22 نومبر 2010 - 20:30

جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ قوموں کے مستقبل بجلی سے نہیں استقلال سے روشن ہوا کرتے ہیں اس دن ہمارے ملک کے کسی ائیر پورٹ پر بھی کسی ملکہ سے کوئی صحافی یہ سوال کررہا ہو گا کہ کیا آپ کو یہ امید تھی کہ آپ سے عوام اس قدر متنفر ہوجائے گی ؟...

بسم اللہ الرحمن الرحیمکرپشن کے معجزے،روشنی کے بغیر بجلی 

nazarhaffi@yahoo.com

معیشت کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی جبکہ بجلی معیشت کے لئے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ دور میں بجلی کے بغیر معیشت کا تصور بالکل ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر ایک زندہ انسان کا تصور ۔ اس ضمن میں گزشتہ کئی سالوں سےاس خبر کی بازگشت تو آپ سن ہی رہے ہیں کہ حکومت ایران ایک عرصے سے پاکستان کو سستے داموں میں بلکہ کسی حد تک مفت میں بھی بجلی کی فراہمی پر کمر کسے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں اب تک پاکستان و ایران کے درمیان جتنے بھی معاہدے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر ایرانیوں نے ہی جوش و خروش دکھایا ہے۔ پاکستان کو بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں ایرانیوں کے جوش و خروش کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ۲۰۰۸ سے لے کر اب تک ایران نے اپنے حصے کا بڑا کام مکمل کرلیا ہے حتی کہ پاکستانی بارڈر کے نزدیک ایرانی حدود میں ایک ہزار کلو میٹر تک گیس پائپ لائن بچھا کر ٹرانسمیشن سسٹم  بھی نصب کردیا گیا ہے اور ایرانی سرحد کے قریب پاکستانی قصبوں میں ایران ۳۵ میگاواٹ بجلی  فراہم کر بھی رہاہے۔ ہم یہاں پر یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ اس جوش و خروش کی وجہ یہ نہیں کہ  ایران کے پاس بجلی کا کوئی خریدار نہیں بلکہ حقیقت حال تو یہ ہے کہ ایران پہلے سے ہی ترکی، آذربائیجان، ترکمانستان، افغانستان، عراق اور آرمینیا کو بجلی فروخت کر رہا ہے اور صرف اور صرف ایک مسلمان اور پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ایران کی کوشش ہے کہ پاکستانی معیشت سنبھل جائے اور پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے اس بات کا اظہار مختلف موقعوں پر ایرانی حکام کربھی چکے ہیں۔ یہ تو تھا تصویر کا ایک رخ اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں: ایرانی اس سلسلے میں جتنی گرمجوشی کا مظاہرہ کررہے ہیں ہماری طرف سے اتنی ہی سرد مہری دکھائی جارہی ہے اور یہ سرد مہری بھی بلاوجہ نہیں ہے چونکہ ہماری معیشت کو سہارا دینے کے لئے امریکہ اور یورپ نے ہمیں بھاری مقدار میں قرضے بھی اور وعدے بھی دے رکھے ہیں اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ہمیں ایران کی مفت یا سستی بجلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمارے اس یقین کا اظہار کچھ دن پہلے اس وقت ہوا جب میڈیا نے یہ خبر شائع کی کہ حکومت نے پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ کے ذریعے ترکی کے ایک رینٹل پلانٹ سے فی یونٹ 16 روپے بجلی کا معاہدہ کیا ہے۔ پیپکو ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے خود معاہدہ کیا اور پاور پلانٹ منگوا کر پیپکو کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مہنگے رینٹل پلانٹ کا کرایہ ادا کرنے کیلئے سبسڈی کی بجائے ہر ماہ ٹیرف 2فیصد بڑھا کر بوجھ صارف پر ڈالا جائے گا۔تصویر کے دونوں رخ آپ کے سامنے پیش کرنے کے بعد ہم آپ سے یہ نہیں کہنا چاہتے کہ پاکستان کو امریکی و یورپی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایران سے سستے داموں بجلی خریدنی چاہیے تھی ... نہیں ... نہیں ... ہمارا مقصد کچھ اور ہے اور ہم کوئی اور بات یعنی اس سے بھی بڑی بات کہنا چاہتے ہیں ... ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ ملک ایران جس کی آج اپنی بجلی کی ضرورت ۴۰ ہزار میگاواٹ ہے جبکہ وہ ۵۵ ہزار میگاواٹ یعنی اپنی ضرورت سے 15 ہزار میگاواٹ زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ آج سے صرف ۳۲ سال پہلے یہی ایران مسلسل تیل بیچ رہا تھا اور زرہ پوش گاڑیاں، ٹرک، اینٹی کرافٹ توپیں اور بھاری اسلحہ خرید رہاتھا؛ یہاں تک کہ ۱۹۷۶سے ۱۹۷۷ کے دوران امریکہ سے اسلحے کی خریداری کا بل چار ارب ڈالر سے بڑھ کر بارہ ارب سے بھی زیادہ ہوگیا تھا؛ ملک میں ہر روز نت نئے جشن اور میلے منعقد کئے جاتے تھے. مثلاً ۲۶ اکتوبر کو شاہ کی سالگرہ ،۲۶جنوری کو سفید انقلاب کی سالگرہ، ۶ دسمبر کو آزادی خواتین کی سالگرہ اس کے علاوہ جشن تاجپوشی، شہنشاہیت کا ۲۵ سوسالہ جشن وغیرہ وغیرہ ... صرف شہنشاہیت کے ۲۵ سوسالہ جشن کے اخراجات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اسے دنیا کی عظیم ترین نمائش کہا گیا تھا. امریکی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری تھا کہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اختیارات میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا چلاجائے، ایجنسیوں اور فوج کے کارندے اپنے وسیع اختیارات کے باعث کسی کو سر اٹھانے کی مہلت نہیں دیتے تھے، جو کوئی بھی شاہ پر یا شاہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتا تھا اسے ملک دشمن، غدار اور خائن قرار دے دیاجاتا تھا۔ چنانچہ جیلیں قیدیوں سے چھلک رہی تھیں، ٹارچر سیل خون اور ہڈیوں سے لتھڑ گئے تھے، لوگوں کی ایک بڑی تعداد خفیہ ایجنسیوں نے اغواء کر رکھی تھی، ۱۹۷۸ تک ملکی معیشت کا یہ حال ہوگیا تھاکہ شاہ اور اس کی بیوروکریسی پرائیویٹ بینکوں کے ۵۰ فی صد حصص کی مالک تھی، ایران کی غیرملکی تجارت صرف ۶۰ افراد کے ہاتھ میں آگئی تھی، کمپنیوں کے زیادہ تر شئیرز صرف ۵۰ خاندانوں کے پاس تھے، ہر روز شاہی خاندان کے افراد، شاہی محل کے ملازمین اور کارندوں کے لئےجنیوا میں سویس بینک کے اکاونٹ نمبر۲۱۴۸۹۵-۲۰ میں پہلوی فاونڈیشن کے اکاونٹ میں کئی ملین ڈالر ڈالے جاتے تھے۔ دن بدن ایرانی یونیورسٹیاں بے روزگار وں کو جنم دے رہی تھیں، ملک کے طول و عرض میں غیرملکی سرمایہ کاری خصوصاً امریکی سرمایہ کاری کا جال بچھا ہوا تھا جبکہ ایرانی نوجوان اپنے ہی ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں ٹھوکریں کھاتے پھررہے تھے.ایران کی یہ نام نہاد ترقی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ ایران جو کبھی گیہوں برآمد کرتا تھا اس نے گیہوں بھی در آمد کرنی شروع کر دی تھی ... اور ... پھر وہ دن بھی آپہنچا کہ جب ایک جرمن روزنامے "اشپی گل" کے خبرنگار نے ملکہ فرح سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ کو یہ امید تھی کہ آپ سے عوام اس قدر متنفر ہوجائے گی ؟...۱۱فروری ۱۹۷۹ کو شہنشاہیت کا سورج اپنی جھوٹی ترقّی کے نعرے لے کر ایران کے افق سے ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔ ایرانی عوام نے اپنی گلی کوچوں سے غیر ملکی ایجنٹوں کو مار بھگایا، ایرانی سائنسدان، انجینئر، پروفیسر، ڈاکٹر اور علماء ... سب نے ایرانیوں سے احساس کمتری کو ختم کرنے اور ملت ایران کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کا فیصلہ کرلیا ... ۳۲سال پہلے کے ایران کو آج کے پاکستان کے ساتھ رکھ کر موازنہ کیجئے وہاں بھی بالکل یہی صورتحال تھی جو آج ہمارے ہاں ہے.آج کے ایران میں اور ماضی کے ایران میں یہی فرق ہے کہ آج کا ایرانی احساس کمتری سے نکلا ہوا ہے، آج ایران کے اعلی حکام کے نزدیک ان کی اپنی زبان "فارسی" میں گفتگو کرنا ان کے لئے فخر کا باعث ہے، انہیں اپنا تعارف کرانے کے لئے انگریزی اصطلاحات کی بیساکھیوں کا سہارا نہیں لینا پڑتا، آج ان کی یونیورسٹیوں میں انگریزی کو ترقّی کا معیار نہیں سمجھاجاتا اوران کے پالیسی ساز اداروں میں غیر ملکی قرضوں اور بیرونی امداد پر تکیہ نہیں کیا جاتا۔ ایرانیوں نے اپنے ماضی سے عبرت حاصل کی جس کے باعث وہ آج نہ صرف بجلی فروخت کر رہے ہیں بلکہ ایٹمی ٹیکنالوجی  میں بھی قابل رشک حد تک پیشرفت کرچکے ہیں۔دوسری طرف ہم ہیں، اب چینی مہنگی ہو یا آٹا، ہمیں پولیس لوٹے یا ڈاکو، ہمارے گھروں پر ڈرون حملے ہوں یا خودکش، ہمیں ہتھوڑا گروپ مار ڈالے یا فوج ... ہماری معیشت بھی اور سیاست بھی چند خاندانوں کی باندی ہے، ملک کے گلی کوچوں میں غیر ملکی کمپنیوں کا سیلاب موجزن ہے، سیاست، فوج، اور بیوروکریسی کے اندر ایک مخصوص طبقہ  موجود ہے جس کےکارخانے بھی ہیں، زمینیں بھی نوکریاں بھی اور ٹارچر سیل بھی ...اس مخصوص طبقے کی صحت پر مہنگائی اور بے روزگاری وغیرہ کا کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ انہیں تو ان سارے مسائل سے  فائدہ پہنچتا ہے چونکہ اسمبلیوں کی سیٹیں، ایجنسیوں کی جیلیں، کارخانے اور ملّیں  تک سب کچھ ان کا اپناہے۔ اب حکومت چاہے ایران سے بجلی خریدے یا ترکی سے ... مہنگی خریدے یاسستی، ہمارے لئے مقام فکر یہ ہے کہ کیا یہ خریدی ہوئی بجلی ہمارے ملک کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتی ہے، کیا ہمارے سائنسدانوں میں اتنی صلاحیّت بھی نہیں کہ وہ  اپنے ملک میں اتنی بڑی مقدار میں پائے جانے والے  آبی ذخائر، معدنی ذخائر اور شمسی توانائی کو بروئے کار لاکر ملک کو بجلی کے بحران سے نجات دلائیں۔ یقیناً ایران کی طرح ہمارے سائنسدان، انجینئر، پروفیسر، ڈاکٹر اور علماء بھی مل کر پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرسکتے ہیں۔ آج ہر پاکستانی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مانگی ہوئی بجلی ہمارے مستقبل کی تاریک راہوں میں روشنی نہیں کرسکتی۔مستقبل کی تاریک راہوں کو روشن کرنے کے لئے ہمیں اس مخصوص کرپٹ طبقے کو پہچاننا ہوگا جو مسلسل پاکستانیوں کو لوٹ رہا ہے اوریہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو، وہ مخصوص طبقہ جو سائنسدانوں کو ذلیل کر رہا ہے، انجینئروں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہا، ملک کو مزید پستی میں دھکیلنے کے لئے تعلیمی اداروں سے اردو کو مکمل طور پر ختم کر کے انگریزی  رائج کر رہا ہے ...جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ قوموں کے مستقبل بجلی سے نہیں استقلال سے روشن ہوا کرتے ہیں اس دن ہمارے ملک کے کسی ائیر پورٹ پر بھی کسی ملکہ سے کوئی صحافی یہ سوال کررہا ہو گا کہ  کیا آپ کو یہ امید تھی کہ آپ سے عوام اس قدر متنفر ہوجائے گی ؟...

بشکریہ از برادرم نذر حافی

----

واه نذر بهائی واہ اللہ قلم اور صاحب قلم پر برکتیں نازل فرمائے