20 اکتوبر 2026 - 17:03
لبنان کے لیے ٹمپا مذاکرات بے ضمانت، اسرائیل کی شرائط تسلیم کرنے کے مترادف

لبنانی مصنف منیر شحاده نے فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اپنے مطالبات اور تجاویز کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، امریکہ ثالث کا کردار ادا کرنے کے بجائے اسرائیل کی سلامتی کا ضامن بن چکا ہے، جبکہ اسرائیلی حملے جاری ہیں اور لبنان کو کسی ٹھوس ضمانت کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی مصنف، یونیفل کے ساتھ رابطہ کاری کے لیے لبنان کی سابقہ سرکاری ذمہ داری انجام دینے والے اور ملک کی سابق فوجی عدالت کے سربراہ منیر شحاده نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں لبنان اپنے مطالبات اور منصوبوں کے ساتھ شریک ہو رہا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی شرائط منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، واشنگٹن ثالث کے بجائے اسرائیل کی سلامتی کا ضامن بن گیا ہے۔

منیر شحاده نے لکھا کہ منگل، 20 اکتوبر 2026 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں ایک سہ فریقی فوجی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں لبنان اور اسرائیل کے فوجی وفود شرکت کر رہے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔

لبنانی ایوانِ صدر نے اعلان کیا ہے کہ اجلاس میں لبنانی وفد اسرائیلی کشیدگی روکنے کے لیے اپنے مطالبات پیش کرے گا۔ امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس اجلاس سے طے شدہ بنیادی معاہدے کی شرائط کے مطابق نتائج حاصل ہوں گے۔ تاہم، شحاده نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی ایسا کوئی بنیادی معاہدہ موجود ہے جس کی پابندی اسرائیل کرنے کے لیے تیار ہے؟

اجلاس کے وقت کا تعین ہونے سے چند گھنٹے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح طور پر کہا: ’’مجھے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی لبنانی حکومت کی صلاحیت پر اعتماد نہیں ہے اور جب تک اسے غیر مسلح نہیں کیا جاتا، ہم حفاظتی علاقے میں موجود رہیں گے۔ ہمارا حتمی مقصد حزب اللہ کو تباہ کرنا ہے۔‘‘

شحاده کے مطابق، نیتن یاہو جس حفاظتی علاقے کی بات کر رہے ہیں، وہ اب صرف پانچ مقامات تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع مقبوضہ پٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو اللبونہ سے جبل الباط، قلعہ شقیف کے اطراف اور علی الطاہر کی پہاڑیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وہ علاقے ہیں جنہیں لبنانی فوج آزمائشی علاقے میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ایسے فریق کے ساتھ مذاکرات کیسے کیے جا سکتے ہیں جو کھلے عام کہہ رہا ہو کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا اور دشمنانہ کارروائیاں روکنے کا پابند نہیں ہوگا؟ ان کے مطابق، اسرائیل کے لیے بنیادی معاہدہ قبضے کے خاتمے کے بجائے اس کا انتظام چلانے کا ایک طریقہ بن چکا ہے۔

اجلاس ملتوی کرنے کی تجویز کیوں مسترد ہوئی؟

شحاده نے لکھا کہ اطلاعات کے مطابق، لبنان کے ایک سرکاری عہدیدار کو امریکہ کے سفیر میشل عیسیٰ کی جانب سے اہم تنبیہ موصول ہوئی تھی۔ انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ ٹمپا اجلاس اسرائیل کے انتخابات اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد منعقد کیا جائے، کیونکہ موجودہ حالات میں اجلاس محض رسمی کارروائی ثابت ہوگا اور لبنان کو کوئی ٹھوس ضمانت نہیں ملے گی۔

اس کے باوجود واشنگٹن نے اجلاس کے انعقاد پر اصرار کیا۔ شحاده نے سوال اٹھایا کہ امریکہ اس اجلاس کو موجودہ حالات میں منعقد کرنے پر اتنا زور کیوں دے رہا ہے؟

ان کے مطابق، سفارتی ذرائع سے سامنے آنے والی صورت حال یہ ہے کہ لبنان کو امید ہے کہ روبیو کے دباؤ کے نتیجے میں بنیادی معاہدے کو دوبارہ فعال کیا جا سکے گا اور اس پر مرحلہ وار عمل درآمد ممکن ہوگا۔

اس کے برعکس، واشنگٹن لبنان سے صرف دو مطالبات کر رہا ہے: لبنانی اور اسرائیلی افواج کے درمیان سلامتی اور فوجی تعاون میں اضافہ، اور جنوبی لبنان میں غیر مسلح کرنے کے عمل میں پیش رفت۔ تاہم، اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے وعدے تل ابیب کے مفادات اور حساب کتاب سے مشروط ہیں اور ان پر عمل درآمد کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔

شحاده نے واضح کیا کہ ابتدا ہی سے تمام اشارے یہی بتا رہے تھے کہ واشنگٹن ثالث کے بجائے اسرائیل کی سلامتی کا ضامن بننے کی پوزیشن اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق، طاقت کا یہ عدم توازن مذاکرات کو زمینی صورت حال ختم کرنے کے بجائے اسے سنبھالنے کا ایک طریقہ بنا دیتا ہے۔

لبنان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سلامتی اور سیاست کے میدان میں ٹھوس اقدامات کرے، جبکہ اسرائیلی انخلا کو نیتن یاہو کے انتخابی مفادات سے جوڑ دیا گیا ہے۔ مذاکرات کا یہ دور اسرائیلی پارلیمان کے انتخابات سے صرف ایک ہفتہ پہلے منعقد ہو رہا ہے۔

مذاکرات کے دوران جنوبی لبنان میں کیا ہو رہا ہے؟

شحاده نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف ٹمپا اجلاس کے بارے میں بات چیت جاری ہے، تو دوسری طرف جنوبی لبنان میں کیا صورت حال ہے؟

ان کے مطابق، جنوبی لبنان میں توپ خانے سے گولہ باری، مقبوضہ شہروں میں بڑے دھماکے، جنوبی دیہات کی تباہی، ڈرون حملوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ، ڈرون طیاروں کی مسلسل پروازیں اور لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی میں رکاوٹ جیسے واقعات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی دیہات کی تباہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

شحاده کے مطابق، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا وہ جواز بھی اخلاقی اعتبار سے کمزور پڑ چکا ہے جسے واشنگٹن اور تل ابیب پیش کرتے ہیں۔ لبنانی فوج نے ضہر البیدر کی چوکی پر حزب اللہ سے متعلق دھماکا خیز مواد سے بھرے ایک ٹرک کو تحویل میں لیا، جس کے بعد تیزی سے ضاحیہ میں تعیناتی بھی کی گئی۔

ان کے مطابق، ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنانی فوج اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ اس کے بدلے اسرائیل کیا پیش کر رہا ہے؟ ان کے بقول، اسرائیل کی جانب سے کچھ بھی نہیں دیا جا رہا۔

ٹمپا مذاکرات میں جلد بازی کے تین نقصانات

شحاده نے لکھا کہ لبنان کی جانب سے ٹمپا مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کے لیے جلد بازی تین بڑے نقصانات کا باعث بن سکتی ہے۔

1۔ اسرائیل کو بلا معاوضہ جواز فراہم کرنا: حقیقی جنگ بندی کے بغیر لبنان کی شرکت اسرائیل کو اپنے حملے اور ٹارگٹ کلنگ جاری رکھنے کے لیے ایک پردہ فراہم کرے گی۔

2۔ بنیادی معاہدے کو بے معنی بنا دینا: اس معاہدے میں دشمنانہ کارروائیاں روکنے، نگرانی اور تصدیق کے طریقۂ کار، آزمائشی علاقے کے قیام اور اس کے بعد اسرائیلی انخلا کی شقیں شامل ہونا تھیں۔ لیکن اب صورت حال یہ بن گئی ہے کہ لبنان عمل درآمد کرے گا، جبکہ اسرائیل اپنی ذمہ داریوں سے بچ نکلے گا۔

3۔ اندرونی سطح پر نقصان پہنچانا: لبنانی عوام، بالخصوص جنوبی علاقوں کے شہریوں کو یہ پیغام ملے گا کہ سفارت کاری کا راستہ ایک ڈرون کی پرواز بھی نہیں روک سکتا۔

شحاده کے مطابق، لبنان کو مزید مذاکرات سے زیادہ ٹھوس ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ جب تک واشنگٹن جانبدار ثالث کے بجائے حقیقی ضامن کا کردار ادا نہیں کرتا، ٹمپا اجلاس بھی ماضی کے اجلاسوں جیسا ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کو ایسی ضمانت درکار ہے جس میں اسرائیلی انخلا کے لیے پابند وقت کا تعین، بمباری روکنے اور بین الاقوامی نگرانی و تصدیق کے طریقۂ کار کو یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر، نتیجہ صرف فلوریڈا میں ایک یادگاری تصویر اور یارون میں ایک میزائل کی صورت میں نکلے گا۔

آخر میں شحاده نے لکھا کہ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کے ذریعے وہ چیز نہیں دیتا جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، جب تک اسے ایسا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کا اگلا دور کب ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ لبنان کب اپنی طاقت اور دباؤ کے ذرائع اپنے ہاتھ میں لے کر یہ کہنے کے قابل ہوگا: ’’ہم آگ کے درمیان مذاکرات نہیں کریں گے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha