25 اکتوبر 2026 - 16:13
علامہ ساجد نقوی کا علاقائی کشیدگی کم کرنے پر زور، پاکستان سے مؤثر ثالثی کا مطالبہ

پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایران کی ثالثی کی تجاویز اور امام اعظم الازہر شیخ احمد الطیب کی فوری ثالثی و مفاہمتی کمیٹی بنانے کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالم اسلام کا اتحاد علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تصادم کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی تناؤ کم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فریقین کے درمیان ثالثی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ تیز کرے۔

علامہ نقوی نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اور امام اعظم الازہر شیخ احمد الطیب کے حالیہ بیانات کو امن، استحکام اور ترقی کی جانب مثبت رہنمائی قرار دیا۔

عالم اسلام کا اتحاد؛ کشیدگی پر قابو پانے کی ضرورت

پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے علاقائی صورت حال کے حوالے سے مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک اور معاشروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عالم اسلام میں اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم معاشروں کی خوشحالی اور ترقی باہمی احترام، بھائی چارے اور اسلامی مذاہب و مکاتب کے درمیان اتحاد سے وابستہ ہے۔ موجودہ کشیدگی کا خاتمہ اور اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

علامہ نقوی نے اشتعال انگیز بیانات اور ایسے مؤقف سے بھی خبردار کیا جو موجودہ بحرانوں کو مزید شدت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کشیدگی پر قابو پانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فریقین سے کہا کہ وہ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے بارے میں ہوشیار رہیں۔

ایران اور الازہر کی ثالثی کی تجاویز کا خیرمقدم

علامہ سید ساجد علی نقوی نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی رہنمائی کے تحت ایران کی جانب سے بار بار پیش کی جانے والی ثالثی کی تجاویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے شیخ احمد الطیب کی جانب سے ثالثی اور مفاہمت کے لیے فوری کمیٹی تشکیل دینے کی اپیل کو بھی مثبت اقدام قرار دیا۔

علامہ نقوی کے بیان میں امام اعظم الازہر کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کمیٹی میں ایسے دیانت دار افراد شامل ہونے چاہییں جو امن، استحکام، دانش مندی اور تعمیری مکالمے کے لیے پُرعزم ہوں، تاکہ وہ جاری اختلافات حل کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے ان اقدامات کو تعمیری اور امید افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام بحال کرنے کی مؤثر راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

پاکستان سے علاقائی سفارت کاری میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا مطالبہ

علامہ نقوی نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ اور ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کے ناطے فریقین کا اعتماد حاصل کرنے اور ان کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ اپنی سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرے۔

انہوں نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سابقہ کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے بھی اسی سنجیدگی اور عزم کے ساتھ اقدامات کیے جانے چاہییں۔

پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ مؤثر ثالثی کے نتیجے میں دیرپا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جن میں علاقائی استحکام میں اضافہ، معاشی حالات میں بہتری اور ترقی کے امکانات کو تقویت دینا شامل ہیں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے آخر میں کہا کہ اسلامی ممالک کے مفادات کے تحفظ اور خطے کے لیے زیادہ پُرامن اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے مذاکرات، مفاہمت اور مشترکہ ذمہ داری کا احساس ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha