31 اکتوبر 2026 - 09:45
فلپائن کی مسلم پارلیمنٹ نے پہلی بار مسلم وزیراعظم منتخب کر لیا

جنوبی فلپائن کے خودمختار مسلم خطے بانگسامورو کی پارلیمان نے پہلی بار عبدالرؤف ماکاکوا کو خطے کا وزیرِاعظم منتخب کر لیا ہے، جسے خطے میں سیاسی عمل اور قیامِ امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بانگسامورو کی پارلیمان نے جمعہ کے روز 69 سالہ عبدالرؤف ماکاکوا کو ارکان کی اکثریتی حمایت سے خطے کی حکومت کا سربراہ منتخب کیا۔ ماکاکوا نے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے رہنماؤں میں شامل اپنے حریف مراد ابراہیم کو شکست دی۔

الجزیرہ کے مطابق، یہ انتخاب بانگسامورو کی منتخب پارلیمان کے پہلے اجلاس میں فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس کی موجودگی میں ہوا۔ اس انتخاب کو خطے میں سیاسی عمل اور امن کے استحکام کی جانب ایک نئے مرحلے کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بانگسامورو پارلیمان کے 80 میں سے 51 ارکان نے ماکاکوا کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ان کے حریف مراد ابراہیم کو 27 ووٹ ملے۔ یہ انتخاب علاقائی انتخابات کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ہوا، جن میں ماکاکوا کی جماعت مطلوبہ 41 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی۔

مورو اسلامک لبریشن فرنٹ پہلے ہی اندرونی اختلافات کے باعث دو حریف سیاسی دھڑوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اس کے ہزاروں سابق جنگجو بعد ازاں ماکاکوا اور ان کی جماعت بانگسامورو فیڈرل میں شامل ہوگئے، جب فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس نے انہیں خطے کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

ماکاکوا کی بطور عبوری سربراہ تقرری کو مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے بعض سینئر رہنماؤں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے بعد ماکاکوا اور مراد ابراہیم کے درمیان سیاسی اختلافات میں اضافہ ہوا اور ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں دونوں کے درمیان براہِ راست مقابلہ سامنے آیا۔

بانگسامورو کی پارلیمان کے پہلے عام اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماکاکوا نے خطے کی حکومت کے لیے چھ باہم مربوط ترجیحات کا اعلان کیا اور حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں واضح سمت متعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری کو ذاتی کامیابی یا سیاسی قیادت کے لیے اعزاز نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایک مقدس امانت تصور کرتے ہیں جس کے ساتھ بانگسامورو کے عوام کی امیدیں، توقعات اور آرزوئیں وابستہ ہیں۔

ماکاکوا نے عزم ظاہر کیا کہ وہ عوام کی آواز سننے کے لیے عاجزی سے کام کریں گے، بصیرت اور دوراندیشی کے ساتھ فیصلے کریں گے، جرأت کے ساتھ اقدامات اٹھائیں گے اور دیانت داری و عزم کے ساتھ عوام کی خدمت کریں گے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بانگسامورو کے عوام کو جمہوری، جواب دہ اور مؤثر نمائندگی رکھنے والے اداروں کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس نے بھی پارلیمان کے افتتاحی اجلاس میں بطور خصوصی مہمان شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ خودمختاری کا حق حاصل کرنا بذاتِ خود ایک بڑی پیش رفت تھی، جبکہ بانگسامورو میں پہلے پارلیمانی انتخابات کا کامیابی سے انعقاد بھی ایک تاریخی کامیابی ہے۔ تاہم، ان کے بقول، اب سب سے مشکل مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔

مارکوس نے کہا کہ علاقائی حکومت کی ذمہ داری ایک مستحکم انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا اور ایسی حکومت قائم کرنا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ بانگسامورو کا ہر خاندان اپنی روزمرہ زندگی میں امن کے ثمرات محسوس کر سکے۔

بانگسامورو اب بھی فلپائن کا غریب ترین خطہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہاں شرحِ خواندگی بھی سب سے کم ہے۔

نئی حکومت کو سابق مسلح گروہوں کے جنگجوؤں کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام، غربت کے خاتمے، تعلیم و صحت کی صورتحال بہتر بنانے، قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں خطے کے حصے کے تعین اور مورو عوام کی شناخت کے تحفظ جیسے اہم مسائل کا سامنا ہوگا۔

حالیہ انتخابات اس امن عمل میں ایک اور اہم سنگِ میل ہیں جس کے نتیجے میں موجودہ شکل میں بانگسامورو خودمختار خطہ قائم ہوا۔ یہ خطہ 2019ء کے ریفرنڈم کے بعد وجود میں آیا تھا اور حالیہ انتخابات کئی برس کی عبوری حکمرانی کے بعد پارلیمان کے انتخاب اور مستقل حکومت کے قیام کا پہلا تجربہ ہیں۔

تاہم، بانگسامورو میں پیش رفت صرف وزیرِاعظم کے انتخاب تک محدود نہیں۔ نئی حکومت کو متعدد سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا مختلف سیاسی حریف ایک مستحکم اتحاد قائم کرکے خودمختاری کو محض سیاسی معاہدے سے آگے بڑھا سکتے ہیں اور اسے عوامی خدمات، معاشی مواقع اور خطے کے باشندوں کے لیے عملی حقوق میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha