"اسلام ناب" نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق تکفیری ذہنیت کے حامل اس شخص نے محض اس بنا پر کہ اس کی بیٹی نے مبینہ طور پر مکتب تشیع سے متعلق کتاب پڑھی تھی مدینہ منورہ میں واقع اسلامی تعلیمات سے وابستہ کالج کے مرکزی دروازے پر بری طرح سے زد و کوب کیا۔
اطلاعات کے مطابق لڑکی موقع پاکر بھاگ نکلی لیکن اس شقی القلب باپ نے اپنی گاڑی کے ذریعے اسے کچل کر رکھ دیا۔
اطلاعات کے مطابق لڑکی کو انتہائي زخمی حالت میں ریاض کے ایک اسپتال میں منتقل کردیا گيا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اس قبل بھی ایک انتہا پسند سعودی شہری نے اپنے بیٹے کو شیعہ ہونے اور ایک اور وہابی نے اپنی بہن کو سید حسن نصراللہ کی مداح ہونے کی پاداش میں قتل کردیا تھا ۔
وہابیوں کی یہ سختگیریاں دیکھ کر قرون وسطی کی کلیسائی بربریت کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جہاں غیرعیسائی عقائد کا مطالعہ بھی ناقابل معافی جرم تھا اور اگر کوئی کلیسائی افکار کے برعکس کسی اور طرح سوچنے کی جرأت کرتا تو اسے پہلے اعتقادی تفتیش (Ideological Inquisition) کے بدنام زمانہ تفتیشیوں کے حوالے کیا جاتا اور آخرکار گیوتین کے ذریعے ان کا سر تن سے جدا کیا جاتا تا کہ کوئی بھی شخص قرون وسطائی عیسائیت سے مختلف سوچ اپنانے کی جرأت تک نہ کرسکے تاہم، ہم یہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اپنی سختگیری اور تشدد پسندی کے نتیجے میں آج عیسائیت صرف گرجاگھروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
.....
/110
بشکریه از ریڈیو تہران
