9 نومبر 2010 - 20:30

دہشت گردی کے چار مقدمات سے بری ہونے والے 11 قیدی کے اڈیالہ جیل سے لاپتا ہوگئے تھے جبکہ یہ قیدی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے گیارہ لاپتا قیدیوں سے متعلق اٹارنی جنرل آف پاکستان اور چیف سیکریٹری پنجاب سے ایک واضح جواب آج ہی طلب کرلیا ہے ۔ دہشت گردی کے چار مقدمات سے بری گیارہ قیدیوں کے جیل سے لاپتا ہوجانے کے مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی ۔اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے عدالت کو بتایا کہ یہ لاپتا قیدی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس نہیں ہیں ، عدالت میں موجود چیف سیکریٹری پنجاب نے ان قیدیوں سے متعلق اپنی رپورٹ سنانا چاہی تو چیف جسٹس نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے ، ضرورت ہوئی تو یہ رپورٹ لے لی جائے گی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ گزشتہ سماعت پر اسپیشل برانچ کی رپورٹ تھی کہ ان قیدیوں کو انٹیلی جنس ایجنسی والے لے گئے تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس مین کوئی غلط فہمی پیدا نہ کی جائے اور اٹارنی جنرل اور چیف سیکریٹری آپس میں میٹنگ کرکے آج دوپہر تک عدالت کو ایک جواب دیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110