اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آٹھ ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی تھی، وہ ان کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اب بھی برقرار ہے، اس نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی اور ایرانی میزائل و ڈرون اب بھی خطے میں امریکی فوجیوں اور واشنگٹن کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے آخری دنوں میں، جنگ کے نتیجے میں توانائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر ووٹروں کی ناراضی بڑھنے کے ساتھ ہی ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے کی دھمکیاں دی ہیں۔
تاہم، امریکہ کے سابق فوجی کمانڈروں اور دفاعی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئی فوجی کارروائی آسان نہیں ہوگی اور اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس پر قابو پانا مشکل ہوگا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے امریکہ کے سابق وزیر دفاع مارک ایسپر کے حوالے سے لکھا ہے کہ واشنگٹن حکومت کو آئندہ مرحلے کے لیے واضح اہداف طے کرنے چاہییں اور محض فوجی دھمکیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے ان مقاصد کے حصول کے لیے قابلِ اعتماد حکمت عملی بنانی چاہیے۔
امریکہ کے سامنے فوجی کارروائی کے مختلف راستے؛ محدود حملوں سے وسیع جنگ تک
ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے لیے زیرِ غور امکانات میں محدود فوجی آپریشن سے لے کر وسیع پیمانے پر حملے تک شامل ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سابق سربراہ جوزف ووٹل کے مطابق، نسبتاً کم کشیدگی پیدا کرنے والا ایک راستہ بحری حملوں کا دائرہ بڑھانا ہے۔ اس کے تحت ساحلی ریڈاروں، جہاز شکن میزائلوں کے لانچنگ مقامات، ڈرون اڈوں اور چھوٹی کشتیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
اس کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایران کی جانب سے خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہوگا۔
تاہم، دیگر امکانات کے مقابلے میں کم خطرناک ہونے کے باوجود اس کارروائی سے ایران کا خطرہ مکمل طور پر ختم ہونے کی ضمانت نہیں ملتی، کیونکہ تہران ان میں سے بہت سی دفاعی صلاحیتوں کو مختصر وقت میں دوبارہ بحال کرسکتا ہے۔
دوسرا امکان ایران کی جوہری تنصیبات پر دوبارہ حملہ کرنا ہے، بالخصوص کوہ کلنگ کے مقام پر واقع زیرِ زمین تنصیب کو نشانہ بنانا، جسے گزشتہ فوجی کارروائیوں میں ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔
ایران کی تنصیبات پر ’’مدر آف آل بمز‘‘ کے استعمال میں مشکلات
ٹرمپ اس سے پہلے دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ ایران کی ان تنصیبات کے خلاف امریکی اسلحہ خانے کے طاقتور ترین غیر جوہری بم، جسے ’’مدر آف آل بمز‘‘ کہا جاتا ہے، استعمال کریں گے۔
تاہم، اس بم کے استعمال میں فوجی نوعیت کی مشکلات موجود ہیں، کیونکہ اسے سی-130 قسم کے سست رفتار فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایران کی سرزمین کے اندرونی علاقوں تک پہنچانا سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے سربراہ اور جوہری امور کے ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا خیال ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے پاس اس وقت ایران کے جوہری پروگرام کی صورت حال سے متعلق معلومات 2025ء کے مقابلے میں کم ہوسکتی ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق ممکن ہے کہ کچھ ایسی تنصیبات اور افراد بھی موجود ہوں جن کے بارے میں تفصیلات ابھی تک منظرعام پر نہیں آئیں۔
فوجی کارروائی کا سب سے وسیع امکان کئی روز تک جاری رہنے والی بمباری کی مہم ہوسکتی ہے، جس میں جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرون کے ٹھکانوں کے علاوہ سپاہ پاسداران کے کمانڈروں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ان حملوں میں شہری بنیادی ڈھانچے، کارخانوں، تیل صاف کرنے والے مراکز اور بجلی گھروں کو بھی ہدف بنایا جاسکتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، صیہونی حکومت نے گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی کارروائی کی تیاری کرلی تھی، لیکن ٹرمپ کی مخالفت کے باعث اسے عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ دوسری جانب صیہونی حکام نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ایران کے اہداف کی ایک تازہ فہرست فراہم کی ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے نئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
ایران کی حکومت کا خاتمہ؛ فضائی حملوں سے حاصل کرنا مشکل
سینٹ کام کے سابق سربراہ کا خیال ہے کہ حملوں کا دائرہ بڑھانے کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے تاکہ اسے امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔
تاہم، صرف فضائی حملوں کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے محقق جوناتھن شانزر کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اقتصادی اور فوجی دباؤ کے باوجود مزاحمت اور اپنی بقا برقرار رکھنے کی نمایاں صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
دوسری جانب تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا جواب غیر معمولی ہوگا۔ اس جواب میں خطے اور یورپ میں امریکی فوجی اڈوں، اہم تنصیبات، زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانا شامل ہوسکتا ہے۔
ایران اپنے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال بھی کرسکتا ہے، جبکہ عراق اور یمن میں اس کے اتحادی امریکہ کے مفادات اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے خلاف حملوں کا دائرہ بڑھا سکتے ہیں۔
تاہم، سب سے بڑا خطرہ اس بات کا ہے کہ یہ تصادم خلیج فارس کے عرب ممالک کی توانائی تنصیبات تک پھیل جائے۔
صیہونی حکومت کے قومی سلامتی کے مطالعاتی ادارے کے ایران امور کے ماہر دانی سیترینووچ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے جنگ کی نوعیت تبدیل ہوجائے گی اور تہران کی جانب سے خلیج فارس کے عرب ممالک میں اسی نوعیت کی تنصیبات پر جوابی حملوں کا امکان بڑھ جائے گا۔ اس سے عالمی توانائی کا بحران مزید سنگین اور ایندھن کی قیمتیں مزید بلند ہوسکتی ہیں۔
امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی اور جنگ پھیلنے کا خطرہ
واشنگٹن کو درپیش مشکلات صرف ایران کے ممکنہ جوابی حملوں تک محدود نہیں ہیں۔ امریکہ کو اپنے میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا بھی سامنا ہے، بالخصوص ان میزائلوں کی تعداد کم ہورہی ہے جو ایران کے حملوں کو روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر ایک ہزار سے بھی کم رہ گئے ہیں، جبکہ ایران کے خلاف جنگ سے پہلے ان کی تعداد 2330 تھی۔ اسی طرح زیادہ جدید تھاڈ میزائلوں کے ذخائر بھی پہلے کے 452 کے مقابلے میں کم ہوکر 280 سے نیچے آگئے ہیں۔
اس رپورٹ کے ایک مرتب کنندہ مارک کانسیئن کا کہنا ہے کہ استعمال کیے گئے حملہ آور ہتھیاروں، جن میں ٹاماہاک میزائل بھی شامل ہیں، کے ذخائر دوبارہ پورے کرنے میں ایک سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔
یہ صورت حال پینٹاگون کے لیے اس لیے بھی تشویش کا باعث ہے کہ امریکہ کو چین کے ساتھ کسی ممکنہ فوجی تصادم کے لیے بھی اپنی فوجی صلاحیت برقرار رکھنا ہوگی۔
امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن، سابق فوجی افسر اور ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن جیسن کرو کا خیال ہے کہ یہ تصور ایک تزویراتی غلطی ہے کہ مزید فوجی کارروائیاں کرکے ایران کے ساتھ تصادم ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے عراق اور افغانستان میں امریکہ کی طویل فوجی مداخلت کے تجربات کی یاد دہانی کرائی۔
فضائی حملوں سے آگے کی جنگ؛ خلیج فارس کی سلامتی اور توانائی منڈی پر اثرات
مجموعی طور پر ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی میں شدت آنے کا نتیجہ محض فضائی حملوں کے ایک اور دور تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ یہ ایک وسیع تصادم کی شکل اختیار کرسکتا ہے، جس کے اثرات خلیج فارس کی سلامتی، عالمی توانائی منڈیوں اور امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ بمباری میں شدت پیدا کرنے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی تبدیل ہوجائے گی یا اس کی حکومت کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
آپ کا تبصرہ