29 اکتوبر 2026 - 16:10
یمن کی مسلح افواج کا عدن ایئرپورٹ پر دوبارہ میزائل حملہ، تعز میں جھڑپوں میں شدت

یمن کی مسلح افواج نے سعودی عرب سے وابستہ گروہوں کے لیے اسلحہ اور فوجی سازوسامان لانے والے طیارے کی آمد کے بعد عدن ایئرپورٹ پر متعدد میزائل داغے ہیں۔ دوسری جانب تعز کے مختلف محاذوں پر جھڑپیں تیز ہوگئی ہیں اور یمنی مسلح افواج نے صبر الموادم کے محاذ پر پیش قدمی اور متعدد اہم علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ روز عدن ایئرپورٹ کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اس ایئرپورٹ پر اسلحے کی بڑی کھیپ لے کر آنے والا ایک فوجی مال بردار طیارہ اترا۔

لبنانی اخبار الاخبار کے مطابق، یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے حملے سے قبل عدن ایئرپورٹ کو فوری طور پر خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے سعودی عرب کو اس ایئرپورٹ کو ریاض کے اتحادی گروہوں تک اسلحہ اور فوجی سازوسامان پہنچانے کے لیے فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔

اسی سلسلے میں صنعا کے ایک فوجی ذریعے نے اخبار الاخبار کو بتایا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے متعدد فوجی مال بردار طیاروں کی آمد دیکھی گئی ہے۔ اس ذریعے کے مطابق، ریاض ان تنصیبات کو مزید اسلحہ فضائی راستے سے منتقل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ جنوبی یمن کے صوبوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے اور آبنائے باب المندب کے جنوب میں فوجی جھڑپوں میں شدت لانے کی تیاری کی جا سکے۔

اس ذریعے نے دعویٰ کیا کہ یمن کے زیر قبضہ علاقوں میں واقع کسی بھی ایئرپورٹ پر اترنے والا فوجی مال بردار طیارہ جائز ہدف ہوگا۔

دوسری جانب سعودی عرب سے وابستہ عدن حکومت کی وزارتِ نقل و حمل نے تصدیق کی ہے کہ عدن ایئرپورٹ کو ایک سے زیادہ مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے باعث فضائی کمپنیوں کی پروازوں کا رخ موڑ کر جبوتی ایئرپورٹ کی جانب کر دیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب اپنے اتحادی گروہوں کو مزید رسد فراہم کرکے انہیں مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب جھڑپیں عدن کے مغرب میں واقع علاقے طور الباحہ تک پھیل گئی ہیں، جو شہر عدن سے متصل ہے۔

تعز کے محاذوں پر یمنی مسلح افواج کی پیش قدمی

تعز شہر کے محاذوں پر یمن کی مسلح افواج نے جنوب کی جانب سے نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ اسی دوران تعز شہر کے اطراف میں سعودی فضائیہ کے مسلسل حملے اس پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہے۔

میدانی ذرائع نے اخبار الاخبار کو بتایا کہ سعودی عرب سے وابستہ مسلح گروہوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد یمن کی مسلح افواج نے صبر الموادم کے محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ان ذرائع کے مطابق، یمنی مسلح افواج نے تعز شہر کے مرکز پر غالب صبر پہاڑ کے باقی ماندہ علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ بعض مقامات پر مسلح گروہوں کی پوزیشنیں کمزور پڑنے کے بعد یمنی افواج نے کحلان، الشقب، النجادة اور کئی دیگر اہم علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ صبر پہاڑ پر کنٹرول حاصل ہونے سے یمن کی مسلح افواج کو تعز میں ہونے والی کسی بھی نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کے لیے اہم فوجی برتری حاصل ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں وہاں تعینات مسلح گروہ دو اطراف سے محاصرے کی صورت حال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

تعز میں سیاسی رابطے، مسلح گروہوں کی تعیناتی برقرار

مقامی ذرائع کے مطابق، تعز شہر کے اندر موجود بعض رہنماؤں اور یمنی حکومت کے درمیان وسیع پیمانے پر رابطے ہوئے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ان رابطوں کے نتیجے میں مزید فوجی اور سکیورٹی کمانڈروں کو شہر سے محفوظ طور پر نکلنے کا موقع ملا ہے۔

تاہم، مسلح گروہ اب بھی تعز شہر کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں موجود ہیں۔ ان کی تعیناتی خاص طور پر التحریر، الروضہ، القاہرہ، الجمہوری، المظفر اور وادی غفینہ کے محلوں میں ہے۔

اخبار الاخبار کے مطابق، ان محلوں میں مسلح افراد کے مورچے قائم ہونے کے باعث یمن کی مسلح افواج وہاں فوجی طور پر داخل ہونے سے گریز کر رہی ہیں۔

تعز شہر کے شمالی محاذ پر بھی یمنی مسلح افواج نے عصیفرہ کے علاقے میں مزید محلوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ علاقہ تعز شہر کے مرکز سے پانچ کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔

الجوف پر فضائی حملوں میں 14 افراد شہید، 16 زخمی

ایک اور پیش رفت میں یمن کی وزارتِ صحت نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ سعودی عرب کے فضائی حملوں میں مشرقی صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں 14 افراد شہید اور 16 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق، زخمیوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

وزارتِ صحت نے بتایا کہ حملوں میں الحزم شہر کی مرکزی منڈی کو نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے وقت بڑی تعداد میں خریدار موجود تھے۔ اس کے علاوہ منڈی کے اطراف میں واقع متعدد مکانات بھی حملوں کی زد میں آئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha