امریکہ نےافغان صدرحامد کرزئی کی جانب سے غیرملکی سیکورٹی کمپینوں کی سرگرمیاں بند کرنے کے لئے دی جانے والی ڈیڈلائن کو نامناسب قرار دیا ہے۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت جنگ کے ترجمان برایئن ویٹمین نے کہا ہےکہ حامد کرزئی نے مغربی سیکورٹی کمپنیوں کی سرگرمیاں روکنے کی جو چار مہینے کی مہلت دی ہے وہ نامناسب ہے۔امریکہ جس نے افغانستان میں اپنےایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات کر رکھے ہیں اس نے چالیس ہزار سے زیادہ سیکورٹی اہلکار بھی اس ملک میں بھیج رکھے ہیں جو نجی سیکورٹی کمپنیوں کے بھیس میں افغان عوام کےقتل میں مصروف ہیں۔ان سیکورٹی اہلکاروں میں سے پچیس ہزار امریکی فوجیوں کےلئے اور باقی دوسرے قابض ملکوں کے فوجیوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔افغانستان میں ان کےجرائم اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ افغان صدرحامد کرزئی نے منگل کے روز مغربی سیکورٹی کمپنیوں کو مہلت دی ہے کہ وہ چار مہینے میں اپنی سرگرمیاں بند کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نجی سیکوریٹی کمپنیاں ناامنی کی ذمہ دار ہیں۔افغان حکومت کے ترجمان نے صدر حامد کرزی کے دستخطوں سے جاری ایک حکم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکم کے بعد افغانستان میں سرگرم عمل تمام نجی سیکورٹی کمپنیوں پر پابندی عائد ہوجائیگی اور ان کو ختم کردیا جائیگا۔نجی سیکوریٹی کمپنیوں کا سلسلہ پہلے عراق میں شروع ہوا جہاں ان کمپنیوں نے اہم عمارتوں، شخصیات اور فوجی کاروائیوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی۔ عراق کے بعد افغانستان میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوا اور ان دونوں ملکوں میں نجی سیکورٹی کمپنیوں نے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا۔ حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ بیرونی نجی سیکورٹی کمپنیاں دن کے وقت راستے بند کرکے ڈاکہ زنی اور لوٹ مار میں مصروف رہتی ہیں اور راتوں کو دہشت بن کر حکومت اور عوام کے خلاف کاروائیاں کرتی ہیں۔
18 اکتوبر 2010 - 20:30
News ID: 199978
حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ بیرونی نجی سیکورٹی کمپنیاں دن کے وقت راستے بند کرکے ڈاکہ زنی اور لوٹ مار میں مصروف رہتی ہیں اور راتوں کو دہشت بن کر حکومت اور عوام کے خلاف کاروائیاں کرتی ہیں۔