15 ستمبر 2010 - 19:30

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے خطہ جموں میں اہانتِ قرآن کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہے جس میں تمام فرزندانِ توحید بلا لحاظ مسلک و اعتقاد شریک ہو رہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کو کشمیر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق جموں مقامی سائنس کالج میں لداخ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طالب علم اکٹھا ہوئے اور انہوں نے ایک پر زور مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو ہدفِ ملامت بنایا۔ طلباءنے امریکہ میں قرآنِ کریم کی بے حرمتی کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا پونچھ قصبہ میںبدھ کے روز تیسرے دن بھی بغیر کسی ڈھیل کے کرفیو بدستور جاری ہے ۔واضح رہے کہ پیر کے روز پونچھ میں انتظامیہ نے اُس وقت کرفیو لگادیا تھا جب اہانتِ قرآن کے سِلسلہ میںاحتجاجی جلوس میںشامل لوگ تشدد پر اُتر آئے تھے۔مینڈھر واقعہ کے خلاف ضلع پونچھ کی منڈی اور راجوری میںزبردست احتجاج ہوا جس کہ دوران لوگ حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے مطالبہ کررہے تھے کہ ظُلم اور بربریت بند کی جائے ۔ تاہم ان احتجاجوں کے دوران کسی بھی کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔مینڈھر حادثہ کے بعد ضلع راجوری میںانتظامیہ نے سخت ترین حفاظتی انتظامات کردئیے ہیںتاکہ اس واقعہ کاردِ عمل اس ضلع میںنہ ہو۔ راجوری علاقہ میں اہانتِ قرآن اور مینڈھر میں ہونے والی بلا جواز ہلاکتوں کے خلاف بطورِ احتجاج ایک پر امن ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ گولی باری میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈی سی راجوری کے ساتھ ملاقات کے بعد مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔ مہور مہور کے علاقہ میں ہزاروں مسلمانوں نے ایک مظاہرہ کیا اور قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ تحصیلدار اور ڈی ایس پی کی وساطت سے پیش کردہ ایک یاداشت میں انہوں نے اس واقعہ میں ملوث افراد کو سزائے موت دئیے جانے کا مطالبہ کیا۔ بانہال مگر کوٹ اور رام سو کے مقامات پر ہزاروں فرزندانِ توحید نے احتجاج کیا جس دوران جموں سرینگر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔ پوگل، پرستان، مالیگام، اکھرہال، سربگنی، ساگن اور چکا سے آئے ہوئے لوگ امریکہ مخالف نعرے بلند کر رہے تھے۔

.........

/110

- قرآن کریم کی شان میں توہین پر مدرسہ فیضہ کے طلبہ کا احتجاج