اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حوزات علمیہ کے سربراہ آیت اللہ مرتضی مقتدائی نے مازندران صوبے کے 52 شہید طلبہ کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کلاردشت شہر کے "مدرسۂ علمیہ امام علی علیہ السلام" میں طلاب اور فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلامی ایران کے شہداء کا پاک خون تھا جس نے اسلام اور انقلاب کے لئے عالمی عظمت کے اسباب فراہم کئے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے بڑے ہوائی اڈوں میں مساجد تعمیر کی جارہی ہیں اور نماز باجماعت کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا: جیسا کہ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا تھا "شہداء کی یاد کے لئے تقریبات کا انعقاد ایک ثقافت ہے اور علماء اور دینی فضلاء جنہوں نے جام شہادت نوش کیا ہے درحقیقت اگلے محاذوں پر اسلام اور تشیع کی تبلیغ کے درپے تھے۔ انھوں نے کہا: علماء عوام کی ہدایت و ارشاد کے مسند پر رونق افروز ہیں اور ہمارا نظام ایک اسلامی اور ولائی نظام ہے اور عوام متحد اور امام رحمۃاللہ علیہ اور ولایت فقیہ کے تابع ہیں۔ انھوں نے کہا: آج علماء کو اسلام اور اسلامی ممالک کے دفاع کی اگلی صف میں کردار ادا کرنا چاہئے اور آج تک بھی ایسا ہی ہے اور باطل کے خلاف حق کے محاذ میں ان عزیز فضلاء کی حاضری اسی حقیقت کی دلیل ہے کہ علماء نے سپاہیوں کے دوش بدوش اسلام اور اسلامی سرزمین کے دفاع میں کردار ادا کیا ہے۔ حوزات علمیہ کے سربراہ نے کہا: اسلام آج کی دنیا میں محور بن چکا ہے اور تشیع کو فروغ حاصل ہوا ہے اور اسلام کی طرف رجحان نے یورپ کو وحشت زدہ کردیا ہے اور یہ سب اسلامی انقلاب کی برکتیں ہیں۔ انھوں نے کہا: شہید علماء کا ہدف مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا تھا اور ہمیں بھی وحدت و اتحاد کا تحفظ کرنا چاہئے کیونکہ اتحاد کے ذریعے ہی ولایت فقیہ کی پشت پناہی ممکن ہوسکتی ہے۔ انھوں نے اسلامی ممالک میں خواتین کے حجاب اور عوام کی پاکدامنی کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حجاب و پاکدامنی کو بہر صورت ملحوظ رکھنا چاہئے اور اسلامی ممالک کا چہرہ اسلامی ہونا چاہئے یہی مسلم عوام کا بھی مطالبہ ہے اور یہی ولی فقیہ کی بھی خواہش ہے۔انھوں نے مغربی دنیا کی طرف سے دنیائے اسلام پر مسلط کی ہوئی نرم جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: علماء دشمن کی طرف سے مسلط کی ہوئی نرم جنگ کے اگلے محاذ پر تعینات ہیں جبکہ جنگ کے دوران علماء نے محاذ جنگ میں حاضر ہوکر اپنے فرائض پر علمدرآمد کیا مگر آج ان کی ذمہ داریاں بالکل مختلف ہیں۔انھوں نے کہا: آپ (علماء اور فضلاء) ہی ہیں جنہیں تبلیغ اور عوام کی ہدایت و راہنمائی کرکے مختلف دشمن ثقافتوں کے تسلط کا راستہ روکنا اور اسلامی سرزمینوں میں دشمن کی دراندازی کا سد باب کرنا ہے۔آیت اللہ مقتدائی نے کہا: آج اسلامی ایران کو دنیا میں نہایت اہم اور قابل قدر مقام و منزلت حاصل ہے اور ہمیں اس مقام و منزلت کے تحفظ اور اثبات کے لئے کوشش کرنی ہے۔ آیت اللہ مقتدائی نے کہا: جیسا کہ امام خمینی رحمةاللہ علیہ نے فرمایا: ہمیں اپنی اقدار اور اعتقادات کو بآسانی ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے بلکہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ نوجوانوں میں اسلامی تربیت کے مسئلے کو باقاعدہ بنائیں۔................/110
17 جولائی 2010 - 19:30
News ID: 189083
ایران کے حوزات علمیہ کے سربراہ نے کہا: آج اسلام دنیا میں محور بن گیا ہے اور اسلام کی طرف رجحان اور اسلام کے فروغ نے یورپ کو خوفزدہ کردیا ہے۔