19 ستمبر 2010 - 19:30

پاکستانی عوام اور خاص کر کرم ایجنسی کی عوام ان دو افراد کو تو بھولے نہیں جو چارصدہ کے دلخراش واقعے کے مجرموں میں سے ہیں جنہوں نے سات کے قریب ٹرک ڈرائیوروں کو انتہائی بے دردی اور درندگی کے ساتھ زندہ ٹکڑوں میں بدل دیا؛ وہ دو افراد کمانڈنٹ ایف سی کرنل مجید اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ عطاءالرحمن تھے۔

اس وقت کرم ایجنسی کی عوام کو ایک اور بے رحم شخص ایف سی کمانڈنٹ کرنل توصیف کا سامنا ہے جو  خود کو پاکستان آرمی کا کرنل متعارے کراتا ہے اور بجائے دہشت گردوں کے محب وطن بے گناہوں پر بمباری کرتا ہے اور ان ان افراد کے حوالے سے کے بارے میں آرمی چیف سے گذارش کی ہے کہ اس شخص کو فورا وہاں سے ہٹا دیا جائے اور بے گناہوں پر بمباری کے جرم میں سزادی جائے؛ کیونکہ اس شخص کے کنٹرول پر ہیلی کاپٹرز بے گناہوں کی تلاش کر کے ان کو نشانہ بنارہی ہیں جبکہ ان ہیلی کاپٹروں کو بیرونی اور اندرونی دہشت گردوں کا پیچھا کرنا چاہیے۔یہ بات پوری دنیا کے لئے واضح ہے کہ اس وقت ٹل پاراچنار راستہ گذشتہ چار سالوں سے دہشت گردوں کے قبضے میں ہے اور ہر گذرنے والا شخص ٹکڑوں میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ابتک سینکڑوں افراد جن میں سیکوریٹی فورسز اور عام لوگ بھی شامل ہیں اسی راستے میں شہید کیا جاچکاہے پورے ملک میں کون ہے جو بم دھماکے کر رہا ہے؟کون ہے جو سکولوں سے لیکر مساجد تک اور پھر پولیس مراکز سے لیکر آرمی سنٹروں تک دھماکے کرہا ہے؟ اگر اس کے باوجود کوئی ذمہ دار شخص دہشت گردوں اور عام محب وطن شہری میں فرق نہ کر سکے تو اسے ذمہ داری دیا جانا انتہائی خطرناک بات ہوگی اور اس وقت شلوزان اور خیوص گاؤں میں اس مسٹر توصیف کی وجہ سے یہی کچھ ہورہا ہے کرم ایجنسی کی عوام اس وقت صرف آرمی چیف پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں کہ وہ ان کے دکھوں کا مداوا کریں اور ایسے غیر ذمہ دار شخص کو وہاں سے ہٹالے۔

طالبان حملے کی درست خبروں کو دنیا والوں تک پہنچانا اس وقت کی سب سے اھم ضروتخبریں آرہی ہیں کہ خیوص گاﺅں میں اس وقت تمام مکانات جلائے جا چکے ہیں اور شہداءکی تعداد پہلے سے زیادہ ہوچکی ہے افغانستان سے القاعدہ اور طالبان کے مزید دہشت گرد وہاں جمع ہو رہے ہیں اور اس تمام صورت حال کو انتظامیہ خاموشی سے دیکھ رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ نے دہشت گردوں کو فری ہینڈ دیا ہوا ہے کہ وہ جو چاہیں کر گذریں میڈیا میں ابتک اس خبر کو ایک ہی رٹ پانی کے مسئلے پر دوقبائل جھگڑا قرار دیا جارہا ہے جبکہ بات پانی سے بڑھ کر خون اور آگ تک پہنچ چکی ہے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی اور کابینہ کا مشترکہ اجلاس کل صبح ہونے جارہا ہے ۔اس وقت ضروت اس امر کی ہے کہ دنیاکو حقیقت سے باخبر کیا جائے اور میڈیا کی سنسر اور خبر کی تحریف کا مقابلہ کیا جائے تاکہ دہشت گرد وطن عزیز کے اس خطے پر قابض نہ ہوسکیں دوسری طرف اس بات کی بھی سخت ضرورت ہے کہ انتظامیہ فورا اس آگ اور خون کے کھیل کو بجائے تماشائی بننے یا پھر دہشت گردوں کو سبز چراغ دیکھانے کے ختم کرے اور فورا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرے ورنہ ملک بھر سے امن کے سفیر کو تعین شدہ وقت سے پہلے ہی مارچ کرنا پڑیگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110