31 اکتوبر 2026 - 10:04
کنست کے عرب رکن کا اعلان: نیتن یاہو حکومت گرانے کے لیے ہر اقدام پر تیار ہیں

اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو مخالف دھڑے کو نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے عرب جماعتوں کے ووٹ درکار ہیں، تاہم اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے ان جماعتوں کی حمایت یا شمولیت مسترد کر دی ہے۔ عرب رکنِ کنست فاتن غطاس کے مطابق یہی رویہ حکومت کی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

ہلِ بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،صہیونی پارلیمان (کنست) میں عرب مشترکہ فہرست کی رکن فاتن غطاس نے کہا ہے کہ عرب سیاسی دھڑے بنیامین نیتن یاہو کی موجودہ حکومت کو برطرف کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کو تیار ہیں۔

المیادین ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ سیاسی جدوجہد کو نسل پرستی کے خلاف محاذ آرائی اور ’’فاشسٹ حکومت‘‘ کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت اس وقت ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔

غطاس نے نیتن یاہو مخالف نام نہاد ’’تبدیلی کے دھڑے‘‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ عرب ارکانِ پارلیمان کی حمایت سے اقتدار حاصل کرنے سے خوف زدہ ہے۔ ان کے بقول، یہ طرزِ عمل صہیونیت کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دھڑے نے اب تک حکومت کی تبدیلی کے لیے سنجیدہ اقدامات کی اہلیت ثابت نہیں کی۔

عرب مشترکہ فہرست کی رکن نے مطالبہ کیا کہ عرب مشترکہ فہرست اور متحدہ عرب فہرست (رَعَم) کے درمیان رابطہ اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ نیتن یاہو کی حمایت نہ کرنے پر اتفاق کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عرب مشترکہ فہرست، تبدیلی کے حامی دھڑے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور کنست کے اسپیکر کی تبدیلی پر ابتدائی اتفاقِ رائے چاہتی ہے۔ ان کے مطابق نئے اسپیکر کا انتخاب سیاسی قوتوں کے لیے پہلا امتحان اور آئندہ تبدیلیوں کا ایک اہم اشارہ ہوگا۔

اخبار ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ تبدیلی کے حامی دھڑے نے لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے موجودہ اسپیکر امیر اوحانا کی جگہ نیا اسپیکر لانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ یائیر لاپید کا نام ممکنہ امیدواروں میں شامل ہے۔

غطاس نے نئے انتخابات کے انعقاد سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں نیتن یاہو پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم سیاسی جماعتوں کو اپنی حمایت پر مجبور کرنے کے لیے ایک نئی جنگ شروع کرنے کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اندرونی سیاسی بحران کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیلی حکومت کو درپیش بیرونی محاذوں کے مسائل، بالخصوص مختلف محاذوں پر اس کی فوجی ناکامیوں، کا سامنا نہیں کیا جاتا۔

عرب رکنِ کنست نے کہا کہ اسرائیلی جماعتیں بے بنیاد الزامات کے ذریعے عرب جماعتوں کی سیاسی ساکھ ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے عرب نمائندوں کو سیاسی منظرنامے سے باہر کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

غطاس نے واضح کیا کہ عرب مشترکہ فہرست ہر اس سیاسی دھڑے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے جو تبدیلی کا خواہاں ہو، تاہم اس کی اولین ترجیح موجودہ حکومت کا خاتمہ ہے، اور وہ نہیں چاہتی کہ طویل سیاسی بحران کا بوجھ عرب معاشرے پر ڈالا جائے۔

مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق عرب مشترکہ فہرست اور متحدہ عرب فہرست کے پاس کنست کی مجموعی 120 نشستوں میں سے 19 نشستیں ہیں۔ ان میں 11 نشستیں عرب مشترکہ فہرست جبکہ آٹھ نشستیں رَعَم کے پاس ہیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو مخالف تبدیلی کے دھڑے کو 48 نشستیں حاصل ہیں اور حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت تک پہنچنے کے لیے اسے عرب جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔

تاہم نیتن یاہو کے مخالف دھڑوں کے رہنماؤں گادی آیزنکوٹ، نفتالی بینیٹ اور آویگدور لیبرمین نے عرب جماعتوں کی شمولیت یا ان کی حمایت پر انحصار کرتے ہوئے حکومت بنانے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے برعکس یائیر لاپید نے ایک وسیع تر سیاسی اتحاد تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha