11 نومبر 2010 - 20:30

بحرین کے سپریم کورٹ نے شیعہ سیاسی قیدیوں کی جانب سے دائر کی گئ رٹ مسترد کردی ہے۔

قیدی شیعہ رہنماوں نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی کہ بحرینی جیلوں میں انہیں جسمانی ایذائيں پہنچائي جارہی ہیں اور عدالت اس مسئلے کی تحقیقات کرے۔ یاد رہے کہ بحرین کے سیاسی قیدیوں نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ عدالت عالیہ ان کا میڈیکل چک اپ کروائے تاکہ جسمانی ایذاؤں کے ثبوت مل سکیں ۔ بحرین میں قید شیعہ رہنماوں کے وکیل نے بتایا ہے کہ عدالت نے 25 نومبر کو ان قیدیوں کے کیس کی سماعت کرنے کی تاریخ دی ہے جبکہ یہ مہلت دفاع کے لئے ناکافی ہے۔ بحرین کی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے شیعہ سیاسی لیڈروں کو دہشتگردی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ شیعہ لیڈروں کو حالیہ انتخابات سے پہلے گرفتار کیا گيا تھا۔ امینسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ سمیت دیگر انسانی حقوق تنظیموں نے شیعہ اکثریت کے خلاف بحرین کی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔ بشکریہ از ریڈیو تہرانیادرہے بحرین میں بھی شیعہ مسلمانوں کو سعودی عرب کی طرح امتیازی پالیسیوں اور شدید تعصب کا سامنا ہے فرق صرف یہ ہے کہ سعودی عرب میں شیعہ آبادی تقریبا ایک چوتھائی ہے جبکہ بحرین کی پچاسی فیصد آبادی شیعیان اہل بیت (ع) پر مشتمل ہے اور وہاں اقلیت اکثریت پر حکومت کررہی ہے اور دوسری طرف سے 15 فیصد اقلیتی آبادی بھی اقتدار میں شریک نہیں ہے بلکہ اس ملک پر ایک ہی خاندان کی حکمرانی ہے گو کہ اقلیتی آبادی کو اکثریتی آبادی سے زیادہ مراعات حاصل ہیں۔زیادہ دلچسپ امر یہ ہے کہ آج سے چند سال قبل امریکی وزارت خارجہ نے اپنی رپورٹ میں مصری آمریت اور بحرینی امارت کو مشرق وسطی کے جمہوری ترین ممالک قرار دیا ہے!