8 نومبر 2010 - 20:30

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں ایف سی کے دو اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا ہے جبکہ طالبان دہشت گردوں نے لڑکوں اور لڑکیوں کے مزید تین پرائمری تین پرائمری اسکول تباہ کردیئے۔

مہمند ایجنسی میں مسلح طالبان شدت پسندوں کی طرف سے سرکاری اسکولوں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تازہ ترین واقعات میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو تین مزید پرائمری اسکولوں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا ہے۔
مہمند ایجنسی سے ملحقہ باجوڑ ایجنسی میں بھی گذشتہ چند ماہ سے شدت پسندوں کی طرف سے اسکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
صرف مہمند ایجنسی میں پچھلے چند ہفتوں سے سرکاری سکولوں پر حملوں میں شدت آئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس قسم کے واقعات میں ستر سے زائد تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جاچکا ہے جن میں بیشتر لڑکیوں کے سکول بتائے جاتے ہیں۔

بشکریہ از مهر نیوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کرنے کا ٹھیکہ لے کر یہودیت و نصرانیت کو امت کے خلاف تشہیراتی مہم کے لئے خوراک اور ایندھن فراہم کرنا سلفی اسلام کا بنیادی مشن ہے۔
دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کرنے کا ٹھیکہ لے کر یہودیت و نصرانیت کو امت کے خلاف تشہیراتی مہم کے لئے خوراک اور ایندھن فراہم کرنا سلفی اسلام کا بنیادی مشن ہے اور دشمنان اسلام اس ڈمی اسلام کے کرتوتوں کا سہارا لے کر دنیا کو اپنے خیال میں مدلل انداز سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسلام تہذیب و تمدن اور تعلیم و تربیت کے خلاف ہے اور جب ہم بعض ویب سائتوں پر دیکھتے ہیں کہ اسی قسم کے ڈمی اسلام کے تابعدار اور طالبان اور القاعده کو پسمانده فکری خوراک فراهم کرنے اور خودکش دهماکون کو فدائی کاروائیان قرار دینے والے، یہود و نصاری کے خلاف دت کر لرنے والے مسلمانوں کو یہود و نصاری سے جورنے کی کوشش کرتے ہیں تو بری حیرت ہوتی ہے کہ مواصلات کے اس دور میں جب سنی نوجوان بھی دوسروں کی طرح اسی دور کے فرزند ہونے کے ناظے حقائق سے آگہی حاصل کرنے کی قوت رکھتے ہیں تو پھر اس پسماندہ سوچ کے حامل افراد کس منہ سے یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ دور حاضر میں یہودیت و نصرانیت کی آنکھوں میں آنکھیں دال کر لرنے والے مسلمان، گویا یہودیت اور نصرانیت کے رفیق کار ہیں!؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کی عقل کو اپنی مانند مأوف سمجھتے ہیں؟ اور دوسری طرف سے اسلام دشمن طاقتیں یہ کیونکر سوچتی ہیں کہ عیسائی و یہودی نوجوان اسلام کے خلاف ان کے پروپیگنڈوں کے بہکاوے میں آئیں گے اور وہ دہشت گردوں کے اسلام کو اصلی اسلام سمجھیں گے؟ جبکہ عیسائی و یہودی نوجوان بھی دیکھ رہے ہیں کہ اسکولوں کو ڈھانے والے اور سر بازار لڑکیوں کو کوڑے مارنے اور بے گناہ انسانوں کے گلے کاٹنے والوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی امت اسلامی سے بلکہ سب سے زیادہ نقصان تو ان ہی بالفطرہ مجرمین اور درندوں نے اسلام کو پہنچایا اور سب سے زیادہ مسلمان حالیہ برسوں میں ان ہی کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔

..........

/110

- مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں دو اسکول دھماکے سے تباہ

- مہمند ایجنسی: طالبان نے دو گرلز اور ایک بوائز اسکول کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کردیا

- بم پھٹنے سے سرکاری اسکول کی عمارت تباہ

- سوات میں ایک سال میں188اسکول تباہ کئے گئے 

-