22 اکتوبر 2026 - 16:57
بل کلنٹن: اسلام سے نفرت پھیلاتے پھیلاتے تھک گیا ہوں، بیٹی نے قرآن پڑھنے کا مشورہ دیا تھا

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے مسلمانوں کی توہین اور مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوموں اور ثقافتوں کے درمیان اختلافات ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ بننے چاہئیں، نہ کہ نفرت اور تحقیر کا سبب۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کی بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن کریم پڑھا تو اس نے انہیں بھی اس مقدس کتاب کے مطالعے کا مشورہ دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے مسلمانوں کی توہین اور مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے قرآن کریم کی ایک آیت کا حوالہ دیا اور قوموں کے درمیان باہمی شناخت، ثقافتی و مذہبی اختلافات کے احترام اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بل کلنٹن نے امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ہالی ووڈ میں واقع کوئینونیا عبادت گاہ میں منعقدہ بین المذاہب اجتماع ’’متعدد مذاہب، ایک فلوریڈا‘‘ سے خطاب کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے عقائد کی بنیاد پر ان کی توہین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد کے غلط رویوں کو کسی مخصوص مذہب یا ثقافت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ کے سابق صدر نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب ان کی بیٹی نے 15 سال کی عمر میں قرآن کریم پڑھا تو اس نے انہیں بھی مسلمانوں کی اس مقدس کتاب کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا۔

کلنٹن کے مطابق، قرآن کریم سے واقفیت نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ قوموں اور مختلف نسلوں کے درمیان فرق ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ اجنبیت اور تحقیر کی وجہ۔

انہوں نے اس مؤقف کی وضاحت کے لیے سورۂ حجرات کی آیت نمبر 13 کا حوالہ دیا، جس کا مفہوم ہے: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔‘‘

بل کلنٹن نے مذہبی جنگوں اور ثقافتی تنازعات کے جاری رہنے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں غلط رویے پائے جا سکتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر کسی پورے مذہبی مکتب یا روایت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔

عالمی اتحاد برائے مسلم علما کے سربراہ شیخ علی قرہ داغی نے بھی ان بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے باہمی مفاہمت اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بعض اوقات مخصوص حکومتوں یا گروہوں کے ساتھ سیاسی اختلافات کو مذہب تک پھیلا دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اسلام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کی توہین کی جاتی ہے۔

تاہم، بعض تجزیہ کاروں نے بل کلنٹن کے ان بیانات کو سیاسی پہلوؤں اور امریکہ میں جماعتی مسابقت سے بھی متعلق قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha