18 اکتوبر 2010 - 20:30

اسکردو اور گانچھے میں گزشتہ روز لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے ،گلگت میں بھی سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

اسکردو کے نواحی گاؤں قمراں میں گزشتہ روز لینڈ سلائڈنگ کے باعث لقمہ اجل بننے والے42 میں سے پانچ افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں ،جبکہ سینتیس افراد کی لاشیں نکالنے کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔امداری کارروائیوں میں مقامی رضا کار سمیت ناردن اسکاؤٹس کے جوان بھی حصہ لے رہے ہیں ۔ضلع گانچھے کے گاؤں تالیس میں بھی اب تک پانچ افراد کی لاشیں نکالی گئیں دیگر افرادکی لاشیں نکالنے کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ادھر اسکردو کے بشو گاؤں میں لینڈ سلائڈنگ سے متعدد مکانات اور کھیتوں کو نقصان پہنچا جبکہ تین رابطہ پل بہہ گئے ہیں ۔دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے گلگت اسکردو روڈ سمیت متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں ۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لئے پانچ،پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے ایک ،ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔گلگت میں دریائے اسکردو سے آنے والے بڑے سیلاب کے باعث بونجی پل بہہ جانے کے بعدتاریخی شہر بونجی کا ملک بھرسے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ۔ گلگت کے علاقے رحیم آباد کے مقام پر برساتی نالے میں آنے والے سیلاب اور بھاری لینڈ سلائڈنگ کے باعث دریائے ہنزہ نگر کا بہاؤ مکمل طور پر رک گیا اور ایک جھیل بن گئی ہے۔رحیم آباد میں دریائے ہنزہ نگر کا بہاؤ رک جانے سے نومل، جوتل اور فیض آباد سمیت کئی علاقوں کو شدید خطرات کے پیش نظر انتظامیہ نے لوگوں کو علاقے خالی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔دریائے اسکردو سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کے باعث تھلیے چی آرسی سی پل کا ایک حصہ جھک گیا ہے ۔تھلیے چی پل کو نقصان پہنچنے سے ضلع استور کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ ہے ۔ادھر غذر سے آنے والا بڑا سیلابی ریلا کسی بھی وقت گلگت شہر سے گزرے گا،انتظامیہ نے ہائی الرٹ کا اعلان کردیا ہے۔

.......

/110