اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان کے وسطی علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد شیعہ شہریوں نے مقامی حکومتوں کی جانب سے شیعہ آبادی والے علاقوں کی ترقی پر توجہ نہ دینے کی شکایت کرتے ہوئے مخیر حضرات اور فلاحی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ تعمیراتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرکے ان علاقوں کے عوام کی زندگی بہتر بنانے میں مدد کریں۔
یہ اپیل دایکندی صوبے کے ایک شیعہ مخیر شخص کے حالیہ اقدام کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے حج عمرہ کے سفر کے لیے مختص رقم اس صوبے میں ایک پل کی تعمیر کے لیے وقف کردی۔ اس پل کی تعمیر سے مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت اور مقامی آبادی کے لیے نقل و حمل کی سہولت میسر آئے گی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، دایکندی کے مخیر شخص حسن کربلائی نے نفلی حج کے سفر کے لیے مختص ایک لاکھ 33 ہزار 500 افغانی رضاکارانہ طور پر میرامور ضلع کے گاؤں تخاوی دیغوچی میں ایک پل کی تعمیر کے لیے عطیہ کردیے۔
اس اقدام کا علاقے کے متعدد رہائشیوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پل کی تعمیر سے سینکڑوں افراد کی آمدورفت آسان ہوگی اور لوگوں کے حالات زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
دایکندی کے رہائشی محمدکاظم تابش نے اس اقدام کو قابل قدر اور ’’حج اکبر‘‘ کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مخیر حضرات کی جانب سے ایسے منصوبوں پر رقم خرچ کرنے سے نہ صرف درجنوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ دیہی آبادی کے لیے شہر کے مرکز تک پہنچنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔
ان کے مطابق، اس پل کی تعمیر سے دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو طبی مراکز اور تعلیمی اداروں تک رسائی میں بھی سہولت ملے گی۔
دوسری جانب افغانستان کے وسطی علاقوں سے تعلق رکھنے والے دیگر شیعہ شہریوں نے بھی مخیر حضرات اور فلاحی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اقدام کو مثال بناتے ہوئے معاشرے میں منظم اور بامقصد امداد کا رجحان فروغ دیں اور اپنے عطیات عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص کریں۔
ان علاقوں کے ایک اور رہائشی محمد جعفری کا کہنا ہے کہ شیعہ آبادی والے علاقوں کو مخیر حضرات کی زیادہ مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عوامی بنیادی ڈھانچے کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن وسطی علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے عوام کی بارہا درخواستوں اور کوششوں کے باوجود ان علاقوں پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
افغانستان کے وسطی علاقے، بالخصوص دایکندی اور بامیان صوبے، گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان کو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی مالی امداد ملنے کے باوجود بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کے شعبوں میں بدستور محرومی کا شکار ہیں۔
آپ کا تبصرہ