2 نومبر 2026 - 16:51
آیت اللہ معتوق: محاذِ مزاحمت آج طاقت اور کامیابی کی پوزیشن میں ہے؛ امام خامنہ ای کی شہادت سید الشہداءؑ کے راستے کا تسلسل تھی

آیت اللہ شیخ حسین عبداللہ معتوق نے کہا ہے کہ محاذِ مزاحمت آج پیش قدمی اور کامیابی کی پوزیشن میں کھڑا ہے اور خطے کی اقوام کی حیثیت ماضی کے مقابلے میں یکسر بدل چکی ہے۔ انہوں نے امام خامنہ ای کی شہادت کو امام حسینؑ اور امیرالمؤمنینؑ کے مکتب کا فطری تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی شخصیت میں حضرت علیؑ کی شجاعت اور امام حسینؑ کی قربانی و دفاع کا جذبہ نمایاں تھا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آیت اللہ حاج شیخ حسین عبداللہ معتوق کی علمی، عملی اور دینی خدمات، اہل بیتؑ کی تعلیمات کے فروغ اور برسوں کی جدوجہد و استقامت کے اعتراف میں پیر 11 آبان کو قم میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اسلامی تبلیغات کی تنظیم کے کانفرنس ہال میں ہونے والی اس تقریب میں آیت اللہ حاج شیخ محسن اراکی سمیت علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی۔

آیت اللہ معتوق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج خطے میں جو سازشیں دکھائی دے رہی ہیں، وہ محاذِ مزاحمت کی مسلسل کامیابیوں کا نتیجہ ہیں۔ آج محاذِ مزاحمت پیش قدمی کی پوزیشن میں ہے اور اقوام کا کردار ماضی کے مقابلے میں مکمل طور پر بدل چکا ہے۔

انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدۂ سائیکس پیکو کے دور میں لبنان کے شیعوں کی کوئی حیثیت اور پہچان نہیں تھی، لیکن آج وہ امت کے دشمنوں کے مقابلے میں عزت، وقار اور سربلندی کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ کامیابیاں لبنان، فلسطین، عراق اور یمن میں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ ان میں سب سے اہم کامیابیاں اسلامی جمہوریہ ایران کی ہیں، جو آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں حاصل ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کامیابیاں اور ترقی جتنی بڑھتی ہیں، دشمن بھی اپنی سازشوں کا دائرہ اتنا ہی وسیع کرتے جاتے ہیں۔ آج دشمن پوری طاقت کے ساتھ ہمیں ختم کرنے کے لیے متحد ہوچکے ہیں، کیونکہ وہ ہماری کامیابیوں سے پریشان ہیں اور انہیں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم وہ اقوام کے عزم اور شعور کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

آیت اللہ معتوق نے یمن کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر چند سال پہلے کوئی یمن میں ایسی صورت حال پیدا ہونے کی بات کرتا تو شاید کوئی اس پر یقین نہ کرتا، لیکن آج یمنی قوم عزت، وقار اور طاقت کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ دوسری اقوام بھی اسی عزت اور طاقت کا تجربہ کر رہی ہیں۔ یہ کامیابیاں قربانی اور ایثار کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں۔

امام خامنہ ای کی شہادت؛ سید الشہداءؑ کے راستے کا تسلسل

آیت اللہ معتوق نے امام خامنہ ای کی قربانی اور شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی ایثار تھا جو اس سے پہلے سید الشہداء امام حسینؑ نے پیش کیا تھا۔ امام خامنہ ای اپنے جد امام حسینؑ کے راستے کا فطری تسلسل تھے۔ جو شخص امام حسینؑ، ائمہ اہل بیتؑ اور امیرالمؤمنین علیؑ کی شخصیت کو نہیں پہچانتا، وہ امام خامنہ ای کی عظیم شخصیت کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔ آپ کے وجود میں حضرت علیؑ کی حیات اور شجاعت، جبکہ امام حسینؑ کی قربانی اور دفاع کا جذبہ نمایاں تھا۔

اس مجاہد عالم دین نے مزید کہا کہ امام خامنہ ای نے امت کی تربیت کی اور اسے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا۔ انہوں نے سید حسن نصراللہ جیسی شخصیات کی تربیت کی۔ ان کی شہادت کے بعد شیخ نعیم قاسم بھی اسی طرزِ فکر اور اسی روش کے ساتھ سید حسن نصراللہ کے راستے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد کا راستہ ہے۔

آیت اللہ معتوق نے خطے کی اقوام پر ہونے والے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کہ آج ہم مختلف قوموں پر ظلم کے بڑھتے ہوئے واقعات دیکھ رہے ہیں۔ کویت میں تقریباً تین لاکھ شہریوں کو ان کی شہریت سے محروم کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کویتی سنی اور شیعہ شہریوں کو اس طرح دبانے اور سزا دینے میں آخر کون سا مفاد پوشیدہ ہے؟

انہوں نے بعض علاقائی ممالک کے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ممالک میں ایک ہی طاقت حکمرانی کرتی ہے۔ نہ حقیقی مقننہ موجود ہے اور نہ ہی آزاد عدلیہ۔ یہاں جج ہی جلاد بن جاتا ہے اور فیصلہ سنانے کے لیے اسے صرف طاقت کے تابع ہونا پڑتا ہے۔

آخری کامیابی کی امید اور اسرائیل کے خاتمے کا عزم

آیت اللہ معتوق نے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک حساس اور بڑے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور آنے والے وقت میں مزید کامیابیاں اور پیش رفت دیکھیں گے۔ امام خمینیؒ نے ہمارے لیے وسیع افق کھولے اور امت کو طاغوتوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور ظلم کو درست ثابت کرنے والی جاہلیت سے بیدار کیا۔ امام خامنہ ای نے بھی ہمیں عزت اور وقار کا درس دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اقوام کبھی ذلت قبول نہیں کریں گی بلکہ آگے بڑھتی رہیں گی، یہاں تک کہ وہ دن آجائے جب ہم دنیا کے نقشے سے اسرائیل کے خاتمے کا مشاہدہ کریں۔

آیت اللہ معتوق نے تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’’میں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کا شکر گزار ہوں۔ میں اس اعزاز کا مستحق نہیں ہوں، لیکن آپ کی دعوت پر یہاں حاضر ہوا ہوں۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha