31 اکتوبر 2026 - 18:11
آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کی زیر سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی؛ خلیجی ممالک کی 250 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں

متن:آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی نے خلیجی ممالک کے ڈیجیٹل نظام اور اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ اس خطرے سے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں میں کی جانے والی 250 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی معیشت کو ایک غیر معمولی چیلنج کا سامنا ہے۔ خطے میں جنگ کی شدت اور ایران کی جانب سے یہ دھمکی کہ اس پر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اس خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔

روزنامہ العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سات زیر سمندر کیبلز کو ممکنہ اہداف کے طور پر نشان زد کیا ہے۔ اگرچہ اس آبنائے سے گزرنے والی کیبلز کی گنجائش عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم بحری امور کے خصوصی پلیٹ فارم ’’برڈ میری ٹائم‘‘ کے مطابق، مائیکروسافٹ کمپنی 2030ء تک خطے میں مواصلاتی رابطوں کے نظام پر 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

فرانس کی نیس یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات اور استاد ایلن صفا نے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دھمکی نے بہت سے خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ خلیج فارس کے عرب ممالک خدمات اور ڈیجیٹل معیشت پر مبنی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان شعبوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور مستحکم سکیورٹی صورت حال ضروری ہے۔

ان کے مطابق، خطے کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے سے ان کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور سعودی عرب اور دبئی نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جن نئے شعبوں کو ترقی دی ہے، وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے 250 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

ان نئے شعبوں کی اہمیت کا اندازہ ان پر مختص کی جانے والی سرمایہ کاری سے لگایا جا سکتا ہے۔ خلیج فارس کے عرب ممالک نے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کے لیے 250 ارب ڈالر سے زیادہ مختص کیے ہیں، تاکہ ان مراکز کی صلاحیت تین گنا بڑھائی جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش 2025ء میں ایک گیگاواٹ سے بڑھا کر 2030ء تک 3.3 گیگاواٹ کرنے کا ہدف ہے۔

ان سرمایہ کاری منصوبوں میں سعودی عرب کا 100 ارب ڈالر کا منصوبہ، قطر کی 20 ارب ڈالر کی شراکت داری اور متحدہ عرب امارات میں پانچ گیگاواٹ گنجائش کا ’’اسٹارگیٹ‘‘ منصوبہ شامل ہے۔ اس منصوبے کے ڈھانچے پر نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ اس کی تنصیبات کو مختلف مقامات پر تقسیم کیا جائے اور ممکنہ حملوں کے مقابلے میں انہیں زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ تفصیلات ادارہ برائے معلومات و سلامتی ’’بلومزبری‘‘ (BISI) کی 26 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔

صفا کا کہنا ہے کہ زیر سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے سے بینکاری کا شعبہ براہ راست متاثر ہوگا اور صارفین کی خدمات تک رسائی میں خلل پڑے گا، تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ عوام کے بینکوں میں جمع شدہ سرمائے یا مالیاتی اداروں کی حیثیت کو بنیادی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

ان کے مطابق، اصل مسئلہ درمیانی مدت میں سامنے آئے گا، کیونکہ ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے دسیوں یا سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی خاطر طویل مدتی استحکام ضروری ہے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین میں کلاؤڈ اور بینکاری خدمات متاثر ہونے کا تجربہ

ماضی کے واقعات بھی بینکاری اور تجارتی خدمات میں خلل کے خدشات کو تقویت دیتے ہیں۔ گزشتہ مارچ میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ایمیزون کی تنصیبات پر حملوں کے باعث مالیاتی اداروں اور تجارتی پلیٹ فارمز کی زیر استعمال کلاؤڈ خدمات متاثر ہوئی تھیں۔ ان خدمات کے ذریعے ادائیگیوں کی کارروائی، سامان کے ذخیرے کا انتظام اور نقل و حمل کے امور میں رابطہ کاری کی جاتی ہے۔

واشنگٹن میں قائم ’’مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کی 27 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ تنصیبات چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک دستیاب نہیں رہیں۔ اس واقعے نے کلاؤڈ خدمات کے چند مخصوص جغرافیائی مقامات پر انحصار کے خطرات کو نمایاں کر دیا۔

صفا کے مطابق، اہم مراکز اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے پر بار بار بمباری سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا سلسلہ رک سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں اعتماد کی بحالی کے لیے مناسب وقت گزرنے سے پہلے سرمایہ کاروں کو خطے میں واپس آنے پر آمادہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال سے ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی بھی سست پڑ سکتی ہے، جسے خلیجی ممالک دنیا کے سامنے اپنی ترقی اور پیش رفت کی علامت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح اس اہم شعبے کی معیاری اور مقداری، دونوں طرح کی ترقی متاثر ہوگی۔

بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا بوجھ حکومتوں اور خودمختار دولت فنڈز پر پڑے گا

عالمی بیمہ کمپنیاں ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بیمہ پالیسیوں میں استثنائی شقیں شامل کرتی ہیں، جن کے تحت عموماً جوہری جنگوں یا بڑے پیمانے پر منظم حملوں سے ہونے والے نقصانات کو بیمے کے دائرے سے خارج کر دیا جاتا ہے۔

صفا کے تجزیے کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اہم بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملے ہوئے تو خلیجی ممالک کی حکومتوں اور ان کے خودمختار دولت فنڈز کو نقصانات کی بحالی کے اخراجات کا بڑا حصہ خود برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے قومی بجٹ پر جنگ کے اخراجات کا بوجھ بہت بڑھ جائے گا۔

اسی حوالے سے ترکی کی باشاک شہر یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات اور مالیاتی انتظام کے استاد فراس شعبو نے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیر سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی انتہائی سنگین ہے، جس سے خلیج فارس کے خطے میں خطرات کی سطح بہت بڑھ جاتی ہے۔

ان کے مطابق، اس طرح کے حملوں سے بینکاری کا پورا شعبہ عملیاتی اور نقدی کے حوالے سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ بیمے کے اخراجات بڑھنے سے مالی وسائل کے حصول کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔

شعبو نے وضاحت کی کہ ایران کی جانب سے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملے اہم تزویراتی اہداف میں شامل ہیں، جو بینکاری، خدمات اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والی روزمرہ سرگرمیوں کو بنیادی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں کے نتیجے میں تجارتی لین دین کے نظام رک سکتے ہیں اور بینکوں کے درمیان ادائیگیوں اور حسابات کی تصفیے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس سے مالیاتی خدمات کا ایک حصہ مفلوج ہو سکتا ہے اور بینکاری مراکز کے لیے بیرونی دنیا اور مرکزی سرمایہ کاروں سے رابطہ رکھنا مشکل ہو جائے گا، اگرچہ بعض سرگرمیاں اندرونی نیٹ ورک کے ذریعے جاری رہ سکتی ہیں۔

کیبلز منقطع ہونے سے خلیجی ممالک کو لاحق خطرات میں فرق

خطے میں فائبر آپٹک کیبلز کے راستوں کے نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اس خطرے سے یکساں طور پر متاثر نہیں ہوں گے۔

بحری معلومات کے پلیٹ فارم ’’ونڈ وارڈ‘‘ کی 26 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اس وقت چھ زیر سمندر کیبلز فعال ہیں، جبکہ مزید دو کیبلز کو 2027ء میں کام شروع کرنا ہے۔ یہ تمام کیبلز آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔

اس بنیاد پر عراق، کویت، بحرین اور قطر کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ خطرات لاحق ہیں، کیونکہ ان کے پاس آبنائے ہرمز سے باہر زیر سمندر کیبلز کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔

اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات کے پاس خلیج عمان کے ساحل پر واقع فجیرہ اور کلباء میں 14 کیبلز موجود ہیں۔ عمان کے پاس بھی خلیج عمان میں 11 اور بحیرہ عرب میں پانچ کیبلز ہیں۔ تاہم ’’فالکن‘‘ اور ’’جی بی آئی‘‘ نامی دو کیبلز ایران کے اندر واقع اسٹیشنوں سے منسلک ہیں۔

شعبو کا کہنا ہے کہ اسی صورت حال کے پیش نظر سرمایہ کار خلیجی ممالک میں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی سرمایہ کاری کی لاگت اور خطرات کا دوبارہ تعین کر رہے ہیں۔

تاہم، ان کے مطابق خطے کی بیشتر زیر سمندر کیبلز عمان کے پانیوں سے گزرتی ہیں، جو آبنائے ہرمز کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ مستحکم راستہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف 15 سے 18 فیصد کیبلز اس آبنائے سے گزرتی ہیں جو ایران کی سمندری حدود میں واقع ہے۔ اس صورت حال سے خطے کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے کی سلامتی کے حوالے سے کسی حد تک اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

بجلی گھروں، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران کی جانب سے ’’زیرو ریڈ لائنز‘‘ کی حکمت عملی اختیار کرنے سے متعلق سخت بیانات کے بعد خلیجی حکومتوں کے مالی وسائل پر دباؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اگر امریکہ اور صیہونی ریاست کے حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خلیج فارس کے سات ممالک میں بجلی کے نیٹ ورک، پانی صاف کرنے والے پلانٹس، تیل صاف کرنے کے کارخانے اور بندرگاہیں نشانہ بنائی جائیں گی۔

اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 113.4 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ روزنامہ گارڈین نے بھی اس صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اس تناظر میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس خطے کے اہم اور حساس کمزور مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تنصیبات آبادی کی پانی کی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہیں۔ سعودی عرب میں پانی کی ضروریات کا 70 فیصد جبکہ قطر اور کویت میں 99 فیصد پانی انہی پلانٹس سے حاصل ہوتا ہے۔

چنانچہ ان تنصیبات پر کسی بھی حملے سے خطے کے لاکھوں افراد کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور ان کے لیے خلیجی ممالک میں قیام جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

صفا نے یہ بھی خبردار کیا کہ ایران میں اسی نوعیت کی تنصیبات پر جوابی حملے خطے کو کئی برس تک غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر سکتے ہیں اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں سنگین مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

امریکی سفارت کاروں کا انخلا اور سرمایہ کاروں کے لیے اس کا پیغام

صفا کے مطابق، امریکہ کی جانب سے اپنے سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ ایک احتیاطی اقدام ہے، جس کا مقصد انہیں نقصان پہنچنے کی صورت میں قانونی اور سیاسی ذمہ داری سے بچنا ہے۔ تاہم، اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ایک وسیع جنگ شروع ہونے والی ہے۔

اس کے باوجود، ان کے بقول، یہ فیصلہ سرمایہ کاروں اور نجی کمپنیوں کو ایک منفی اور طاقتور پیغام دیتا ہے، جس سے خطے کا سفر کرنے، بالمشافہ مذاکرات کرنے اور تجارتی معاہدے طے کرنے میں ان کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔

اس صورت حال سے میزبان ممالک کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور مستقبل میں سرمایہ کاری سے متعلق بڑی کانفرنسوں جیسے منصوبوں کے انعقاد میں بھی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha