17 ستمبر 2010 - 19:30

حضرت آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی نے ذرائع ابلاغ کے شعبے میں دینی طلاب و فضلاء کی فعالیت کی ضرورت پر تأکید کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے دنیا میں ذرائع ابلاغ کے تنوع اور تعدد اور اسلام و مکتب اہل بیت (ع) کی ترویج و تبلیغ کے لئے نئے زمانے کے جدید ذرائع ابلاغ میں دینی طلاب و فضلاء کی فعالیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں اسلام اور مکتب اہل بیت (ع) کی ترویج و ترقی کے لئے آج کے زمانے کے تمام وسائل اور ذرائع سے استفادہ کرنا چاہئے، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام ذرائع اور وسائل کے حصول کو یقینی بنائیں اور ایسا نہ ہو کہ ہمارے مخالفین ان وسائل کو ہمارے خلاف استعمال کریں اور ہم ان سے محروم ہوں۔ انھوں نے حال ہی میں قائم ہونے والے ولایت سیٹلائٹ چینل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سیٹلائٹ ٹی وی ان وسائل میں سے ہے جس سے اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لئے استفادہ کیا جاسکتا ہے اور ولایت سیٹلائٹ چینل ـ جو حوزہ علمیہ کے بزرگوں اور فضلاء کی ہمت سے قائم ہوا ہے، بہت قابل قدر و تحسین کاوش ہے۔ حضرت آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: کوئی وجہ نہیں کہ یہ وسائل دوسروں کے ہاتھ میں ہوں اور ہم ان سے محروم ہوں۔ اس مرجع تقلید نے علماء اور طلاب سے مخاطب ہوکر فرمایا: دنیا کے حالات دینی تعلیمات کے فروغ کے لئے بالکل مناسب ہیں اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں بے شمار سماعتین اسلام اور مکتب اہل بیت (ع) کا پیغام سننے کے لئے تیار ہیں اور اس میں شک نہیں ہے کہ یہ صورت حال ایران کے اسلامی انقلاب اور لبنانی حزب اللہ اور عراق سمیت دیگر اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور دنیا کے لوگ آج اسلام کا پیغام پورے اشتیاق سے سننا چاہتے ہیں؛ گو کہ شاید بہت سے شیعہ اور مسلمان اس پیغام کو سنیں یا نہ سنیں لیکن دنیا میں یہ پیغام سننے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: ہمیں آج کے ان مناسب حالات کی قدردانی کرنی چاہئے اور ان مواقع سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مواقع شاید ہمیشہ کے لئے فراہم نہ ہوں۔ حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے ٹی وی اور فن و ہنر کے دیگر شعبوں میں طلاب کے کردار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: تصویری ذرائع بہت زیادہ مؤثر ہیں لہذا ہمیں ان ذرائع سے بھی مثبت انداز میں استفادہ کرنا چاہئے اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو بھی علماء اور فضلاء کے وجود سے استفادہ کرنا چاہئے۔

...........

/110