منوچہرمتکی نے سلامتی کونسل کے رکن ملکوں کے نام الگ الگ خطوط ارسال کرکے قرارداد 1929کے بانیوں پرشدید تنقید کرتے ہوئے باقی رکن ملکوں کی طرف سے اس قرارداد کی حمایت کوافسوس ناک قراردیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ساتھ ہی برزیل اورترکی کے وزراء خارجہ کو خطوط ارسال کرکے چند مخصوص ملکوں کے سیاسی دباؤ کے مقابلے میں ان دونوں ممالک کی استقامت وپائمردی کی تعریف کی ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اسی طرح اپنے ان خطوط میں قرارداد 1929 کے بارے میں ایران کے اصولی موقف کا بھی اعلان کیا ۔ وزیرخارجہ اپنے تنقیدی خط میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت جب تہران ڈکلریشن نے باہمی تعاون کے آغازکا ایک بہترین موقع فراہم کردیا تھا سلامتی کونسل کے غیرمنطقی اقدام نے یہ ثابت کردیا کہ مغربی ممالک بات چیت اورتعاون پریقین نہيں رکھتے ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے اس خط میں لکھا کہ سلامتی کونسل نے جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ کاروان آزادی پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے کا جائزہ لیتی مگراس نے عالمی برادری کی توقعات کے برخلاف ایسے موضوع پراپنی توجہ مرکوزکردی جس کے لئےنہ تو کوئی جلدی تھی اورنہ ہی جس سے عالمی امن کوخطرہ لاحق تھا ۔وزیرخارجہ منوچہرمتکی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی پروگرام کوپرامن قراردیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی قرارداد پاس کرنے سے نہ صرف یہ کہ ایران کے عوام کے عزم وارادے میں کوئي خلل ایجاد نہيں ہوگا بلکہ بلکہ پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی ٹکنالوجی کے حصول کے لئے ملت ایران کے ارادے اوربھی مستحکم ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔
/110