17 ستمبر 2010 - 19:30

ہر انقلاب کی سب سے بڑی فکرمندی اس انقلاب کے بانی کے وصال کے بعد کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔

ہر انقلاب عوامی مفادات کی خاطر بہت سی طاقتوں کو لامحالہ ناراض کرتا ہے اور ان طاقتوں کے ناجائز مفادات کو خطرے میں ڈال دیتا ہے چنانچہ ہر انقلاب کے متعدد دشمن بھی ہوتے ہیں اور ان دشمنوں کی روز اول سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس انقلاب کو نیست و نابود کردیں یا اس کو ہائی جیک کرکے اس کے اہداف و مقاصد کو انحراف سے دوچار کردیں اور ان کی یہ کوششیں انقلاب کے بانی کے ایام حیات میں بھی شدت و حدت کے ساتھ جاری رہتی ہیں تاہم ان کی امیدیں بانی انقلاب کے انتقال سے کچھ زیادہ ہی وابستہ ہوتی ہیں۔ ان کا عام طور پر خیال ہوتا ہے کہ بانی انقلاب کے انتقال کے بعد وہ انقلاب کو منحرف کرنے کی زیادہ اہم مواقع حاصل کرسکتے ہیں اور یہ بات ان کی صحیح بھی ہے اور تجربے سے بھی ثابت ہے کیونکہ دنیا کے کئے انقلابات اسی صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں چنانچہ انقلاب اسلامی کے سلسلے میں بھی ان کا یہ خیال سابقہ تجربات پر مبنی تھا چنانچہ انقلاب اسلامی کے قائد اور اسلامی جمہوری نظام کے بانی حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے وصال سے دنیا کی استکباری طاقتوں نے اپنی امیدیں وابستہ کررکھی تھیں۔ انقلاب اسلامی کے خاتمے کے لئے دشمنان اسلام نے طبس کے متروکہ ہوائی اڈے سے فوجی کاروائی سے لے کر فوجی بغاوت، ملک میں علیحدگی پسند تحریکیں شروع کرانے، انقلاب کے اہم قائدین اور بزرگوں کو قتل کرنے سے لے کر آٹھ سالہ جنگ تک جیسے مسائل کھڑے کئے گئے اور آٹھ سالہ جنگ کے فوراً بعد ـ جب ایران مختلف قسم کے معاشی اور سماجی مسائل میں گھرا ہوا تھا اور استکباری طاقتوں کی معاشی پابندیاں بدستور جاری تھیں نہایت حساس حالات میں 4 جون 1989 کو معمار انقلاب و اسلامی جمہوریہ حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کا وصال ہوگیا۔دشمنان اسلام جو انقلاب کے فوراً بعد کچھ ہی دنوں اور پھر کچھ ہی مہینوں میں اسلامی نظام کے خاتمے کی پیشین گوئی کررہے تھے اب سوچ رہے تھے کہ گویا امام کی عمر کا خاتمہ انقلاب اسلامی کے خاتمے کے مترادف ہے۔ ایسوشیٹڈ پریس نے امام رحمۃاللہ علیہ کی رحلت کے فوراً بعد لکھا: "امام خمینی کے جانے کے ساتھ ہی انقلاب اسلامی بھی اختتام کو پہنچا ہے"۔ لیکن یہ انقلاب امام رحمۃاللہ علیہ کے انفاس قدسیہ کے سائے میں کامیاب ہوا تھا اور امام (رح) جو اتنا بڑا انقلاب انسانوں کو تحفے کے طور پر دے گئے تھے، بخوبی جانتے تھے کہ اس انقلاب کی حفاظت کیونکر ہوسکتی ہے چنانچہ آپ نے دوراندیشانہ اقدام کرکے ولایت فقیہ کے نظریئے کا احیاء کیا اور اس کو آئین کا حصہ بنا کر دشمن کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے سے بالکل دور رکھا۔ چنانچہ ان کے بنائے ہوئے نظام نے انقلاب کا پرچم گرنے نہیں دیا اور گرنے نہیں دے گا۔مجلس خبرگان نے امام خمینی کی رحلت کے چند ہی گھنٹوں بعد آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو رہبر انقلاب اسلامی کے عنوان سے متعارف کرایا۔ کروڑوں انسان امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے جنازے میں شریک ہوئی اور نہ صرف ایرانی عوام بلکہ دنیا جہان کے مسلمانوں نے امام رحمۃاللہ علیہ کے وصال کی مناسبت سے مختلف قسم کی مجالس میں شرکت کی۔ ایران میں کروڑوں عوام نے امام رحمۃاللہ علیہ کے جنازے میں یک صدا ہو کر نعرہ لگایا کہ "اطاعت از خامنہ ای ، اطاعت از امام است" (خامنہ ای کی اطاعت امام (رح) کی اطاعت ہے) اور یوں نہ صرف مجلس خبرگان میں عوامی نمائندوں نے مطلق اکثریت سے آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو منتخب کیا تھا بلکہ عوام نے براہ راست بھی مجلس خبرگان کی بجا اور مناسب و شائستہ انتخاب کو سراہا۔ کسی بھی نظام میں قیادت کا کردار بنیادی ہوتا ہے چنانچہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہوسکتا۔ اسلامی جمہوری نظام میں قیادت کا کردار کلیدی اور اصولی ہے۔ اس نظام میں قائد یا رہبر کی شخصیت دین شناس، زمان شناس، فیصلہ کن اور متقی و پرہیزگار ہے۔ عدل و تقوی اس کی بنیادی خصوصیات ہیں اور عام زندگی میں زہد و معاشرے کے عام آدمی کی مانند زندگی بسر کرنا بھی اس کی صفات میں سے ہے۔ اسلامی نظام میں ملک کی عام پالیسیوں کا تعین رہبر انقلاب کے ذمے ہے اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے بقول "قیادت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے نہ حل ہونے والے مسائل اس کے ہاتھوں حل ہوجائیں؛ وہ لوگوں کے لئے حقائق واضح کرتا ہے اور دشمن کی سازشوں کو طشت از بام کردیتا ہے؛ لوگوں کو امید بخشتا ہے اور سازشیوں کے مقابلے میں انقلاب کی حیثیت، سالمیت اور کُلیَّت کا تحفظ کرتا ہے۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے دینی حوزات علمیہ میں نشوونما پائی اور زبردست خطیب و مصنف کے عنوان سے حوزہ علمیہ کی اساس سے اٹھے۔ اسلامی تحریک کے آغاز سے ہی امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے قریبی ساتھی اور سچے پیروکار تھے۔آیت اللہ العظمی خامنہ ای مختلف علمی شعبوں جیسے فقہ، تاریخ، کلام اور فارسی و عربی ادبیات، میں استاد کامل ہیں اور "امین" تخلص کرکے شاعری بھی کرتے ہیں۔ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے بارے میں فرمایا: "خامنہ ای را من بزرگش کردہ ام" (خامنہ ای کو میں نے ہی پروان چڑھایا ہے)۔اور ایک پیغام میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے مخاطب ہوکر فرمایا: میں جناب عالی کو اسلامی جمہوریہ کا طاقتور بازو سمجھتا ہوں اور آپ کو اس بھائی کی مانند سمجھتا ہوں جو کہ فقہی مسائل سے واقفیت رکھتے ہیں اور ان کے پابند ہیں اور ولایت فقیہ کی فقہی بنیادوں کی سنجیدگی سے حمایت و وکالت کرتے ہیں۔ دوستوں اور اسلام اور اصول اسلام کے پابند شخصیات کی درمیان نادر شخصیات مین سی هین اور سورج کی مانند چمک رهی هین".آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آٹھ سالہ جنگ کے دوران دفاعی حوالے سے زبردست کردار ادا کیا اور شہید ڈاکٹر چمران کے ساتھ مل کر عراقی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی بنیاد رکھی اور ابتدائی کاروائیوں میں براہ راست شرکت کرتے رہے اور انقلاب اسلامی کے بعد تشکیل پانے والی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو باقاعدہ فوجی خد و خال دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے آبادان کا محاصرہ توڑنے سے قبل سپاہ کی پہلی بریگیڈ تشکیل دی اور آئین کی تدوین کے لئے تشکیل یافتہ "مجلس خبرگان قانون اساسی" اور مجلس شورائے اسلامی کی رکنیت کے علاوہ مختلف اعلی سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور تہران کے پہلی امام جمعہ، مرحوم آیت اللہ محمود طالقانی کے انتقال کے بعد امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے آپ کو تہران کے امام جمعہ کے عنوان سے متعین فرمایا۔ 28 جون 1981 کو دشمنان اسلام کے کارندوں نے انقلابی شخصیات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے سلسلے کے ابتدائی مرحلے میں ہی آپ کو تہران کی "مسجد ابوذر" میں خطاب کے دوران بم دھماکے کا نشانہ بنایا جس میں آپ شدید زخمی ہوئے اور آپ کا ہاتھ بھی ناکارہ ہوگیا۔ اطباء نے کہا کہ ان کا واپس آنا معجزے سے کم نہ تھا؛ دوسرے روز یعنی 29 جون کو اس وقت کی جماعت "حزب جمہوری اسلامی" کے مرکزی دفتر میں دھماکہ ہوا اور آیت اللہ سید محمد حسینی بہشتی اور ان کے اکھتر دوسرے ساتھی شہید ہوئے اور 30 اگست 1981 کو صدر محمد علی رجائی اور وزیراعظم محمد جواد باہنر شہید ہوگئے اور اس دوران آیت اللہ العظمی خامنہ ای ہسپتال میں تھے اور امام خمینی رحمۃاللہ علیہ اور دیگر راہنماؤں کے اصرار پر آپ اگلے صدارتی انتخابات کے لئے نامزد ہوئے اور انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت کر اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے صدر کے عنوان سے حلف اٹھایا اور آٹھ سال تک صدارت کے عہدے پر فائز رہے، اس دوران صدر کی حیثیت سپریم ڈیفنس کونسل کے سربراہ بھی رہے اور تسلسل کے ساتھ محاذ جنگ پر حاضری دے کر مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ مختلف عہدوں پر فائز رہنے کی بنا پر اندرونی اور بین الاقوامی مسائل سے بخوبی واقف اور عوام کے ساتھ آپ کا بہت قریبی تعلق رہا۔  آیت اللہ خامنہ ای کہنہ مشق منتظم ہیں اور ان ہی تجربات اور علم و عمل کی اعلی سطح پر فائز تھے کہ مجلس خبرگان کے فقہاء نے قیادت کے لئے آپ کی اہلیت کشف کرلی اور آپ کی قیادت کا اعلان کیا اور آپ کے انتظامی کردار کا مختصر سا جائزہ بتاتا ہے کہ سفینہ انقلاب کے اس ناخدا نے گذشتہ 21 برسوں کے دوران اس کشتی کو  ساحل مقصود تک بڑھانے میں زبردست کردار ادا کیا ہے اور اس دوران آپ نے اندرونی فتنوں اور بیرونی سازشوں کا مؤثر انداز سے مقابلہ کیا اور انقلاب اور انقلاب و اسلامی ملک ایران کو عظیم ترین اندرونی اور بیرونی طوفانوں سے گذار کر سرمنزل مقصود کی طرف رواں دواں رکھا۔بہر صورت دشمنان اسلام کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا کہ امام رحمۃاللہ علیہ کے بعد سفینۂ انقلاب فتنوں اور سازشوں کے بھنور میں ڈوب جائے گا اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے نہ صرف امام رحمۃاللہ علیہ کے مشن کی حفاظت کی بلکہ اس مشن کو آگے بڑھایا اور دنیا میں اسلامی جمہوری نظام کا مقام اور اس کی منزلت کو زبردست ترقی دی اور ایران کو کسی بھی عالمی سازش میں نہیں پھنسنے دیا جبکہ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ نے اس علاقے میں انقلاب اسلامی کا راستہ روکنے اور ایران کو نرغے میں لینے اور اس پر حملہ کرنے کی نیت سے افغانستان اور عراق پر قبضہ کیا اور ایران کے ارد گرد کئی ممالک میں فوجی اڈے قائم کئے مگر رہبر معظم نے انقلاب کا سفر کانٹے دار راستوں کے درمیان اس طرح جاری رکھا کہ نہ صرف انقلاب کو کوئی نقصان نہ پہنچا بلکہ اس نے ترقی کی منازل یکے بعد دیگرے طے کیں اور آج علم و سائنس، ٹیکنالوجی اور طب و تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک کے زمرے میں آتا ہے اور یہ ملک جو آٹھ سالہ دفاع کے دوران راڈار کے ایک بلب کے لئے دوسرے ملکوں سے درخواست کرنی پڑ رہی تھی آج فوجی سازوسامان اور غذائی مواد اور ادویات کے شعبوں میں خودکفیل ہے اور دنیا کے اکثر ایٹمی قوتوں کے برعکس ایران کسی بھی ملک کی مدد و حمایت کے بغیر پرامن ایٹمی توانائی کے حصول میں کامیاب ہوچکا ہے اور غلات کی پیداوار میں تقریباً خودکفیل ہوچکا ہے۔ آج یہ بات کسی سے بھی مخفی نہیں ہے کہ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام خمینی (رح) کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ہے اور ان کی کیاست اور دور اندیشی نے ایران کو ممتاز عالمی حیثیت دی ہے۔ ویسے تو مکتب تشیع کلی طور پر ظلم کے خلاف دائمی و ابدی احتجاج کرنے والا مکتب اور دشمن شناسی میں منفرد ہے مگر دشمن شناسی کے سلسلے میں امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے بعد آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کردار قابل تحسین ہے۔گذشتہ اکیس برسوں کے دوران ـ خاص طور پر دسویں صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہونے والی مغربی فتنہ انگیزیوں کے بعد ـ دشمن اور دشمن کی سازشوں اور منصوبوں کا صحیح اندازہ کرنا، اجنبی قوتوں سے وابستہ اندرونی گروپوں کو صحیح طور پر پہچاننا اور بیرونی اور اندرونی سازشوں کا صحیح اندازہ لگانا رہبر انقلاب اسلامی کی ممتاز خصوصیت ہے۔ آپ دشمن کی سازش کا بروقت اندازہ لگا کر اس کا سد باب کرتے ہیں۔ ایک باخبر شخصیت کا کہنا تھا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی اکیس سالہ قیادت کے دوران ایران کو دس سے بھی زائد مرتبہ اسلامی جمہوریہ ایران کو عالمی سازشوں سے نج