انہوں نے مزید کہا کہ جہاں سے پیار و محبت کا درس ملتا ہے اسی جگوں کو بند کرنے کی باتیں کررہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا دین بھی ہے مذہب بھی ہے اور وہ کس مذہب و سوچ کے حامل ہیں سب جانتے ہیں جبکہ شکیل قادری کا کہنا تھا کہ تمام دہشت گردوں کا تعلق دیوبندی مکتب فکر سے ہے حکومت کو دیوبندی ذمہ داروں سے سوال کرنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہے؟سوال یہ ہے گذشتہ روز کراچی میں کالعدم تنظیم کے ایک سابقہ رکن مولانا کو ٹارگٹ کلنگ کے نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ آج مزار عالیہ عبداللہ شاہ غازی پر حملہ ہوا کیا ان دونوں واقعات میں کوئی تعلق نظر آتا ہے؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان واقعات میں ضرور کوئی تعلق ہوسکتا ہے کیونکہ گذشتہ روز ہی کالعدم تنظیم کے ایک مولوی صاحب کی پریس کانفرنس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بریلوی مسلمانوں پر اس قتل کا الزام لگایا تھا۔بقول وزیر داخلہ کوئی تیسری قوت ہے جو شیعہ، بریلوی اور دیوبندی لڑائی چاہتا ہے البتہ شیعہ اور بریلوی کا باہمی کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی دیوبندیوں کے ساتھ اہل تشیع کا کوئی مسئلہ نظر آتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک مخصوص سوچ کے حامل لوگ کہ جن کا زیادہ تر تعلق دیوبند سے ہے وہ اپنی سوچ طاقت کے ذریعے نافذ کرنا چاہتا ہے۔ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ دھماکے کرنے والے اکثر افراد کا تعلق دیوبند فرقے سے ہے اور زیادہ تر دہشت گردوں کا تعلق دیوبند مدارس سے ہے۔ادھر خبریں آرہی ہیں کہ سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ” مزارات کو ایک سال تک بند کیا جائے“اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کالعدم دہشت گرد جماعت تحریک طالبان پاکستان نے شاہ غازی کے مزار پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین ثروت اعجاز قادری کا مزید کہنا تھا کہ عوام خودکش حملوں کی تحقیقات سے مطمئن نہیںسنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ اسلام پسند، محب وطن اور پرامن لوگوں کو مشتعل کر کے ملکی سلامتی اور استحکام کے خلاف مسلسل سازشیں کی جا رہی ہیں اور حکومت اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر غیر ذمہ دارانہ عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے،جو کہ بے حسی کی انتہا ہے۔مرکزی جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ، سنی اتحاد کونسل کے چئیرمین، رکن قومی اسمبلی صاحبزاہ فضل کریم نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا ڈھائی سالہ دور دہشت گردی، خودکش دھماکوں، لوٹ کھسوٹ، مہنگائی کے عفریت، لاقانونیت اور بدامنی کی کارروائیوں سے بھرا پڑا ہے اور حکومت زبانی جمع خرچ اور دعووں کے علاوہ کچھ نہ کر سکی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حضرت سید عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر حاضر زائرین سے گفتگو اور جناح اسپتال میں سانحہ مزار عبداللہ شاہ غازی کے زخمیوں کی عیادت کے دوران وہاں موجود افراد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ مزارات مقدسہ پر خودکش دھماکے،حملے اور دہشت گردی کے واقعات اسلام دشمن قوتوں کے ایجنٹوں کی مذموم کارروائی ہے،جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔اس موقع پر ثروت اعجاز قادری،طارق محبوب،شاہد غوری،شبیر احمد قاضی، ولی محمد شاہ،محفوظ عباسی،علامہ اشرف گورمانی و دیگر بھی موجود تھے۔ عوام خودکش حملوں کی تحقیقات سے مطمئن نہیں،ثروت قادری سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری نے قادری ہاؤس پر علمائے کرام کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنی تحریک سمیت کوئی بھی شہری دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملوں کی تحقیقات سے مطمئن نہیں۔ایک ایسے شخص کو جو زندہ ہو، اسمبلی کے فلور پر خودکش بمبار قرار دینے سے نام نہاد تحقیقات کی قلعی کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات نام کی کوئی چیز نہیں، سب مفروضوں پر کام کر رہے ہیں، اگر تحقیقات صحیح سمت میں کی جائیں تو بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار آشکار ہو جائیں۔ لیکن یہاں مصلحت پسندی نے اس ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور قوم کو مذہبی ٹھیکیداروں نے فرقوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنی تحریک اپنے اکابرین کے قول کہ اپنا عقیدہ نہ چھوڑو اور دوسرے عقیدے والوں کو نہ چھیڑو پر کاربند ہے۔
........
/110