اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ماسکو امریکہ اور ترکی سے یوکرین کو ممکنہ طور پر ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں وضاحت کا منتظر ہے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق ماریا زاخارووا نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی ان اطلاعات کی بنیاد امریکی کانگریس کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات ہیں، جن میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ ترکیہ کے پاس موجود بڑی مقدار میں امریکی ساختہ ہتھیار اور گولہ بارود یوکرین منتقل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روسی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر امریکی اور ترک حکام سے وضاحت طلب کی ہے اور ماسکو اب بھی واشنگٹن اور انقرہ کے جواب کا منتظر ہے۔
زاخارووا نے مزید کہا کہ روس یوکرین کو فوجی ہتھیار فراہم کرنے کے فن لینڈ کے اقدامات کا مناسب جواب دے گا۔ ان کے مطابق یوکرین کی سرحد عبور کرنے والے فن لینڈ کے ہتھیار روسی مسلح افواج کے لیے ’’جائز ہدف‘‘ بن جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہیلسنکی کی جانب سے کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دیا جائے گا۔ زاخارووا کے مطابق فن لینڈ نے 2022 سے اب تک یوکرین کو تقریباً 4.5 ارب یورو کی مالی اور مادی امداد فراہم کی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روس کے علاوہ کوئی دوسرا ملک یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
زاخارووا نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرین کو ایک خودمختار اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور کہا کہ مغرب کی یوکرین سے وابستگی مفادات پر مبنی ہے۔
زاخارووا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے پیمانے میں ممکنہ کمی کے حوالے سے کہا کہ اس فیصلے کی اصل وجوہات کی وضاحت صرف امریکی حکام ہی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ فوجی مشقیں بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونی چاہئیں، کسی ملک کے لیے خطرہ پیدا نہیں کرنا چاہئیں اور جارحانہ نوعیت کی نہیں ہونی چاہئیں۔
روسی ترجمان نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات جو خطے میں کشیدگی اور تصادم کے امکانات کو کم کریں، ان کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، تاہم امریکی فیصلے کے اصل محرکات جاننے کے لیے واشنگٹن سے وضاحت طلب کرنا ضروری ہے۔
آپ کا تبصرہ