ہماری تسدید (ڈیٹرنس) کا سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ ہم یہیں، کام کو اس طرح، ختم کریں اور جنگ اس طرح ختم ہو کہ جس کے بعد کسی کی جرات نہ ہو کہ ایران پر حملہ کرے۔ ہم ضد نہیں کر رہے، بلکہ عقل و منطق کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور قومی سلامتی اور ملک کے مستقبل کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ انہوں نے ہم پر جارحیت کیوں کی اور ہمیں نقصان کیوں پہنچایا؟ اگر ہم یہاں ایرانی قوم کے حقوق بحال نہ کریں، تو کل کوئی دوسرا ملک سر اٹھا کر کہہ سکتا ہے کہ چلیں ایران پر حملہ کرتے ہیں! ماضی میں آپ نے دیکھا کہ امریکہ نے ممالک پر حملہ کیا اور کچھ نہیں ہؤا اور اس نے ان جارحیتوں کی کوئی قیمت ادا نہیں کی۔ لہذا، ہم ایک معقول اور منطقی فریم ورک کی بنیاد پر کھڑے ہیں اور خدائے متعال کے فضل سے، یہ استقامت جاری ہے۔
کسی بھی نئی جارحیت پر ایران کا جوابی اقدام ہولناک ہوگا
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے اس سوال کے جواب میں کہ "کیا ایران کے پاس کوئی خاص صلاحیت ہے جسے وہ ممکنہ اگلی جنگ میں بروئے کار لائے گا؟" کہا: ہاں، ہمارے پاس کچھ ہے۔ اگر جنگ شروع ہوئی تو ہم امریکہ کے سینگ اس انداز سے توڑ دیں گے کہ ہم دیکھ لیں کہ ٹوٹے ہوئے سینگوں والا ؛ہ یہ بیل دنیا میں کرتا کیا ہے اور کیا یہ خود اپنا دفاع کر سکتا ہے یا نہیں؟
خدائے متعال کے فضل سے، ہماری مسلح افواج کی تیار کی سطح بہت اچھی ہے۔ ہم نے یوایس ایس جارج واشنگٹن طیارہ بردار جہاز کے اوپر اپنے اینٹی شپ میزائل کا تجربہ کیا اور آبنائے ہرمز میں ہماری پوزیشن سب پر واضح ہے؛ آج ہم طاقت کے ساتھ آبنائے ہرمز میں موجود ہیں۔
دنیا میں کوئی عقلمند اپنے ملک کی قومی سلامتی میں لاپرواہی نہیں برتتا۔ قومی سلامتی ہر ملک کی سرخ لکیر ہے اور ہم کسی بھی صورت کسی بھی ایرانی شہری اور پورے ایران کی قومی سلامتی کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔
اس راستے میں ہم نے اخراجات برداشت کئے ہیں اور لوگوں کی زندگی واقعی مشکلات سے دوچار ہے، لیکن جو عظیم کامیابی ہم نے آج حاصل کی ہے اور مستقبل میں بھی ان شاء اللہ حاصل کرتے رہیں گے، ان کا ان مشکلات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس قوم کے بچے اور اس ملک کی آنے والی نسلیں ان شاء اللہ مستقبل میں اس مزاحمت اور استقامت کے نتیجے میں، خطے میں بہترین زندگی گذاریں گی اور اس مزاحمت اور استقامت پر فخر و مباہات کریں گی۔
جو لوگ ہماری دفاعی صلاحیتوں اور نئے اوزاروں اور ہتھیاروں کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ مستقبل میں ایک انتہائی باوقار دفاع کا انتظار کریں۔ اگر دشمن نے کوئی اور غلطی کی، تو ہولناک ضربوں اور ایک باوقار دفاع کے ساتھ، ان شاء اللہ ہم اس تاریخی مرحلے کو نقطۂ اختتام تک پہنچائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ