اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے آج اتوار کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے صہیونی فوج کے دوپہر کے وقت کیے گئے حملوں پر ردعمل ظاہر کیا۔ بیان میں خان یونس کے علاقے مواصی میں متعدد پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور غزہ شہر پر بمباری کو دانستہ جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔
حماس نے ان حملوں کو فلسطینی عوام کے خلاف صہیونی حکومت کے مسلسل جرائم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد غزہ کی پٹی میں زندگی اور امن و امان کی بحالی کو روکنا ہے۔
تحریک کے بیان کے مطابق، خان یونس کے علاقے مواصی میں پولیس اہلکاروں پر حملے کے نتیجے میں پانچ افراد شہید ہوئے، جبکہ غزہ شہر پر بمباری میں ایک باپ اور اس کے بیٹے سمیت تین افراد شہید اور متعدد شہری زخمی ہوئے۔
حماس نے مزید کہا کہ شہری پولیس اہلکاروں کو دورانِ ڈیوٹی، جب وہ نظم و ضبط اور امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہوتے ہیں، دانستہ طور پر بار بار نشانہ بنانا غزہ کی پٹی میں حالات کی بہتری اور استحکام کی بحالی کے عمل کو سبوتاژ کرنے اور علاقے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش ہے۔
تحریک نے ان اقدامات کو ’’جبری بے دخلی‘‘ کی اس پالیسی کا حصہ قرار دیا جسے، اس کے بقول، صہیونی دشمن فلسطینی عوام پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔
بیان کے ایک اور حصے میں عالمی خاموشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: عالمی برادری کی خاموشی اور ان ہولناک جرائم کا مقابلہ کرنے میں ناکامی، قابض صہیونی حکومت اور جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کو قتل عام، تباہی اور محاصرے کی پالیسی جاری رکھنے کی ترغیب دے رہی ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ ان پالیسیوں کا مقصد فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔
بیان کے اختتام پر تحریک نے ایک بار پھر ثالثوں، جنگ بندی معاہدے کی ضامن ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف روزانہ جاری جرائم اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
حماس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ قابض دشمن کی حکومت کو جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے، فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ضروری ریلیف کی فراہمی کی ضمانت دی جائے۔
آپ کا تبصرہ