بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس تحریر میں ایران کے خلاف اسرائیلی-امریکی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے معاشی نتائج پر مرکوز ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد توانائی کی عالمی قیمتوں میں تیز اضافہ ہوا، جس نے یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کی معیشتوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ جرمنی، فرانس اور یوکرین کے رہنماؤں نے کھل کر تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف جنگ اور خلیج فارس کی صورتحال نے ان کے ہاں ایندھن کی قیمتیں بڑھائیں، مہنگائی کو ہوا دی اور معاشی نمو کو نقصان پہنچایا۔ امریکہ میں بھی وال اسٹریٹ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں اور فیڈرل ریزرو مہنگائی اور کساد بازاری کے درمیان دوہری مشکل میں پھنس گیا۔ اسی تناظر میں میجر جنرل محسن رضایی کا یہ موقف سامنے آیا کہ ایران نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ عالمی معاشی توازن میں بھی ایک فیصلہ کن کردار بن چکا ہے، اور آج عالمی رہنما کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑ رہا ہے۔
تحریر کا خلاصہ درج ذیل ہے:
ایران کے خلاف جنگ کے معاشی اثرات اب عالمی سطح پر نمایاں ہو چکے ہیں اور یورپی و امریکی رہنماؤں نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل محسن رضایی کے مطابق ایران نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ عالمی معیشت کے معاملات میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے، اور فرانس، جرمنی اور یوکرین کے صدور تک کو اس کا اعتراف کرنا پڑ رہا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے آٹھ ماہ میں یورپ پر 100 ارب یورو سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالا ہے، اور اب وہ ـ جو اس جنگ میں جارح قوتوں کی حمایت کر رہا تھا اور اور 12 روزہ جنگ میں کہہ چکا تھا کہ اسرائیل وہ گندا کھیل کھیل رہا ہے جو یورپ کو کھیلنا تھا ـ جنگ کے سفارتی حل کا مطالبہ کر رہا ہے۔
فرانس میں پچھلے ڈیڑھ ماہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ صدر میکرون نے اعتراف کیا ہے کہ فرانس آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کا متحمل ہو رہا ہے۔ گذشتہ آٹھ ماہ میں پٹرول کی قیمت میں 30 فیصد اور ڈیزل میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ہؤا، جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق فرانس کے معاشی نمو میں 0.5 فیصد کمی آئی ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بھی ـ ٹرمپ کی طرف سے یوکرین اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندیکے اعلان کے بعد ـ کہا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کی وجہ یوکرین نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ (ایران کے خلاف امریکہ) کی جنگ ہے۔
امریکہ بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں۔ وال اسٹریٹ میں امریکی کمپنیوں نے تقریباً 1.8 ٹریلین (1800 ارب) ڈالر کا نقصان اٹھایا، اور ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک (Nasdaq) نے پانچ ماہ کی بدترین کارکردگی دکھائی۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمت میں تقریباً 38 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 71 فیصد سے زائد اضافہ ہؤا ہے۔ پٹرول 4.17 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گیا، جبکہ خام تیل 26 دن بعد بھی 100 ڈالر سے اوپر اور حالیہ لین دین میں 114 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس صورتحال نے فیڈرل ریزرو کو مشکل میں ڈال دیا ہے، کیونکہ بڑھتی مہنگائی شرحِ سود میں فوری کمی کی اجازت نہیں دیتی جبکہ بلند شرحِ سود کساد بازاری کو بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بلند شرحِ سود کے جاری رہنے اور مزید ممکنہ اضافے کے امکانات منڈی میں نمایاں ہیں۔


خلاصہ: ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت، خاص طور پر یورپ اور امریکہ، کو شدید معاشی دباؤ میں ڈال دیا ہے، جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ایران عالمی معیشت میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحری: فاطمہ صادقی
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ