گزشتہ دنوں میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب دو خود کش دھماکے ہوئےجن میں دس افراد جاں بحق جبکہ پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ مزار کے مرکزی دروازے پر ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ مزار کے اندرونی حصے میں ہوا۔ اس موقع پرایک مرتبہ پھر لوگوں کے آنسو دیکھنے کو اور حکمرانوں کے رٹے رٹائے بیانات سننے کو ملے۔ جیساکہ وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذولفقار مرزا نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے کی جگہ سے دو سر ملے ہیں اور یہ دونوں دھماکے خودکش ہیں۔صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنائے۔ پورے ملک میں جب بھی اس طرح کا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو حکمران اسی طرح کے بیانات دے کر اپنادامن چھڑالیتے ہیں، حالانکہ ہر باشعور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص کسی کو بلاوجہ اور دشمنی کے بغیر قتل نہیں کرتا اور یہ بات بھی واضح اور روشن ہے کہ دشمنی خواہ مخواہ نہیں ہوجاتی بلکہ دشمنی کی جاتی ہے۔ اگر ملک میں کبھی کبھار یا اکا دکا خود کش دھماکے ہو جاتے تو ہم مان جاتے کہ یہ دھماکے وقتی طور پر جذبات میں آنے والے چند ناسمجھ اور مٹھی بھر دہشت گردوں کی کاروائی ہیں، اگر یہ دہشت گردانہ کاروائیاں کسی ایک طبقے یا چند طبقات تک محدود ہوتیں تو ہم انہیں بعض قبائل کی باہمی چپقلش، صوبوں کے باہمی تناؤ، سیاستدانوں کی ناسمجھی یا چند متعصب ملاؤں کی فرقہ وارنہ مڈبھیڑ کہہ کر ٹال دیتے ... لیکن ... پاکستان میں تو صورتحال بالکل مختلف ہے، یہاں پر ایسے لوگ سرگرم عمل ہیں، جن کی دشمنی کسی ایک مکتب فکر یا کسی ایک گروہ تک محدود نہیں، ان کے ہاتھوں جس طرح چرچ کو خطرہ ہے اسی طرح مساجد بھی غیر محفوظ ہیں، جس طرح امام بارگاہیں خاک و خون میں غلطاں ہیں اسی طرح اولیاء کرام کے مزارات بھی، انھوں نے جس طرح افغا نستان میں وحشت و بربریت کے ساتھ تاریخ و تمدن کے آثار مٹادیئے یہ آج اسی طرح پاکستان میں بھی اولیاء کرام کے مزارات مٹانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ان کے جرائم اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ کسی ایک دینی یا سیاسی گروہ کے مخالف نہیں بلکہ یہ انسانی تہذیب و تمدن اور اسلامی معاشرے کے استحکام کے دشمن ہیں اور ان کی یہ منظم مجرمانہ کاروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی یہ دہشت گردانہ کاروائیاں، ان کی جہالت، [فکری] پسماندگی اور ناخواندگی کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ بلیک واٹر، موساد اور سی آئی اے کے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق دین اسلام اور ملت پاکستان کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ان کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ جہاد کا نام لے کر اور مجاہدین کی عبا اوڑھ کر پاکستان کے اندر تمام فوجی و سول مقامات، دینی و مذہبی محافل و مجالس، سیاسی اجتماعات، مساجد و امام بارگاہوں نیز تمام شعبہ ہائے زندگی کو دہشت گردانہ کاروائیوں کی زد میں لا کر پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کیا جائے اور اس طرح نہ صرف یہ کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے براہ راست امریکہ کے کنٹرول میں دیئے جائیں بلکہ اسرائیل کو بھی تسلی و تشفی دی جائے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو صاف الفاظ میں کھل کر یہ بتایا جائے کہ عبداللہ شاہ غازی (رح) کے مزار پر حملہ کرنے والے عبداللہ شاہ غازی کے دشمن یہ وہی بے دین لوگ ہیں جنہوں نے مدینہ منورہ میں صحابۂ کرام کے آثار مٹادیئے اورجنہوں نے جنت البقیع کے مزارات کو منہدم کردیا، جو خود تو افغانستان میں افیون اور چرس پر پلتے تھے جبکہ لوگوں کو داڑھی نہ رکھنے پر کوڑے مارتے تھے، صدام کی طرح ان کے عشرت کدوں میں ہر حرام حلال اور ناجائز جائز ہوتا تھا لیکن نہتے اور بے افغانیوں کی ہر روز شریعت کے نام پر کھال کھینچتے تھے۔ یہ نام بدل بدل کر آئے روز عراق کے گلی کوچوں میں نہتے مسلمانوں کے خون میں ہاتھ رنگتے ہیں اور انھوں نے کاظمین و سامراء کا سکون تہہ و بالا کر رکھا ہے۔ انھوں نے کشمیر میں جہاد کے نام پر کشمیری مسلمانوں پر جومظالم ڈھائے ہیں وہ کسی طور بھی ڈوگرہ فوج کے مظالم سے کم نہیں، انھوں نے جس طرح پاکستان میں خنجروں اور تلواروں کے ساتھ لوگوں کی گردنیں کاٹی ہیں اسی طرح کشمیر میں بھی نام نہاد عدالتیں قائم کر کے کتنے ہی بے گناہ کشمیریوں کو درختوں کے ساتھ لٹکا کر گولیاں ماری ہیں۔ یہ امریکہ کے اصلی و نسلی غلام آج پاکستان میں ایک مکمل امریکہ نواز ریاست تشکیل دینے کے لئے اپنے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کا منہ دیکھنے کے بجائے خود اپنے ملک کا محافظ اور پاسبان بن جائے اور کسی گلی، محلے یا بازار میں کسی بھی شخص کو اپنے ملک میں نفرت کے بیج نہ بونے دے۔ اب ہر پاکستانی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ پاکستان میں نفرت کے بیج بونے والے خواہ مخواہ نفرت کے بیج نہیں بو رہے بلکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ صرف عبداللہ شاہ غازی کے دشمن نہیں بلکہ پاکستان کی مقدس سرزمین کے دشمن ہیں۔

........

/110