20 ستمبر 2010 - 19:30

وزیر داخلہ رحمان ملک نے رینجرز کی اس بزدلانہ اور متعصبانہ درندگی پر مبارک باد کے ساتھ ترقی اور مراعات دینے کی خوشخبری دی۔

پاکستان کے مظلوم شیعہ عوام! تمہارا ہتھیار تمہارا صبر اور باہمی اتحاد ہے، تمہارا ہتھیار تمہاری ثابت قدمی ہے اسے ہاتھ سے جانے نہ دو ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
رینجر کی ریاستی دہشت گردی میں شہید ہونے والے شہید ناصر علی کو سپرد خاک کیا گیا ہزاروں افراد نے احتجاج کیا جن میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق علامہ سید حسن ظفر نقوی مرکزی ترجمان مجلس وحدت مسلمین نے شرکاءجنازہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے رینجر کے خلاف قانونی کاروائی کی یقین دھانی کرائی ہے جس پر احتجاج کرنے والے پر امن طور پر منتشر ہوگئے
واضح رہے کہ گذشتہ روز رینجر کی ڈائریکٹ فائرنگ سے ابتک چار سے زائد شیعہ جوان شہید ہوچکے ہیں اور جبکہ کراچی شہر میں انیس کے قریب افراد کل سے اب تک شہید کیے جا چکے ہیں
رینجر گردی اس وقت شروع ہوئی جب کرنل چاٹر جن کو بلیک واٹر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کے آڈر پر رینجر نے جنازے سے واپس لوٹنے والے جوانوں پر بغیر کسی سبب کے فائر کھول دیا اور دو جوانوں کو شہید کردیا
اگرچہ رینجر نے دعوا کیا کہ ان پر فائرنگ کی گئی تھی لیکن ملک بھر کے میڈیا روپوٹرز کے مطابق یہ سفید جھوٹ ہے اور اگر رینجر پر فائر کیا گیا تھا تو کوئی زخمی سے ہلاک تو ہواہوگا؟لیکن ایسا کچھ نہیں
وزیر داخلہ رحمان ملک نے رینجر کی اس بزدلانہ اور متعصبانہ درندگی پر مبارک باد کے ساتھ ترقی دینے اور مراعات کی خوشخبری دی۔

پاکستان کے مظلوم شیعہ عوام !تمہارا ہتھیار تمہارا صبر اور باہمی اتحاد ہے تمہارا ہتھیار تمہارا ووٹ ہے، تمہارا ہتھیار تمہاری ثابت قدمی ہے اسے ہاتھ سے جانے نہ دو
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

متعصب ڈی جی رینجرکی ریاستی دہشت گردی مولانا صادق حسن کا بھتیجا شھید شہداء کی تعداد 17 ہوگئی!
کراچی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رینجر کی ریاستی دہشت گردی سے ابتک کہ رات کے سوا گیارہ بجے ہیں سولہ افراد شہید ہوچکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں سما ٹی چینل کے مطابق رینجرز نے براہ راست سوگواروں پر فائرنگ کردی جس سے دو افراد شہید ہوئے اور پھر رینجرز کے وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے اور رضویہ سوسائٹی پر حملہ کردیا رحمان ملک کی شہ پر ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے میں ابتک سولہ کے قریب افراد شہید ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

ملاحظہ کریں:

- متعصب دی جی رینجر نے سترہ افراد شھید کردیے

اپڈیٹ: جان بحق ہونے والے 16 افراد میں سے 4 کا تعلق اہل تشیع سے تھا۔

16 افراد کو شیعہ شہداء کی فہرست میں لانے کی وجہ یہ تھی کہ راہنماؤں کا واحد ذریعہ مقامی ذرائع ابلاغ تھے جو مختلف قسم کی اطلاعات دے رہے تھے۔ حسن صادق صاحب کے بھتیحے کے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوسکا ہے تا ہم کہا گیا ہے کہ گویا شہید ان کے دور کے بھتیجے تھے۔