اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ روز جنوبی یمن کے صوبہ لحج کے مختلف محاذوں پر نئی پیش قدمی کرتے ہوئے خلیج عدن کے ساحلوں پر واقع وسیع علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔
یمنی بحری ذرائع کے مطابق، اس پیش رفت سے خلیج عدن کے دوسری جانب واقع علاقے صومالی لینڈ میں صیہونی حکومت کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور ضرورت پڑنے پر اسے نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوسکتی ہے۔
صوبہ لحج میں یمنی مسلح افواج کی پیش قدمی، خلیج عدن کے ساحلوں تک رسائی
یمنی بحری ذرائع نے لبنانی اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یمن کی مسلح افواج نے طور الباحہ کے علاقے میں پیش قدمی کی ہے اور خور عمیرہ سے آبنائے باب المندب کے جنوبی حصے تک پھیلے ساحلی علاقے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، المضاربہ، رأس العارہ، طور الباحہ، الصبیحہ کے پہاڑی سلسلوں اور القبیطہ کے بڑے حصے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد، کرش کے محاذ کا سقوط اور اس کا یمنی مسلح افواج کے قبضے میں آنا صرف وقت کی بات رہ جائے گا۔ القبیطہ تعز اور لحج کے درمیان واقع ایک اہم تزویراتی علاقہ ہے۔
اس طرح یمنی مسلح افواج عدن کے شمال مغرب میں واقع صوبہ لحج کے محاذوں پر ایک نئی فوجی صورت حال پیدا کر رہی ہیں۔
ایک فوجی ذریعے کے مطابق، یمنی مسلح افواج نے ایسے وقت میں طور الباحہ کے علاقے میں پیش قدمی کی جب حزب اصلاح سے وابستہ چوتھی بریگیڈ، جس کی کمان ابوبکر الجبَولی کے پاس تھی، منتشر ہوچکی تھی۔ ذریعے نے بتایا کہ الجبَولی کی فورسز کی درجنوں فوجی اور بکتر بند گاڑیاں اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر علاقے سے نکلتی دیکھی گئیں۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب یمنی مسلح افواج نے حیفان اور المقاطرہ کے دو محاذوں سے آگے بڑھتے ہوئے سعودی عرب سے وابستہ کئی بٹالینز کا محاصرہ مکمل کرلیا۔ اس دوران ایک مکمل بٹالین کے اہلکاروں کو گرفتار کرنے اور تقریباً 100 جدید فوجی گاڑیوں پر قبضہ کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
العند فوجی اڈہ بھی خطرے کی زد میں؛ سعودی عرب بھاری ہتھیار عدن منتقل کرنے لگا
ان پیش رفتوں کے نتیجے میں العند فوجی اڈہ بھی خطرے کی زد میں آگیا ہے۔ اس صورت حال کے بعد عدن میں موجود باخبر فوجی ذرائع نے بتایا کہ سعودی فورسز نے اس اڈے پر تعینات ’’درع الوطن‘‘ کے اہلکاروں کو اپنی پوزیشنیں تبدیل کرنے اور بھاری ہتھیار عدن منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سعودی افسران نے گزشتہ دو روز کے دوران العند فوجی اڈے سے بڑی مقدار میں جدید اسلحہ بھی باہر منتقل کیا ہے۔
مغربی لحج کے علاقوں پر کنٹرول مکمل، باب المندب کے سمندری راستے میں پوزیشن مضبوط
اسی محاذ پر یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ روز ایک وسیع اور متعدد سمتوں سے کی گئی کارروائی کے بعد صوبہ لحج کے مغربی اضلاع، جو عدن کی سرحدوں سے متصل ہیں، کی سکیورٹی کا انتظام مکمل کرلیا۔
قبائلی ذرائع کے مطابق، المقاطرہ کے مغرب سے پیش قدمی کرنے والے یمنی مسلح افواج کے دستے ان فورسز سے جا ملے جو المضاربہ اور رأس العارہ کے مشرق سے آگے بڑھتے ہوئے طور الباحہ کے مرکز کی جانب پہنچ رہی تھیں۔
یہ تینوں اضلاع صوبہ لحج کے مغربی حصے کے دفاعی حصار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان علاقوں پر یمنی مسلح افواج کا مکمل کنٹرول بحیرہ احمر سے آبنائے باب المندب کے راستے خلیج عدن تک پھیلے تقریباً 100 کلومیٹر طویل سمندری راستے پر ان کی گرفت مزید مضبوط کرسکتا ہے۔
یمنی مسلح افواج نے آبنائے باب المندب سے عدن کے قریب رأس عمران تک ساحلوں پر نظر رکھنے والے پہاڑی سلسلوں اور بلند مقامات کو محفوظ بنانے کے مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے اپنی کارروائیوں کا دائرہ ان دیہات، مقامی علاقوں اور اضلاع تک پھیلا دیا ہے جہاں سے سعودی عرب کے حکم پر جنوبی باب المندب میں تعیناتی کے لیے فوجی دستے بھرتی اور روانہ کیے گئے تھے۔
یہ فورسز اب وسیع اور تزویراتی اہمیت کے حامل ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہیں۔ ان میں سے بعض ساحلی مقامات افریقی خطے کے ممالک سے انسانی اسمگلنگ، جبکہ بعض دیگر مقامات سے خطرناک زرعی زہریلی ادویات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
جنوبی باب المندب میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے انخلا کا مطالبہ
ان پیش رفتوں کے بعد جنوبی یمن میں ایسی آوازیں اٹھنے لگی ہیں جن میں سعودی عرب کی جانب سے آبنائے باب المندب کے جنوبی علاقے میں تعینات کیے گئے سلفی گروہوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی موجودہ پوزیشنیں چھوڑ کر عدن کے اطراف واپس آجائیں تاکہ اس شہر کا دفاع کیا جاسکے۔
اسی دوران عدن میں رات کے وقت احتجاجی اجتماعات بھی منعقد ہوئے، جن میں مظاہرین نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے انخلا اور شہر کو فوجی اڈے میں تبدیل کرنے سے گریز کا مطالبہ کیا، تاکہ عدن کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔
دوسری جانب حزب اصلاح نے جنوبی عبوری کونسل پر یمن کی مسلح افواج کے ساتھ ملی بھگت کا الزام عائد کیا ہے۔ اس جماعت کا دعویٰ ہے کہ جنوبی عبوری کونسل نے سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں جنوبی یمن کے صوبوں میں حزب اصلاح کی فوجی موجودگی ختم کرنے کے لیے ’’درع الوطن‘‘ فورسز اور سلفی ’’الطوارئ‘‘ گروہوں کو استعمال کیا تھا۔
سعودی فورسز پر حملے، اتحادی گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
یہ الزامات اس وقت مزید شدت اختیار کرگئے جب جنوبی یمن کے کئی صوبوں میں سعودی فورسز مسلح حملوں اور گھات لگا کر کیے گئے حملوں کا نشانہ بنیں۔
رپورٹس کے مطابق، مشرقی یمن میں العبر۔شبوا شاہراہ پر سعودی کمک کے قافلوں کا راستہ روک کر ان پر حملے کیے گئے۔
اسی طرح صوبہ ابین میں نامعلوم مسلح افراد نے ’’درع الوطن‘‘ فورسز کے ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں بریگیڈیئر جنرل محمد احمد الحمیقانی، جو اس بریگیڈ کے کمانڈر تھے، اور پانچ دیگر افسران ہلاک ہوگئے۔
یمنی مسلح افواج کی عدن کی جانب پیش قدمی پر تشویش
دوسری جانب جنوبی عبوری کونسل کے متعدد رہنماؤں نے گزشتہ دو روز کے دوران آبنائے باب المندب کے جنوبی علاقے میں تعینات جنوبی ’’العمالقہ‘‘ فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عدن واپس پہنچیں اور شہر کے سقوط سے پہلے اس کے دفاع کے لیے مورچے قائم کریں۔
اس سے قبل فوجی تجزیہ کار علی النسی نے یمنی مسلح افواج کی عدن کی جانب پیش قدمی کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر لڑنے والے جنوبی گروہ آبنائے باب المندب میں سعودی عرب کی جانب سے شروع کی جانے والی ایک ناکام جنگ کا ایندھن بن سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا تھا کہ ان فورسز کو اپنی پوزیشنیں تبدیل کرکے عدن کے مضافات میں دوبارہ تعینات ہونا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ