17 اگست 2010 - 19:30

غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لئے امداد لےکرجانے والے6 جہازوں پر مشتمل قافلے صہیونی بحریہ کے کمانڈوزنے حملہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے حامی 20 امدادی کارکنان شہید اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے ایک معروف صحافی طلعت حسین بھی اس قافلے میں شامل تھے. جن کے بارے میں ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے. امدادی قافلے پر صہیونی فوج کے حملے کی خبرسنتے ہی ہزاروں ترک شہریوں نے پیر کی صبح انقرہ میں صہیونی ریاست کے سفارتخانے پر حملہ کردیا جبکہ انقرہ میں ترک وزارت خارجہ نے صہیونی سفیر کو طلب کرکے ان سے صہیونی فوج کی ظالمانہ کارروائِی پر سخت احتجاج کیا ہے۔ترک این ٹی وی نے بتایا کہ صہیونی بحریہ نے امدادی قافلے میں شامل ایک جہاز پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ سی این این ترکی نے بھی امدادی قافلے پرحملے اور اس میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔امدادی قافلے میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے سات سو کارکنان اور رضاکارشامل ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ صہیونی فوج نے صرف ایک امدادی جہاز پر حملہ کیا ہے اور اسی پر جھڑپیں ہوئی ہیں یا دوسرے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔صہیونی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں دس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں چارصہیونی فوجی بھی شامل ہیں۔صہیونی فوج نے امدادی قافلے پر حملے کے بعد شہید اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات میڈیا کو جاری کرنے پر پابندی لگادی ہے جس کی وجہ سے صہیونی فوج کی جارحانہ کارروائی کا نشانہ بننے والے امدادی کارکنان کے بارے میں درست تصویر دنیا کے سامنے نہیں آرہی ہے۔ترکی کی وزرات خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی قافلے پر حملے کے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے ناقابل تلافی مضمرات ہوں گے۔ ترک وزارت خارجہ نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ”ہم صہیونی فوج کی غیر انسانی کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں”۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کھلے پانیوں میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے لیے ناقابل تلافی مضمرات ہوسکتے ہیں۔ایک ترک سفارت کار کے مطابق اس سے پہلے انقرہ میں صہیونی سفیر گیبی لیوی کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے ان سے واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ترک سفارت کار کا کہنا ہے کہ ہم نے صہیونی سفیر کو اپنا سخت ردعمل پہنچا دیا ہے۔درایں اثناء ترکی کے نائب وزیراعظم بلند آرنچ نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی قافلے پرصہیونی فوج کے حملے کے بعد پیداہونے والی صورت حال پرغور کے لیے سنئیر حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں اناطولیہ خبرایجنسی کے مطابق وزیرداخلہ ،بحریہ کے سربراہ اور آرمی کے ہیڈآف آپریشنز شرکت کررہے ہیں۔ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان اس وقت چلّی کے دورے پرہیں اور آرنچ نگران سربراہ کے طورپرملکی امور چلا رہے ہیں۔ترک پولیس نے انقرہ میں صہیونی سفیر کی رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی سخت کردی ہے۔ٹیلی وژن چینلز کی فوٹیج کے مطابق صہیونی فوج کے امدادی قافلے پر حملے کے بعد سیکڑوں ترک شہری احتجاج کرتے ہوئے انقرہ اوراستنبول کی سڑکوں پر نکل آئے تھے اورانہوں نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے صہیونی ظالمانہ کارروائی کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ادھر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بھی امدادی قافلے پر حملےکی خبرپہنچتے ہی سیکڑوں فلسطینی صہیونی ریاست کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئے۔انہوں نے قابض فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔یاد رہے کہ مقبوضہ فلسطین کی تحریک اسلامی کے سربراہ شیخ رائد صلاح بھی اس امدادی قافلے کے ساتھ محوسفرہیں،انہیں صہیونی حملے میں شدید زخم آئے ہیں۔شیخ صلاح مقبوضہ عرب علاقوں میں ایک مقبول عوامی اور اسلامی رہنما ہیں۔

.........

/110

بشکریہ از برادر عباس بخاری