22 اکتوبر 2026 - 17:04
دشمن طاقت کے سوا کوئی زبان نہیں سمجھتا، ہر دھمکی کو سو فیصد خطرہ سمجھ کر تیاری کرتے ہیں: ایرانی آرمی چیف

ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ دو جنگوں سے اہم تجربات حاصل کیے ہیں، جن سے ثابت ہوا کہ دشمن پر ذرا برابر بھی بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی خطرے کو معمولی نہیں سمجھتا بلکہ ایک فیصد خطرے کو بھی سو فیصد تصور کرکے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے فوج کے ایک ایسے مرکز کا دورہ کیا جہاں جنگی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون تیار کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی موجودہ تیاریوں اور اس کے اہلکاروں کی تیز رفتار کارروائی کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں سے ہمیں اہم تجربات حاصل ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس دشمن پر ذرا برابر بھی بھروسا نہیں کرنا چاہیے اور اپنی دفاعی تیاریوں کو مسلسل بہتر بناتے رہنا چاہیے۔

جدید جنگوں میں بغیر پائلٹ ہتھیاروں کی اہمیت

ایرانی فوج کے سربراہ نے آج کی جنگوں میں بغیر پائلٹ ہتھیاروں کے کردار کے بارے میں کہا کہ ڈرون، بغیر پائلٹ چلنے والی بحری کشتیاں اور چھوٹے پرواز کرنے والے آلات مختلف ذمہ داریوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ استعمال ہو رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں کو ایران کی دفاعی حکمت عملی میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

امیر حاتمی نے فوج میں استعمال ہونے والے ڈرون، بالخصوص آرش ڈرونز کی تیاری سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں بتایا کہ اس منصوبے کا آغاز وزارت دفاع کے تعاون سے ہوا تھا، جو بعد میں دونوں اداروں کے درمیان ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر گیا۔ آج مضبوط بنیادی ڈھانچے اور ماہرین، جامعات اور جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنیوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کام صنعتی پیمانے پر جاری ہے۔ فوج کے اہم سازوسامان کا ایک بڑا حصہ غیر متناسب جنگ میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے انہی ڈرونز پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج ان ہتھیاروں کی تیاری، تقسیم اور دیکھ بھال کے شعبوں میں خصوصی طور پر سرگرم ہے۔ ان کے استعمال کے لیے فوجی اہلکاروں کو ضروری تربیت بھی دی گئی ہے اور وہ اچھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، ایران ڈرونز اور مجموعی طور پر بغیر پائلٹ نظاموں کے شعبے میں اچھی سطح کی پیش رفت حاصل کر چکا ہے۔

غیر متناسب جنگ کے لیے فوج کی تیاریاں

ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ حالیہ جنگوں میں ایران کے بعض سازوسامان اور مقامات کو نقصان پہنچا، لیکن دشمن کا خیال تھا کہ ایران روایتی اور غیر متناسب جنگ کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ایرانی فوج کے بعض ہتھیار روایتی جنگ کے لیے تیار کیے گئے تھے اور ہیں، لیکن اس کے سازوسامان اور وسائل کا ایک بڑا حصہ غیر متناسب جنگ کے لیے مخصوص ہے۔ اس نوعیت کی جنگ کے لیے خصوصی تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ایران نے اس مقصد کے حصول کے لیے کوششیں کی ہیں اور خود کو تیار کیا ہے۔

امیر حاتمی نے ایرانی فوج کے چاروں شعبوں کی مکمل تیاریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ غیر متناسب جنگ میں ایران نے ایسے ہتھیاروں سے دشمن کا مقابلہ کیا کہ وہ حیران رہ گیا اور اسے سخت ضربیں برداشت کرنا پڑیں۔ ہم نے دشمن کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے اور جانتے ہیں کہ وہ قابلِ ذکر طاقت رکھتا ہے، لیکن ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے غیر متناسب جنگ اور اس کے لیے درکار ہتھیاروں کے حوالے سے خود کو تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج غیر متناسب جنگ کے لیے درکار سازوسامان کے معاملے میں ایران مقداری اور معیاری، دونوں لحاظ سے بہتر صورت حال میں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ دشمن کس انداز میں کارروائی کرے گا اور ہم نے ان ہی محاذوں سے جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے جہاں سے وہ حملہ کرے گا۔

انہوں نے ایرانی عوام کو یقین دلایا کہ ملک اچھی صورت حال میں ہے، فوجی اہلکاروں کا حوصلہ بلند ہے اور وہ ضروری سازوسامان کی تیاری میں مصروف ہیں۔

دشمن صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے

ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے مستقبل اور ممکنہ واقعات کے بارے میں کہا کہ مسلح افواج، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج، کی بنیادی ذمہ داری ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا اور خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ شہید رہبرِ انقلاب نے ہدایت کی تھی، ہم ایک فیصد خطرے کو بھی سو فیصد سمجھ کر اس کے لیے تیاری کرتے ہیں۔ آج کا دشمن بھی سو فیصد ناقابلِ اعتماد ہے اور طاقت کے سوا کوئی زبان نہیں سمجھتا۔ وہ کسی بھی نرمی کو پسپائی سمجھتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایرانی بحریہ کی موجودگی

امیر حاتمی نے آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایرانی فوج کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحریہ اپنے دائرۂ کار میں سمندر اور ساحلی علاقوں میں بھرپور موجودگی رکھتی ہے۔ یہ موجودگی مؤثر ہے اور ہم مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ دشمن کو بحیرۂ عمان میں داخل ہونے کی جرأت نہیں ہوئی، کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ اس علاقے میں ایک طاقتور قوت حالات پر قابو رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر دشمن کا کوئی بحری جہاز اس علاقے میں داخل ہوا تو اسے یقیناً نشانہ بنایا جائے گا۔ ہم بحری ناکہ بندی کو جنگ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور ناکہ بندی کرنے والے کو دشمن تصور کرتے ہیں۔

آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں آمدورفت کے ضوابط

ایرانی فوج کے سربراہ نے آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں آمدورفت کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اعلان کردہ قوانین اور ضوابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر عمل درآمد کے لیے مختلف وسائل استعمال کیے گئے ہیں، جن میں سمندری بارودی سرنگیں اور خودکار نگرانی و کنٹرول کے بعض نظام شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ مختلف ممالک امریکی حکام کی جانب سے عائد کردہ حالات کو سمجھیں اور خود کو نقصان سے بچانے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha