ان میں فاسفورس، کیلشیم اور زنک کی بھی انتہائی کمی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں میں سانس کی خطرناک بیماریاں پھیل چکی ہیں۔غزہ میں جاری ایک ورکشاپ میں کی جانے والی سٹڈی کے مطابق بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے بچے کام کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس دوران صہیونی فوجیوں کے حملے اور بمباری بھی جاری رہتی ہے خاص طور پر سرحدی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔اس سب صورتحال سے غزہ کے بچوں پر بڑا برا نفسیاتی اثر پڑا ہے۔ واضح رہے کہ یہ سٹڈی اٹلی کی انسانی تنظیم کے تعاون سے غزہ کے بچوں کے نفسیاتی مدد کے پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے اختتام پر کی گئی تھی۔میڈیکل ریلیف کے ڈائریکٹر عدنان الوحیدی نے کہا کہ ’’ منصوبے کا ہدف غزہ کے بچوں کی صحت اور نفسیاتی حالت کو درست کرنا ہے کیونکہ یہ بچے اسرائیلی محاصرے اور غربت کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی وجہ سے کنڈر گارڈن میں پڑھنے والے بچوں کی صحت بہتر ہوئی ہے۔ اسی طرح ناقص غذا کی مشکلات میں بھی کمی آئی ہے۔ اس منصوبے میں انیمیا اور دیگر بیماریوں میں مبتلا بچوں کے خاندانوں کی بھی مدد کی جا رہی ہے۔وحیدی نے کہا کہ اب تک چار ہزار بچوں اور چھ ہزار خاندانوں کی مدد کی جا چکی ہے۔ جس میں خوراک کی کمی کے شکار بچوں کو آئرن کا فوڈ سپلیمنٹ فراہم کیا گیا۔
....
/110