21 اکتوبر 2026 - 16:29
یمن نے میزائل 358 کے شکاروں میں سعودی ہیلی کاپٹر AH-6i کا اضافہ کر دیا

یمن کے اندر اور سعودی عرب کی سرحد کے قریب جھڑپوں کے دوران سعودی نیشنل گارڈ کا ایک جنگی و جاسوس ہیلی کاپٹر AH-6i سعودی سرزمین پر مار گرائے جانے کی اطلاع ہے، جس کے نتیجے میں اس کے دونوں پائلٹ ہلاک ہو گئے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کی دفاعی رپورٹ کے مطابق، یمنی فضائی دفاع نے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا، جبکہ سعودی فریق اس کے گرنے کی وجہ فنی خرابی قرار دے رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ان دنوں یمن کے اندر، خصوصاً اہم شہر تعز کے اطراف، اور سعودی عرب و یمن کی سرحد پر شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملوں، میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دور تک حملے کرنے کے ساتھ ساتھ زمینی اور جنگی محاذوں پر بھی بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔

حالیہ جھڑپوں کے دوران سعودی نیشنل گارڈ کا جاسوسی اور جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا ایک ہیلی کاپٹر AH-6i سعودی عرب کی سرزمین پر یمنی فضائی دفاع کا نشانہ بنا۔ اس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار دونوں افراد ہلاک ہو گئے۔

انصاراللہ کا نیا شکار

انصاراللہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والا ہیلی کاپٹر، جو رواں ہفتے ہفتے کے روز گرایا گیا، AH-6i قسم کا تھا۔ سعودی عرب کے لیے اس کے برآمدی نمونے کو AH-6SA کہا جاتا ہے۔ یہ امریکی کمپنی بوئنگ کا تیار کردہ ہلکا جنگی اور جاسوس ہیلی کاپٹر ہے، جسے معروف ’’لٹل برڈ‘‘ خاندان کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے اس نمونے کے مجموعی طور پر 24 ہیلی کاپٹر خریدنے کا آرڈر دیا تھا اور انہیں حاصل بھی کر لیا تھا۔ یہ ہیلی کاپٹر سعودی نیشنل گارڈ کے زیرِ استعمال ہیں۔

ہلکا جاسوس اور جنگی ہیلی کاپٹر AH-6i

تحصل السعودية على صفقة مكونه من  24 little bird -AH6i | Arab Defense المنتدى العربي للدفاع والتسليح

یہ ہیلی کاپٹر مسلح جاسوسی، زمینی دستوں کو قریب سے فضائی مدد فراہم کرنے اور فوجیوں کی حفاظت جیسے کاموں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیات میں چھوٹا حجم، تیز نقل و حرکت اور مناسب اسلحہ لے جانے کی صلاحیت شامل ہیں۔

اس ہیلی کاپٹر میں عام طور پر دو افراد سوار ہوتے ہیں۔ زیرِ بحث واقعے میں دونوں افراد ہلاک ہو گئے۔

اس میں برطانوی کمپنی رولز رائس کا تیار کردہ ایلیسن 250-C30 ٹربو شافٹ انجن نصب ہے، جو 425 ہارس پاور پیدا کرتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 282 کلومیٹر فی گھنٹہ، پرواز کی بلندی 5,700 میٹر اور عملیاتی حدِ پرواز 430 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔

اس کا خالی وزن تقریباً 722 کلوگرام ہے، جبکہ پرواز شروع کرتے وقت اس کا مجموعی وزن تقریباً 1,610 کلوگرام ہوتا ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر مختلف ہلکے اور بھاری ہتھیار لے جا سکتا ہے، جن میں 7.62 اور 12.7 ملی میٹر کی گنیں، 70 ملی میٹر کے راکٹ، بکتر بند اہداف کو نشانہ بنانے والے AGM-114 ہیل فائر میزائل اور فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے فضا سے فضا میں مار کرنے والے اسٹنگر میزائل شامل ہیں۔

سعودی نیشنل گارڈ کے زیرِ استعمال AH-6SA

Boeing Wins FMS Contract To Supply AH-6is To Saudi Arabia  | Aviation International News

رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے علاوہ یہ ہیلی کاپٹر اردن اور تھائی لینڈ کو بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

ان ہیلی کاپٹروں کے اگلے حصے میں MX-15Di برقی و بصری اور حرارتی سراغ رسانی کا نظام (EO/IR) بھی نصب ہے، جو دن اور رات دونوں اوقات میں اہداف کی شناخت اور انہیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سعودی عرب کی سرزمین پر فضائی دفاعی کارروائیاں

جب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن پر حملے شروع کیے تھے تو اس وقت شاید بہت کم لوگوں نے تصور کیا ہو گا کہ ایک دن یمنی فورسز نہ صرف زمینی لڑائی بلکہ سعودی سرزمین کے اندر بھی فضائی دفاعی کارروائیاں کریں گی۔

رپورٹ کے مطابق، آج صورت حال یہ ہے کہ یمنی فورسز کے میزائل اور ڈرون حملے سعودی سرزمین کی گہرائی تک پہنچنے کے علاوہ زمینی محاذوں پر بھی مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی نیشنل گارڈ کے ہیلی کاپٹروں کو کارروائیوں میں حصہ لینا پڑ رہا ہے، لیکن اسی دوران انہیں سعودی سرزمین پر ہی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

التحالف العربي يعلن اعتراض طائرات مسيرة أطلقها الحوثيون باتجاه عسير - يمن شباب نت

yemen-shabab.com

دوسری جانب، ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے اور اس پر میزائل لگنے کی مختلف تصاویر سامنے آنے کے باوجود سعودی فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گرا۔

 مغربی ایشیا میں حملہ آور قوتوں کو گزشتہ برسوں کے دوران جس ’’فنی خرابی‘‘ کا سامنا رہا ہے، اس کے پیچھے درحقیقت میزائل یا گولہ بارود کی قسم 358 کا کردار ہو سکتا ہے۔ رپورٹ اسے حالیہ برسوں میں مزاحمتی محاذ کے مؤثر فضائی دفاعی ہتھیاروں میں سے ایک قرار دیتی ہے۔

میزائل 358 کے شکاروں میں ایک اور اضافہ

Bizarre Iranian 'Loitering SAM' Shown To Russian Defense Minister

رپورٹ کے مطابق، 358 سلسلے کا یہ ہتھیار فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والا ایک میزائل یا گشت کرنے والا بارود ہے، جسے مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ، کے دعووں کے مطابق ایران نے تیار کیا ہے۔

روایتی میزائلوں کے برعکس، اس میں راکٹ انجن کے بجائے ایک چھوٹا ٹربو جیٹ انجن استعمال ہوتا ہے۔ اس خصوصیت کی بدولت یہ طویل وقت تک فضا میں گشت کر سکتا ہے اور کسی ایک مقام سے داغے جانے کے بعد سیدھا ہدف کی طرف بڑھنے کے بجائے فضا میں گردش کرتے ہوئے شکار تلاش کرنے والے ہتھیار کے طور پر کام کرتا ہے۔

اس ہتھیار کے اگلے حصے میں حرارتی تصاویر کے ذریعے ہدف کی شناخت کرنے والا نظام نصب ہے، جو اسے اپنے اہداف کی خودکار شناخت اور ان پر نشانہ باندھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کے جنگی حصے میں تقریباً 10 کلوگرام دھماکا خیز مواد اور چھروں پر مشتمل بارود ہوتا ہے، جو 360 درجے کے لیزر قربت پیما فیوز کے ذریعے فعال ہوتا ہے۔

یمنی فورسز کی جاری کردہ ویڈیو اور میزائل 358 کی نشاندہی

 انصاراللہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ویڈیو میں اس ہتھیار کو سعودی ہیلی کاپٹر کی جانب نسبتاً آہستہ حرکت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روایتی فضائی دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں اس کی یہ سست رفتار حرکت میزائل 358 کی نمایاں شناخت ہے۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برسوں کے دوران یمن کی فضائی حدود میں اس ہتھیار نے متعدد بغیر پائلٹ طیاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ حالیہ واقعے میں پائلٹوں والے ہیلی کاپٹر کو بھی اس کا شکار قرار دیا گیا ہے۔

AH-6i ہیلی کاپٹروں کے لیے ممکنہ پہلا واقعہ

 ممکنہ طور پر یہ دنیا بھر میں AH-6i سلسلے کے کسی ہیلی کاپٹر کو مخالف فریق کی فائرنگ سے مار گرائے جانے کا پہلا واقعہ ہے، اور سعودی عرب کے زیرِ استعمال ان ہیلی کاپٹروں کے لیے بھی یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے متعدد پائلٹوں والے اور بغیر پائلٹ کے جنگی طیارے انصاراللہ کے بڑھتے ہوئے فضائی دفاعی نظام کی زد میں آ چکے ہیں، اور اب میزائل 358 کے مبینہ شکاروں کی فہرست میں سعودی AH-6i ہیلی کاپٹر کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha