3 نومبر 2026 - 18:53
حصۂ سوئم | کلاسیکی ڈيٹرنس سے گہرائیوں میں مقابلے کے نظریئے تک

ایسے حال میں کہ واشنگٹن اور تل ابیب حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی آپشنز میز پر رکھنے کے دعوے کر رہے ہیں، رہبر انقلاب اسلامی، آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے مسلح افواج کے سینئر کمانڈروں کے لئے اپنی ہدایات میں، ایک مرکزی نقطے پر ملکی فوجی ڈاکٹرائن کی تعریف نو کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا دہشت گردانہ جارحیت سے "فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے ما وراء" جواب کے ساتھ، نمٹا جائے گا، اور یہ ایران ہی ہے جو کسی بھی نئی جنگ کے خاتمے کا وقت اور شرائط طے کرے گا۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ فرمان ایک وقتی-تدبیری دھمکی نہیں بلکہ یہ ایک "نظریئے یا ڈاکٹرائن" کا اعلان ہے۔ ایسا نظریہ جو بازداری (تسدید یا ڈیٹرنس) کو کسی بھی مسلط کردہ جنگ کا سد باب کرنے کے روایتی مفہوم کو عبور کرکے، جنگ شروع ہونے کے بعد، اس کا انجام کنٹرول اور متعین کرنے کی طرف منتقل کرتا ہے۔

وہ پس منظر جس میں یہ فرمان جاری ہؤا

یہ فرمان ایسے حالات میں جاری ہؤا جہاں بیک وقت پیش آمدہ کئی واقعات نے تزویراتی ماحول تشکیل دیا ہے:

1۔ امریکی دھمکی: رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ درمیانی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر اور شدید فوجی حملوں پر غور کر رہی ہے۔ کیوبائی نژاد امریکی وزیر خارجہ، مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن فوجی آپشن میز پر ہے۔

2۔ بیک وقت سفارتی کوشش: قطر جنگ روکنے کے لئے ثالثی کر رہا ہے اور ایران نے بھی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ذریعے امریکہ کو پیغامات بھیجے ہیں۔ یہ فوجی فرمان درحقیقت سفارت کاری کی حمایت کے لئے ڈیٹرنس کی چھتری ہے۔

3۔ پچھلی جنگ کا تجربہ: رہبر معظم کا "جنگ کے خاتمے کی شرائط طے کرنے" کا حوالہ ـ اور بین الاقوامی میڈیا کا ـ پچھلی جنگ میں اسرائیل اور امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل اور ڈرون سے جوابی کاروائیوں کے تجربے کا ـ حوالہ واضح کر دیتا ہے کہ یہ نظریہ عملی تجربے کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے۔

پڑوسیوں کو پیغام اور ابلاغیاتی جہتیں

اگرچہ اس فرمان کا بنیادی خطاب واشنگٹن اور تل ابیب سے ہے، لیکن "جغرافیائی حدود سے ماوراء" کا جملہ پڑوسی ممالک کے لئے بھی ایک ضمنی پیغام کا حامل ہے: "کوئی بھی ملک جو اپنی جغرافیائی، انٹیلی جنس یا لاجسٹک سہولیات ایران کے خلاف جارحیت کے لئے فراہم کرے، وہ ایران کے جواب کے دائرے سے باہر رہنے کی توقع نہیں کر سکتا۔" یہ انتباہ خاص طور پر خلیج فارس کی ان ریاستوں کے لئے اہم ہے جو امریکی اڈوں کی میزبانی کرتی ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے نقطۂ نظر سے، ـ فنانشل ٹائمز اور ایکسیوس سے لے کر ٹائمز آف اسرائیل اور سی بی ایس تک ـ مغربی ذرائع ابلاغ میں اس فرمان کی وسیع اشاعت سے عیاں ہوتا ہے کہ اس پیغام کو 'ایک تزویراتی موقف کے اعلان' کے طور پر سمجھا گیا ہے نہ کہ تدبیر اور ٹیکٹیکل رائے کے طور پر۔

 یہ بذات خود ادراکی (Cognitive Warfare) میں ایک بڑی کامیابی ہے: "ایران نے ایک گولی چلائے بغیر عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنے دفاعی نظریئے کی طرف مبذول کرا دی ہے اور کسی بھی حملے کی ادراکی لاگت بڑھانے میں کامیاب رہا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: اردشیر زابلی زادہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha