اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،حزب اللہ لبنان نے امریکہ کی جانب سے نئی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن لبنان میں بدامنی پیدا کرنے اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حزب اللہ نے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ خارجہ کی جانب سے تنظیم کو دوبارہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کی مذمت کی اور اسے مزاحمت کو نشانہ بنانے کے لیے واشنگٹن کی مسلسل پالیسیوں کا حصہ قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے انخلا اور جارحیت روکنے پر مجبور کرنے کے بجائے لبنان میں بے چینی پیدا کرنے اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے راستے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حزب اللہ نے ایران کے ساتھ اپنے ’’برادرانہ تعلقات‘‘ کو باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے 2006 کی جنگ کے بعد لبنان کی تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کیا۔
حزب اللہ نے امریکہ کو دوسرے ممالک کے خلاف فیصلے صادر کرنے کا اخلاقی اور قانونی اختیار رکھنے سے بھی محروم قرار دیا اور ویتنام، افغانستان اور عراق میں امریکی اقدامات سمیت غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت اور ایران پر حملوں کا حوالہ دیا۔
بیان کے آخر میں حزب اللہ نے کہا کہ امریکی پابندیاں اور اس کی جانب سے عائد کی جانے والی درجہ بندیاں مزاحمت کو لبنان کی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع سے نہیں روک سکتیں۔ تنظیم کے مطابق مزاحمت لبنان کی تاریخ، حال اور مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے۔
آپ کا تبصرہ