ الله کے لئے جسمانیت کے قائل ہیں جو کسی وقت کسی خاص مقام پر جا کر بیٹھتا ہے اور بندوں کا مشاہدہ کرتا اور ان کی باتیں سنتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اگر اللہ کو (معاذاللہ جسمانیت کے وصف سے متصف کیا جائے تو ایسی صورت میں اگر وہ کہیں پہنچتا ہے تو دوسرے مقامات سے غائب ہوگا اور یہ بہت بڑی خامی ہے جبکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ پوری کائنات میں موجود ہے اور وہ الله کی ذات اس باطل تصور سے بہت بالاتر اور جسمانیت اور کلی طور پر مادی اوصاف سے پاک و منزہ ہے؛ جگہ نہیں گھرتا بلکہ نور مطلق اور شعور مطلق ہے۔
بہر صورت جب یہ آیت اتری تو حضرات نے آیت کے مصداق اور اس کی دلالت کو پسند نہ کیا؛ انہیں اللہ کا فرمان پسند نہ آیا چنانچہ اللہ پر بدظنی کا اظہار کرنے لگے ـ شاید وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے مگر وہ اس بدگمانی میں مبتلا ہوگئے تھے چنانچہ ـ خدا کے فرمان کا سیدھا مفہوم چھوڑ کر اس کی تأویل میں لگ گئے اور کہنے لگے کہ اس آیت میں "ولی" کا مطلب "حاکم" نہیں ہے بلکہ "دوست" ہے!۔
اگر رسول اللہ (ص) اور قرآن و سنت رسول اللہ (ص) کا اعتبار خدا سے اور مسلمانوں کا اعتبار اسلام سے ہے تو پھر خدا کی بات کیوں نہیں مانی گئی اور اس میں تأویل کیوں ہونے لگی؟
ہم پوچھتے ہیں: اللہ تعالی لوگوں کو اپنی حاکمیت ماننے کا حکم دیا لیکن یہ کونسی بات ہوئی کہ اللہ خود آجائے اور لوگوں کو اپنی دوستی جتانا شروع کردے کہ بھئی سنو! میں تمہارا دوست ہوں! میرے رسول (ص) بھی تمہارے دوست ہیں اور میرے یہ خاص بندے ـ جنہوں نے حالت رکوع میں زکاة دی ہے ـ بھی تمہارے دوست ہیں! اگر کہا جائے ـ اور کہا بھی گیا ہے ـ کہ تم اللہ کے دوست بنو تم اللہ والے ہو جاؤ (آل عمران آیت 79) اور اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرو (آل عمران 132) تو یہ بالکل درست ہے لیکن یہاں اللہ کے عمومی رویئے اور خطاب کے برعکس کہا جارہا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ "میں اور میرے رسول (ص) اور مدینہ کی مسجد میں زکاة دینے والے انسان کامل تمہارے دوست ہیں؛ یہ بات ہضم نہیں ہوتی صرف مجھے ہی نہیں بلکہ قرآن سے تھوڑی سے آگہی رکھنے والے کسی بھی انسان کو ہضم نہیں ہوتی، آخر قرآن کی اتنی بےحرمتی کیوں ہوتی ہے؟ کیا قرآن تمام مسلمانوں کی کتاب نہیں ہے؟ کیا سب کو اس کی تکری