17 اگست 2010 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ روس ہوشیار رہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے ساتھ نہ مل بیٹھے۔

صدر جناب احمدی نژاد نے آج استنبول میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ ہم روس کے ہمسایہ ہیں اور فطری طورپر دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور تعاون ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب انتخاب خود روسی حکام کے ہاتھ میں ہے ہم ہرحالت میں مذاکرات کریں گے اور گفتگو موثر بھی واقع ہوتی ہے۔ صدرجناب احمدی نژاد نے اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے تعلقات کو دوستانہ قراردیا اور کہا کہ دونوں قوموں کے مابین بھی دوستی اور ایمانی رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے مابین اقتصادی، ثقافتی ، انرجی، سرمایہ کاری، صنعت سیاحت اور سیاسی شعبوں میں تیزی سے تعلقات آگے بڑھ رہےہیں۔ صدر جناب احمدی نژاد نے اس پریس کانفرنس میں غزہ امدادی کارواں پرصہیونی ریاست کے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ صہیونی ریاست کے اس جرم سے اس کے زوال کی الٹی گنتی شروع ہوگئي ہے اور اس سے معلوم ہوگیا کہ علاقائي قوموں کے نزدیک اس کا کوئي مقام نہیں ہے اور کوئي بھی قوم صہیونی ریاست کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔قابل ذکرہے ڈاکٹر احمدی نژاد نے پیر کی رات استنبول میں غزہ امدادی کارواں پرصہیونی ریاست کے حملوں میں زخمی ہونے والے بعض افراد سے ملاقات کی۔ انہوں نے ان امن کارکنوں کے اقدام کو تاریخي اقدام قراردیا اور کہا کہ گذشتہ چھے دھائيوں میں ان کے اقدام کی کوئي مثال نہیں ملتی ہے۔صدر جناب احمدی نژاد نے استنبول کی مسجد ابو ایوب انصاری میں نمازیوں اور امام جمعہ سے بھی ملاقات کی ۔اس مسجد میں جب صدر احمدی نژادتشریف لے گئےتو سیکڑوں نمازیوں نے انہيں اپنے حلقے میں لیکر اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ نمازیوں نے امریکہ اور صہیونی ریاست کےخلاف بھی نعرے لگائے۔

.........

/110