بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پیوتن روس میں طاقت کے خلا کا نتیجہ نہیں تھے؛ وہ ایک دہائی کی شکست، ذلت اور انتشار کے بطن سے ابھرے۔ گروزنی کے کھنڈرات سے وایماری فکر کی پیدائش تک، روس ایک "آہنی مکّے والے نجات دہندہ" کے ظہور کے لئے کیونکر تیار ہؤا؟
اگر سوویت یونین کی شکست و ریخت اور 1990 کی دہائی کی سفارتی پیش رفتوں نے روس کو بین الاقوامی سطح پر پسپائی اور بے عملی کی بے مثال صورت حال میں دھکیل دیا تھا، تو چیچنیا کی پہلی جنگ نے واضح کیا کہ یہ بحران ملک کے فوجی اور سیکیورٹی ڈھانچے کے اندر کتنی گہرائیوں تک رسوخ کر چکا ہے۔
سوویت فوج، جو کبھی عالمی طاقت کے توازن کے اہم ستونوں میں سے ایک تھی، اب چیچن باغیوں کے سامنے بھاری شکستوں کا سامنا کر رہی تھی اور مرکزی حکومت کو اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ میں بھی دشواری پیش آ رہی تھی۔
اس تجربے نے، پچھلے سالوں کی سیاسی اور جغرافیائی-سیاسی ذلتوں کے ساتھ مل کر، روسی معاشرے میں ایک بنیادی سوال کی تشکیل کا ماحول فراہم کیا: جو ملک ایسی تاریخی پس منظر اور فوجی طاقت کا مالک ہو، وہ کمزوری اور بے اعتباری کے اس مرحلے تک کیسے پہنچا ہے؟
روسی اشرافیہ میں سے کچھ لوگوں کی طرف سے اس سوال کا جواب، مغرب نواز اقتصادی اور سیاسی اصلاحات میں نہیں، بلکہ قومی طاقت کی طرف واپسی، تہذیبی شناخت کی بحالی اور عالمی نظام میں روس کے مقام کی از سر نو تعریف (اور تعمیر) میں تلاش کیا جاتا تھا۔
اسی پس منظر میں 1990 کی دہائی کی تذلیل و تحقیر پر فکری اور نظریاتی ردعمل تشکیل پایا اور ایسی افکار سامنے آئے جو بعد میں نئے روس کی تشکیل اور ولادیمیر پیوتن جیسے مضبوط سیاستدان کے ظہور میں اہمیت اختیار کر گئے۔
گروزنی کی دلدل؛ پہلی چیچن جنگ میں سرخ فوج کی تذلیل
اس سے پہلے کہ قفقاز میں پہلی گولی بھی چلے، 30 لاکھ سے زائد اہلکاروں، سمندری بیڑوں اور ہزاروں ایٹمی وار ہیڈز پر مشتمل فوج عظیم فوج کی روح روزمرہ کی تذلیل ذلت کے بوجھ تلے توڑی مروڑی جا چکی تھی؛ ایسی فوج جس کے اعلیٰ افسران اور ماہر ہواباز مہینوں تنخواہ نہیں لے پا رہے تھے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے سرخ فوج کے فوجی ہیلمٹ، نائٹ وژن کیمرے اور غوطہ خوری کی گھڑیاں ماسکو کے فٹ پاتھوں پر مغربی سیاحوں کو بیچ رہے تھے۔ اس مہلک نفسیاتی صدمے نے دسمبر 1994 میں روس کے فوجی غرور پر آخری گولی چلانے کی راہ ہموار کر دی: چیچنیا کی جنگ کا آغاز۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ