25 اکتوبر 2026 - 17:07
ٹرمپ آبنائے ہرمز کی دلدل میں پھنس گیا ہے، اردنی جنرل + ویڈیو

اردن کے فوجی اور تزویراتی امور کے تجزیہ کار ریٹائرڈ میجر جنرل محمد الصمادی کہتے ہیں: امریکی صدر اس جنگ میں داخل ہؤا لیکن اپنے کسی بھی مقصد تک نہیں پہنچا، وہ گھٹن سے دوچار ہو چکا ہے، اسی لئے امریکہ کی موجودہ اور کھوکھلی دھمکیاں اسی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سبکدوش اردنی میجر جنرل نے کہا: ٹرمپ دھمکی کی سطح بڑھا رہا ہے، ایران کو ایک کچلنے والی اور تباہ کن طاقت سے نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، زمین کی گہرائیوں میں گھسنے والے 'Mother of bombs' اور جی بی یو 57 بنکر شکن بموں کے استعمال کی دھمکی دے رہا ہے، یعنی چونکہ وہ اپنے کسی بھی مقصد تک نہیں پہنچا، اس لئے واقعی گھٹن سے دوچار ہو چکا ہے، اسی لئے امریکہ کی موجودہ کھوکھلی دھمکیاں اسی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔"

سبکدوش اردنی میجر جنرل محمد الصمادی نے ذیل کی ویڈیو میں کہا:

میں بارہ روزہ جنگ، 39 روزہ جنگ اور پھر 13 راتوں کے دوران مسلسل حملوں کا یوں تجزیہ کرتا ہوں:

دھمکیوں کی سطح بڑھانا، ایران کو ایک کچلنے والی اور تباہ کن طاقت سے نیست و نابود کرنے کی دھمکی، زمین کی گہرائیوں میں گھسنے والے 'Mother of bombs' اور جی بی یو 57 بنکر شکن بموں کے استعمال کی دھمکی؛ یعنی ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں اترا، لیکن اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر سکا؛ اسی لئے کہ وہ گھٹن سے دوچار ہو چکا ہے، اور آبنائے ہرمز کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جا رہا ہے؛ چنانچہ امریکہ کی موجودہ کھوکھلی دھمکیاں اسی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔

ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ جو کچھ ہؤا ہے، جھڑپوں کا ایک سلسلہ اور فوجی آمد و رفت پر مشتمل تھا۔ ایران یہ بھی جانتا ہے کہ امریکی حکومت خلیج فارس اور خطے کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قابض ہونے کا پکا ارادہ رکھتا ہے۔

واشنگٹن کا اصل مقصد عرب اور مسلمانوں کی دولت لوٹنا ہے۔

چنانچہ میری رائے یہ ہے کہ امریکہ اپنی فوجی برتری کے سہارے اور اسرائیل خطے میں اپنی ہلڑبازیوں اور تسلط پسندیوں کے سہارے، دونوں ایک سکے کے دو رخ ہیں۔

وہ خطے کے تمام ممالک کو زیر تسلط لانا اور اطاعت گزار بنانا چاہتے ہیں۔

وہ یہ چاہتے ہیں کہ خطے کے ممالک واشنگٹن کے تسلط اور کنٹرول کے تحت، اور صہیونیوں کے توسیع پسندانہ پروجیکٹ کے فکری دائرے کے اندر امریکہ کے مدار میں گردش کریں۔

چنانچہ اس وقت ایک امریکی منصوبہ اور ایک صہیونی منصوبہ بیک وقت جاری ہیں۔

امریکی منصوبہ خطے کی پوری دولت اور وسائل پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کے عوام کا دین و مذہب بدلنا ہے اور انہیں ابراہیمی ادیان (عیسائیت اور یہودیت) میں دھکیلنا ہے۔

چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ عرب ممالک تفرقے، انتشار اور اندرونی جنگوں اور مختلف تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha