بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ فرمان ایک وقتی-تدبیری دھمکی نہیں بلکہ یہ ایک "نظریئے یا ڈاکٹرائن" کا اعلان ہے۔ ایسا نظریہ جو بازداری (تسدید یا ڈیٹرنس) کو کسی بھی مسلط کردہ جنگ کا سد باب کرنے کے روایتی مفہوم کو عبور کرکے، جنگ شروع ہونے کے بعد، اس کا انجام کنٹرول اور متعین کرنے کی طرف منتقل کرتا ہے۔
دوسرا حصہ:
خاتمۂ جنگ کا وقت اور شرائط ایران کے ہاتھ میں
شاید تزویراتی کے لحاظ سے اس فرمان کا سب سے اہم حصہ وہ جملہ ہے جو کہتا ہے کہ "اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ حملے شروع کریں، تو یہ ایران کی مسلح افواج اور ایرانی قوم ہیں جو اس کے خاتمے کا وقت اور شرائط طے کریں گی۔"
واشنگٹن اور تل ابیب کے لئے یہ جملہ اس واضح پیغام پر حامل ہے: "تم جو بھی جنگ شروع کرو گے، اس کا خاتمہ تمہارے اختیار میں نہیں ہوگا۔"
یہ بالکل وہ نقطہ ہے جو ایران کے بازداری (ڈیٹرنس) کے نظریئے کو کلاسیکی بازداری سے الگ کرتا ہے۔ کلاسیکی بازداری میں، مقصود دشمن کی طرف سے جنگ کا سد باب کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اس نئے نظریئے میں، ایران اعلان کرتا ہے کہ "اگر جنگ مسلط کی گئی تو روایتی فوجی فتح مقصود نہیں ہے؛ بلکہ مقصود دشمن پر ایسا نقصان [اور ایسی لاگت] مسلط کرنا ہے جو مخالف فریق کو ایسی حالات میں رک جانے اور گھر جانے پر مجبور کرے جو ایران نے طے کئے ہونگے۔
یہی وہ منطق ہے جسے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے اس مختصر سے جملے میں بیان کیا: "ہم امریکہ کے سینگ توڑ دیں گے۔"
فوری اور مؤثر ردعمل، آپریشنل ضرورت کے طور پر
رہبر معظم نے اپنے فرمان میں جواب کو 'جارحیت کے آغاز کی تصدیق' سے مشروط نہیں کیا۔ "فوری اور مؤثر" کے معنی یہ ہیں کہ ایران کی مسلح افواج کو اس سطح پر تیار ہونا چاہئے کہ خطرے اور جواب کے درمیان وقت کا فاصلہ کم از کم ہو۔
یہ تقاضا کچھ مخصوص پیشگی آپریشنل شرطوں پر استوار ہے جن پر رہبر انقلاب اسلامی نے اسی اجلاس میں تاکید فرمائی:
1۔ فوجی انٹیلی جنس کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا: درست اور تازہ معلومات کے بغیر فوری جوابی اقدام عملی طور پر ناممکن ہے۔
2۔ نظریئے (Doctrine) اور تدبیر (Tactic) دونوں شعبوں میں مقامی دفاع کی گہرائی: اس کا مطلب یہ ہے کہ 'تبدیلی' صرف اس سطح پر نہیں کہ 'ہم کیسے لڑتے ہیں'، بلکہ اس سطح پر بھی کہ 'ہم میدان عمل میں کس اوزار سے، کام کرتے ہیں۔'
3۔ ٹارگٹ بینک کی تازہ کاری (Updating): رہبر معظم نے واضح طور پر فرمان جاری کیا ہے کہ اہداف کی فہرست اس طرح سے تازہ کی جائے کہ امریکی-صہیونی دشمن کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثے ایران کی مسلح افواج کی دسترس میں ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: اردشیر زابلی زادہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ