اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت منگل کو ہونے والے انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ انتخابات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جہاں سیاسی تقسیم پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہے۔ مقبوضہ فلسطین کے اندر رہنے والے فلسطینیوں کی کوششیں کہ انتہا پسند دائیں بازو کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جائے، بیرونِ ملک مقیم صیہونیوں کی ان کوششوں سے جا ملیں ہیں جن کا مقصد بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ اسی دوران نیتن یاہو کے حریف گادی آیزنکوٹ جنگوں، سماجی تقسیم اور اندرونی بحرانوں کے خلاف عوامی غصے سے فائدہ اٹھا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے فلسطینی، جو صیہونی حکومت کی مجموعی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں، انتخابات کے نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ ان کی جماعتیں مجموعی طور پر کنیسٹ (صیہونی پارلیمنٹ) کی 12 سے 15 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ نشستیں مشترکہ فہرست اور متحدہ عرب فہرست، یعنی حزبِ رَعَم، کے درمیان تقسیم ہوں گی۔
گارڈین نے عرب تحریکِ تبدیلی تعال کے سربراہ اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کنیسٹ کے رکن احمد طیبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ فلسطینی ووٹر نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان کے مطابق، انتخابات میں فلسطینیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت اس مقصد کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو پارلیمانی اکثریت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، حکومت کے مخالف یہودی جماعتیں بھی حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں عرب جماعتوں کی نشستیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جائیں گی، اگرچہ حزبِ اختلاف کی بیشتر جماعتیں ان کے ساتھ تعاون کو مسترد کرتی ہیں۔
انتخابی مہم میں اشتعال انگیز نعروں نے بھی سیاسی کشیدگی بڑھا دی ہے۔ ’’یا دایاں بازو یا فلسطین‘‘ جیسے نعروں کے ذریعے عرب سیاست دانوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو صیہونی حکومت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود، انتہا پسند دائیں بازو کی واپسی کے خوف نے مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے بعض فلسطینیوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کیا ہے۔ گارڈین نے قومی جمہوری اجتماع، یعنی بلد، کے سربراہ سامی ابوشحادہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ لوگوں کو سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ انتہا پسند رہنما دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے فلسطینی اس خطرے کو سمجھتے ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم صیہونیوں کے ووٹ
امریکی جریدے نیوزویک نے ایک الگ رپورٹ میں لکھا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ہزاروں صیہونی منگل کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے مقبوضہ فلسطین واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ غیر معمولی اقدام نیتن یاہو حکومت کے برقرار رہنے اور اس کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
نیوزویک کے مطابق، امریکہ میں قائم ایک اتحاد کے اندازے کے مطابق تقریباً 53 ہزار صیہونی بیرونِ ملک سے ووٹ ڈالنے کے لیے مقبوضہ فلسطین واپس آ سکتے ہیں۔ یہ اندازہ تقریباً 17 ہزار 500 افراد کی شرکت سے ہونے والے ایک سروے پر مبنی ہے۔ سروے میں 72 فیصد افراد نے سفر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، جبکہ 58 فیصد نے بتایا کہ وہ اپنے ٹکٹ خرید چکے ہیں۔
صیہونی حکومت کے انتخابی قوانین کے تحت بیشتر صیہونیوں کو مقبوضہ فلسطین کے اندر رہ کر ووٹ ڈالنا ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں سفر کے اخراجات برداشت کرنے کے ساتھ اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ معاملات میں بھی تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔ ’’فلائی اینڈ ووٹ‘‘ نامی مہم ووٹروں کو سفر کا انتظام کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم مسافروں کو فراہم کی جانے والی امداد کے معاملے پر اس مہم اور لیکوڈ جماعت کے درمیان قانونی تنازع بھی پیدا ہوا ہے۔
نیوزویک نے بیرونِ ملک مقیم بعض صیہونیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ جمہوریت کے زوال اور سیاسی تقسیم میں اضافے کے خدشات کے باعث اپنا انتخابی حق استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نیتن یاہو حکومت کی تبدیلی ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ اور تنازع کے حل کے امکانات بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔
آیزنکوٹ؛ نیتن یاہو کے مقابلے میں متبادل قیادت
نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے میں صیہونی حکومت کی فوج کے سابق سربراہ اور یشار جماعت کے رہنما گادی آیزنکوٹ کو نیتن یاہو کا اہم حریف قرار دیا گیا ہے۔ آیزنکوٹ ایک منظم اور صاف گو فوجی کمانڈر کی حیثیت سے اپنی شناخت پیش کرتے ہیں۔ ان کا یہ تاثر نیتن یاہو کے اس طرزِ عمل کے برعکس ہے جسے ناقدین ذمہ داری سے بچنے اور مشکل سوالات سے پہلو تہی کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔
آیزنکوٹ نے نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے صیہونی حکومت کو نہ ختم ہونے والی جنگوں میں دھکیل دیا، اس کی عالمی حیثیت کمزور کی اور داخلی اختلافات کو مزید گہرا کیا۔ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے سکیورٹی کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول نہ کرنے پر بھی نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آیزنکوٹ کا کہنا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملے سے متعلق ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک سرکاری کمیشن قائم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ یہ کمیشن ان کی اپنی فوجی کارکردگی کا بھی جائزہ لے گا۔
آیزنکوٹ کے وعدے اور ان کی انتخابی مہم کی مشکلات
آیزنکوٹ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں صیہونی آبادکاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی کریں گے، غیر قانونی بستیوں کو ختم کریں گے، مغربی کنارے کو ضم کرنے کے اقدامات روکیں گے اور ہزاروں فلسطینیوں کے ورک پرمٹ بحال کریں گے۔
وہ صیہونی حکومت میں وزارتِ عظمیٰ کی مدت محدود کرنے اور مذہبی مدارس میں سائنس، انگریزی اور ریاضی کی تعلیم لازمی قرار دینے کے بھی حامی ہیں۔
تاہم، نیویارک ٹائمز کے مطابق، آیزنکوٹ کی نسبتاً پُرسکون انتخابی مہم ان کی کمزوری بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب انتخابی جائزوں میں نیتن یاہو کے مقابلے میں ان کا فاصلہ کم ہو رہا ہے۔
آیزنکوٹ کے بعض حامی چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ سخت لہجہ اختیار کریں اور عوام کو متحرک کرنے کی بہتر صلاحیت دکھائیں۔ اس کے برعکس، دوسرے حامیوں کا خیال ہے کہ سیاسی دکھاوے کے مقابلے میں دیانت داری، سنجیدگی اور جرات زیادہ اہم ہیں۔
نیتن یاہو کو ہٹانے کی کوشش اور اکثریت بنانے کا مسئلہ
یوں انتخابات کا نتیجہ ایک طرف نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی خواہش اور دوسری طرف ان کی جگہ نئی حکومت کے لیے پارلیمانی اکثریت قائم کرنے کی مشکل کے درمیان طے ہوگا۔
مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے فلسطینیوں کے ووٹ اور بیرونِ ملک سے صیہونی ووٹروں کی واپسی، نیتن یاہو کے مخالفین کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم، حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ نشستیں کس طرح تقسیم ہوتی ہیں، جماعتیں اپنے اختلافات اور سرخ لکیروں سے آگے بڑھ کر کس حد تک تعاون کرتی ہیں اور آیا وہ صیہونی حکومت چلانے کے قابل کوئی نیا اتحاد بنا پاتی ہیں یا نہیں۔
آپ کا تبصرہ