9 ستمبر 2010 - 19:30

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی فوج کے زیر انتظام کرخ جیل سے القاعدہ کے چار قیدی فرار ہو گئے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ امریکیوں نے عراق میں دہشت گردی کو ہوادینے کی غرض سے ان دہشتگردوں کو فرار کرایا ہے۔

ان قیدیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انتہائی خطرناک ہیں۔ ان میں وہ قیدی بھی شامل ہیں جن کا دہشت گرد گروپوں سے تعلق رہا ہے۔ بغداد کی سکیورٹی کے ترجمان میجر جنرل قاسم کے مطابق بھاگنے والے قیدی القاعدہ کے سینئر رکن تھے۔انھوں نے کہا: ’ہمیں کچھ علم نہیں کہ کیا مفرور قیدی بغداد کی حدود سے باہر نکل گئے ہیں یا نہیں۔ ہم انھیں تلاش کر رہے ہیں۔ یہ چاروں قیدی خطرناک قیدی ہیں۔جنرل قاسم عطا کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدی امریکہ کی زیر انتظام جیل سے فرار ہوئے ہیںحکام ان کے فرار کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ انتہائی سکیورٹی کے باوجود فرار ہونے میں کیسے کامیاب ہوئے ہیں۔امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دو قیدی جیل سے فرار ہونے کی کوشش میں پکڑے گئے تھے جس کے بعد یہ چاروں افراد فرار ہو گئے ہیں۔ عراق میں حراستی آپریشنز کے لیے امریکی فوج کے ڈپٹی کمانڈنگ جنرل، میجر جنرل جیری کینن نے کہا ہے کہ امریکی فورسز، عراقی سکیورٹی فورسز اور وزارت انصاف مل کر جیل سے بھاگ جانے والے افراد کی گرفتاری کے لیے کام کررہے ہیں۔ امریکی سخت سکیورٹی سے القاعدہ کے قیدیوں کا فرار معمہ بن گیا ہے بعض مبصرین کا کہنا ہے امریکہ نے عراق میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے ان قیدیوں کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ امریکیوں کی جیلوں سے القاعدہ کے دہشت گردوں کی رہائی یا فرار کے بعد اس ملک میں دہشت گردانہ کاروائیوں کو فروغ ملتا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110