کوئٹہ میں ایرانی قونصل خانہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ بلوچستان سمیت ملک میں سیلاب سے ہونیوالے جانی ومالی نقصان پر افسوس ہے، ایرانی حکومت اورعوام پاکستان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ایک سوال کے جواب میں علی آریان نژادکا کہنا تھا کہ ایران کی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خارجہ پالیسی دوستی پر مبنی ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان خوشحال اور پرامن ملک کے طور پرترقی کرتارہے، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چار سال میں بلوچستان کے لئے ویزوں کی سہولت میں چار سو گنا اضافہ کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایرانی صوبہ بلوچستان و سیستان اورپاکستانی صوبہ بلوچستان کے گورنروں کے باہمی دوروں کے دونوں ملکوں اور بالخصوص دونوں صوبوں کے مابین تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ علی آریان نژاد نے کہا کہ پاکتسان کیلئے گیس پائپ لائن منصوبے پر تیزی سے عمل ہورہا ہے جبکہ پاکستان میں توانائی کا مسلہ حل کرنے کیلئے گیارہ سو میگا واٹ بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر دستخط کئے جاچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایران پر پابندیاں نئی نہیں بلکہ 30 سال پرانی ہیں جس کا ہم کوئی اثر نہیں پڑا ہے تاہم پاکستان سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پرایسی ہی مدد کرے گا جوایک بھائی دوسرے بھائی کی کرتا ہے ۔انہوں نے کہا پاک ایران سرحد پر پاکستان کی جانب سے حفاظتی اقدامات مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
......
/110